بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
محمد بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبید اللہ نے نافع سے،نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور وہ آپؐ کے ہاتھ میں رہی۔ پھر آپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ میں رہی۔ پھر ان کے بعد حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں۔ پھر ان کے بعد حضرت عثمانؓ کے ہاتھ میں رہی۔ آخر وہ انگوٹھی أریس کے کنوئیں میں گر پڑی۔ اس پر محمد رسول اللہ کندہ تھا۔
ابومعمر نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہم سے بیان کیاکہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی ﷺ
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے قتادہ سے ، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رومیوں کو خط لکھوانا چاہا تو آپؐ سے کہا گیا۔ وہ آپؐ کے خط کو کبھی نہیں پڑھیں گے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہو۔ اس لئے آپؐ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کندہ کروایا۔ مجھے ایسا یاد ہے کہ اس کی سفیدی کو آپؐ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد( بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے، عبدالعزیز نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں محمد رسول اللہ کندہ کرایا اور فرمایا: میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ کندہ کروایا ہے اس لئے اس نقش کے مطابق کوئی نقش نہ کرائے۔
محمد بن عبداللہ انصاری نے مجھ سے بیان کیا ۔انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ ان کے باپ نے ثمامہ (بن عبداللہ بن انس) سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے انہوں نے ان کو ایک خط لکھا اور مہر کا نقش تین سطروں میں تھا۔ محمد ایک سطر اور رسول ایک سطر اور اللہ ایک سطر۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر گئے اور دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھائی۔ پھر آپؐ عورتوں کے پاس آئے اور صدقہ کا حکم دیا اور عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے قرنفل مشک وغیرہ کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور جب آپؐ اس کو پہنتے تو نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، آپؐ یہ دیکھ کر منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی اب اسے نہیں پہنوں گا۔ یہ کہہ کر آپؐ نے اتار ڈالی اور لوگوں نے بھی اتار ڈالی۔ جویریہ کہتے تھے کہ میں سمجھتا ہوں کہ نافع نے یہ بھی کہا تھا کہ آپؐ نے اپنے داہنے ہاتھ میں پہنی تھی۔
ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا اور احمد (بن حنبل) نے اپنی سند میں اتنا اور بیان کیا کہ (محمد بن عبداللہ) انصاری نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا: مجھے میرے باپ نے بتایا۔انہوں نے ثمامہ سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی آپؐ کے ہاتھ میں اورآپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ میں اورحضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمر ؓ کے ہاتھ میں رہی۔ جب حضرت عثمانؓ خلیفہ ہوئے تو وہ أریس کے کنوئیں پر بیٹھے ۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ انہوں نے وہ انگوٹھی نکالی اور اس کو یونہی ادھر ادھر کرنے لگے وہ گر گئی۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: ہم حضرت عثمانؓ کے ساتھ تین دن وہاں جاتے رہے اور کنوئیں کا پانی سارے کا سارا نکالا مگروہ ہمیں نہ ملی۔
ابوعاصم (نبیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں خبردی کہ حسن بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک ہوا تو آپؐ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور ابن وہب نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بڑھایا پھر آپؐ عورتوں کے پاس آئے اور ان کو صدقہ کا حکم دیا ۔ اور وہ حضرت بلالؓ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؐ فرماتی تھیں: اسماءؓ کا ایک ہار گم ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش میں چند آدمیوں کو بھیجا اور نماز کا وقت ہوگیا جبکہ وہ باوضو نہ تھے اور نہ انہیں پانی مل سکا تو لوگوں نے بغیر وضو کے ہی نماز پڑھی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور اللہ نے تیمم کی آیت نازل کی۔ ابن نمیر نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بڑھایا کہ جو انہوں نے اسماء ؓسے مستعار لیا تھا۔