بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن ذکوان سے مروی ہے۔ انہوں نے اَعرج سے، اَعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قنوت میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو (کافروں کے پنجہ سے) رہائی دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو رہائی دے۔ اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو رہائی دے۔ اے اللہ! مومنوں میں سے جو کمزور ہیں انہیں رہائی دے۔ اے اللہ! مضر کو سختی سے لتاڑ۔ اے اللہ! یوسف کے زمانہ کی قحط سالیوں جیسی قحط سالیوں سے ان کو واسطہ ڈال۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپؐ سے کہا گیا کہ وہ خط نہیں پڑھتے مگر وہی جس پر مہر لگی ہو۔ اس لئے آپؐ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ گویا اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی کو آپؐ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں اور آپؐ نے اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کندہ کرایا تھا۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا۔ جعفر بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحق سے، ابواسحق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک دفعہ کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل اور قریش میں سے کچھ لوگوں نے مشورہ کیا اور مکہ کی کسی جہت میں ایک اونٹنی ذبح کی گئی تھی۔ انہوں نے اس کی اوجھڑی منگوا بھیجی اور وہ آپؐ پرڈال دی۔ حضرت فاطمہؓ آئیں تو انہوں نے وہ آپؐ سے اُتاری۔ آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ! قریش کو تو ہی سمجھ۔ اے اللہ! قریش کو تو ہی سمجھ۔ اے اللہ! قریش کو تو ہی سمجھ۔ ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور اُبیّ بن خلف اور عقبہ بن ابی مُعَیط کو۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: میں نے ان کو خود بدر کے کنوئیں میں دیکھا وہ قتل کئے گئے تھے۔ ابو اسحاق نے کہا: میں ساتویں شخص کا نام بھول گیا۔ یوسف بن ابی اسحاق نے ابو اسحاق سے (کبھی اُبیّ بن خلف کی بجائے) امیہ بن خلف نقل کیا۔ اور شعبہ نے کہا: اُمیہ ہے یا اُبی۔ اور صحیح اُمیہ ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابن ابی مُلَیکہ سے، ابن ابی مُلَیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ تو میں نے ان پر لعنت کی۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں٭ نے کہا: آپؐ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے وہ الفاظ نہیں سنے جو میں نے کہے۔ یعنی وَعَلَیْکُمْ کہ تم پر ہلاکت ہو۔
(تشریح)اسحق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبردی۔ ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا (ابن شہاب) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودنے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا اور اس میں آپؐ نے یہ کہا کہ اگر تم نے روگردانی کی تو یاد رکھو کہ تمہارے ذمہ رعایا کا بھی گناہ ہوگا۔ طرفہُ: ۲۹۴۰۔ مشرکوں کے لئے ہدایت کی دعا کرنا تا ان کو (ہدایت کی باتوں سے) الفت پیدا ہو
ابوالیمان (حکم بن نافع) نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ ابوزناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: طُفَیل بن عمرو دَوسی اور ان کے ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یارسول اللہ! دَوس نافرمان ہوگئے ہیں اور ماننے سے انکار کردیا ہے۔ اس لئے آپؐ اللہ سے ان کے لیے بددُعا کریں۔ لوگوں نے کہا: دَوس اب تباہ ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! دَوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عُقَیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبردی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط کسریٰ کی طرف بھجوایا اور ایلچی سے فرمایا کہ یہ بحرین کے حاکم کو دے دو۔ بحرین کا حاکم اسے کسریٰ کو پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے وہ پڑھا تو اسے پھاڑ ڈالا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سعید بن مسیب نے اس روایت میں یوں کہا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بددعا کی کہ وہ ہر طرح سے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا جس میں آپؐ نے اس کو اِسلام کی دعوت دی اور دحیہ کلبی کے ہاتھ اپنا خط اسے بھجوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی سے فرمایا کہ وہ بصریٰ کے سردار کے سپرد کر دے تا وہ قیصر کو پہنچا دے اور جب اللہ نے فارس کے لشکروں کو شکست دے کر اس سے ہٹا دیا تو قیصر حمص سے ایلیا آیا تا جو اللہ نے اس پر احسان کیا تھا، اس کا شکریہ ادا کرے۔ جب قیصر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا تو وہ اس نے پڑھا اور کہا: اس کی قوم میں سے کسی کو یہاں تلاش کرکے میرے پاس لے آئو تا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان سے دریافت کروں۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: ابوسفیان بن حرب نے مجھے بتایا کہ وہ قریش کے کچھ آدمیوں کے ساتھ شام میں تھے اس میعادی صلح کے زمانے میں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان ہوئی تھی۔ وہاں تجارت کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ ابوسفیان نے کہا: ہمیں شام کے کسی مقام میں قیصر کے ایلچی نے پایا۔ وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو لے چلا یہاں تک کہ ہم ایلیاء پہنچے اور اس کے پاس ہم لے جائے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے دربار میں بیٹھا ہے اور اس کے سر پر تاج ہے اور اس کے اِرد گرد رومی سردار ہیں۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ان سے پوچھو کہ ان لوگوں میں سے رشتہ میں کون زیادہ قریبی ہے اس شخص کا جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان کہتے تھے: میں نے کہا: ان لوگوں میں سے رشتے میں زیادہ قریبی مَیں ہوں۔ قیصر نے پوچھا: تمہارے اور اس کے درمیان کیا رشتہ ہے؟ میں نے کہا: وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔ اور اس وقت اس قافلہ میں میرے سوا عبدمناف کی اولاد میں سے کوئی بھی نہ تھا۔ قیصر نے کہا: اسے (میرے) نزدیک لائو اور میرے ساتھیوں کے لئے اس نے حکم دیا اور وہ میری پیٹھ کے پیچھے میرے کندھے کے قریب کھڑے کردئیے گئے۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس کے ساتھیوں سے کہو کہ میں اِس شخص سے اُس شخص کے متعلق پوچھنے لگا ہوں کہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں نبی ہوں۔ اگر اس نے جھوٹ بولا تو تم اس کو جھٹلا دینا۔ ابوسفیان کہتے تھے: اللہ کی قسم! کہ اگر اس دن یہ شرم نہ ہوتی کہ میرے ساتھی میرے متعلق جھوٹ کی نشاندہی کریں گے تو مَیں ضرور جھوٹ بولتا جب وہ مجھ سے آپؐ کے متعلق پوچھتا۔ لیکن مجھے یہی شرم آئی کہ یہ میرے متعلق چرچا کریں گے۔ اس لئے میں نے اس سے سچ بیان کیا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو تم میں سے اس شخص کا نسب کیا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں خاندانی ہے۔ قیصر نے کہا: تو کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی نے یہ دعویٰ کیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا: جو دعویٰ اس نے کیا ہے، اس دعویٰ کرنے سے پہلے کبھی تم نے اس کو جھوٹ سے متہم کیا؟ (ابوسفیان کہتے تھے) میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا اس کے آبائواَجداد میں کوئی بادشاہ ہواہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا لوگوں میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کر رہے ہیں یا ان میں سے کمزور؟ میں نے کہا: ان میں سے کمزور۔ اس نے پوچھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا: کم نہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد پھر اس دین سے نفرت کرتے ہوئے مرتد ہوجاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا دغا بازی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اور اَب ہم اس کی طرف سے ایک میعادی صلح میں ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہم سے دھوکا نہ کرے۔ ابوسفیان کہتے تھے: اس کے سوا اَور کوئی بات آپؐ کی برائی کی مجھ کو نہیں ملی جو میں شریک کرتا اور مجھ کو اس پر اپنے ساتھیوں کے جھٹلانے کا ڈر نہ ہوتا۔ اس نے پوچھا: کیا تم نے کبھی اس سے لڑائی کی یا تم سے وہ لڑا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے پوچھا: پھر اس کی اور تمہاری لڑائی کیسی رہی؟ میں نے کہا: کبھی اِدھر کبھی اُدھر۔ کبھی ہم پر وہ غالب آجاتا ہے اور کبھی ہم اس پر غالب آجاتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا: اچھا تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا: ہمیں وہ یہ حکم دیتا ہے کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے آبائواَجداد کرتے تھے اور ہمیں نماز اور صدقہ کا حکم دیتا، بدی سے روکتا، عہد کو پورا کرنے اور امانتیں ادا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ جب میں نے اس سے یہ کہا: تو قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو کہ میں نے تم سے اس کے نسب کی نسبت پوچھا تھا کہ تم میں کیسا ہے تو تم نے کہا کہ وہ خاندانی ہے اور رسول اسی طرح اپنی قوم کے اچھے خاندان میں ہی مبعوث ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا: کیا تم میں سے کسی نے اس سے پہلے ایسا دعویٰ کیا اور تم نے کہا: نہیں۔ تو میں نے خیال کیا کہ اگر اس سے پہلے تم میں سے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ ایک شخص ہے جو ایسی بات کی نقل کررہا ہے جو اس سے پہلے کہی جاچکی ہے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم نے اس پر کبھی جھوٹ کا اِتہام لگایا ہے پیشتر اس کے کہ وہ دعویٰ کرتا جو اس نے کیا۔تم نے کہا: نہیں۔ میں سمجھ گیا کہ وہ ایسا نہیں کہ لوگوں پر تو اِفتراء نہ کرے اور اللہ پر اِفتراء کرے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے باپ دادوں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا تھا؟ تم نے کہا: نہیں۔ میں نے خیال کیا: اگر اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ اپنے باپ دادا کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا لوگوں میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کرتے ہیں یا کمزور؟ تم نے کہا کہ کمزوروں نے ہی اس کی پیروی کی ہے اور دراصل ایسے ہی لوگ رسولوں کے پیرو ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان اسی طرح بڑھتاجاتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے کمال تک جا پہنچے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین کو برا سمجھ کر مرتد ہوتا ہے؟ تم نے کہا: نہیں۔ ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کی بشاشت دلوں میں رَچ جاتی ہے تو کوئی بھی اس کا منکر نہیں ہوتا۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ دغا کرتا ہے تو تم نے کہا: نہیں اور رسول ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ دغا نہیں کیا کرتے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم نے اس سے کبھی لڑائی کی اور وہ بھی تم سے لڑا؟ تم نے کہا: ہاں لڑائی کی اور یہ کہ تمہاری اور اس کی لڑائی ڈول کی طرح ہوتی ہے۔ کبھی وہ تم پر غالب آتا ہے اور کبھی تم اس پر غالب آتے ہو اور اسی طر ح رسولوں کی بھی آزمائش کی جاتی ہے اور انجام کار غلبہ انہی کو ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا: وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ تم نے کہا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور یہ کہ تمہیں ان چیزوں کی پرستش سے روکتا ہے جن کو تمہارے باپ دادے پوجتے تھے اور تمہیں نماز، صدقہ، عفت، ایفائِ عہد اور ادائِ امانت کا حکم دیتا ہے۔ ہرقل نے کہا: اور یہی باتیں اس نبی کے اَوصاف ہیں۔ میں یقینا جانتا تھا کہ وہ عنقریب پیدا ہونے والا ہے۔ لیکن میں گمان٭ نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا جو کچھ تم نے کہا ہے اگر وہ سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہوجائے گا اور اگر مجھے یہ امید ہوتی کہ میں اس تک سلامت پہنچ جائوں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات کے لئے مشقت برداشت کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدموں کو دھوتا۔ ابوسفیانؓ کہتے تھے: پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا جو پڑھا گیا۔ اس میں یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم- یہ خط محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ رومیوں کے سردار ہرقل کے نام۔ سلامتی ہواس پر جو راستی کی پیروی کرتا ہے۔ اس کے بعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرو سلامتی میں رہو گے۔اور اسلام قبول کرو، اللہ تمہیں دُہرا اَجر دے گا اور اگر تم نے روگردانی کی تو یقینا تمہاری رعایا کے گناہ کا وبال بھی تم پر ہوگا۔ ’’اور اے اہل کتاب اس بات کی طرف آجائو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ربّ بنائیں۔ پس اگر وہ اس سے پھر جائیں تو تم ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔‘‘ ابوسفیان کہتے تھے: جب ہرقل اپنی بات ختم کرچکا تو رومیوں کے سرداروں کی جو اس کے ارد گرد تھے آوازیں بلند ہوئیں اور شوروغل زیادہ ہوگیا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کیا کہا اور ہمارے متعلق حکم ہوا اور ہم باہر نکال دئیے گئے۔ جب میں اپنے ساتھیوں سمیت باہر آیا اور ان سے تنہائی حاصل ہوئی تو میں نے ان سے کہا: حد ہوگئی۔ ابوکبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بیٹھ گئی ہے۔ بنو اَصفر (رومیوں ) کا بادشاہ بھی اس سے ڈر رہا ہے۔ ابوسفیانؓ کہتے تھے: بخدا! میں (اس دن سے) اپنے تئیں ذلیل ہی سمجھتا رہا۔ یہی یقین تھا کہ آپؐ کا سلسلہ ضرور غالب ہوگا یہاں تک کہ اللہ نے میرے دل میں اسلام کو داخل کر ہی دیا بحالیکہ یہ بات مجھے پسند نہیں تھی ۔ اطرافہُ: ۷، ۵۱، ۲۶۸۱، ۲۸۰۴، ۲۹۷۸، ۳۱۷۴، ۴۵۵۳، ۵۹۸۰، ۶۲۶۰، ۷۱۹۶، ۷۵۴۱۔