بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے کہا: مجھے عدی (بن ثابت) نے خبر دی ، عدی نے کہا: میں نے سعید (بن جبیر) سے سنا۔ سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھیں۔ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد آپؐ نے کوئی نماز پڑھی۔ پھر آپؐ عورتوں کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ بلالؓ تھے تو آپؐ نے ان کو صدقہ کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالی ڈالنے لگی۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا انہوں نے حنظلہ سے، حنظلہ نے نافع سے، (امام بخاری نے) کہا: ہمارے ساتھیوں نے مکی (بن ابراہیم ) سے مکی نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپؐ نے فرمایا: مونچھوں کا چھوٹا کرنا فطرت میں سے ہے۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے روایت کیا، کہا: زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ پانچ باتیں فطرتی ہیں یا (کہا:) پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں۔ ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، بغل کے بال صاف کرنا اور ناخن کاٹنا اور مونچھیں چھوٹی کرانا ۔
احمد بن ابی رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حنظلہ سے سنا۔ حنظلہ نے نافع سے، نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن اتارنا اور مونچھیں چھوٹی کرانا یہ فطرتی باتیں ہیں۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا) کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے ہیں: فطرتی باتیں پانچ ہیں۔ ختنہ کروانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کتروانا، ناخن اتارنا اور بغل کے بال صاف کرنا۔
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں خبردی کہ ورقاء بن عمر نے ہمیں بتایا۔ ورقاء نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، عبیداللہ نے نافع بن جبیر سے، نافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپؐ وہاں سے واپس لوٹے اور میں بھی لوٹا آپؐ نے تین بار پکارا:چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ حسن بن علیؓ کو بلاؤ۔ حسن بن علیؓ اٹھ کر چلتے ہوئے آیا اور اس کے گلے میں لونگ وغیرہ کا ہار تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اس طرح پھیلایا توحسنؓ نے بھی اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا اور آپؐ نے اس کو گلے لگایا اور فرمایا: اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت کرتا ہے اس سے بھی محبت کر۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا اس کے بعد حسن بن علیؓ سے بڑھ کر مجھے کوئی پیارا نہ تھا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر (غندر) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی جو عورتوں کی طرح بنیں اور ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں کی طرح بنیں۔ (غندر کی طرح) اس حدیث کو عمرو (بن مرزوق) نے بھی روایت کیا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا کہ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیاکہ عروہ نے ان کو بتایا۔ حضرت زینب بنت اُم سلمہؓ نے اُن کو بتایا۔ حضرت اُم سلمہؓ نے ان کو خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے اور گھر میں ایک مخنث بھی تھا تو وہ حضرت اُم سلمہؓ کے بھائی عبداللہؓ سے کہنے لگا: عبداللہؓ ! اگر اللہ نے تمہیں کل طائف کی فتح دی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا پتہ دوں گا۔کیونکہ وہ آتی ہے تو اس کے چار بل نظر آتے ہیں اور جب جاتی ہے تو آٹھ بل نظر آتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہ (لوگ)تمہارے پاس ہرگزنہ آیا کریں۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا:تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ کے یہ معنی ہیں کہ اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں۔ گویا وہ ان کو لے کر آتی ہے اور اس کا یہ کہنا کہ تُدْبِرُ بِثَمَانٍ تو اس کی یہ مراد ہے کہ جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو ان چار بلوں پر اور چار بل پڑتے ہیں کیونکہ وہ اس کے دونوں پہلوؤں پر ہوتے ہیں جو ان سے مل جاتے ہیں اورثَمَانِيَة نہیں کہا تو اس لئے کہ اس سے مراد اطراف کا مفرد یعنی طرف ہے جو کہ مذکر ہے کیونکہ وہ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ نہیں کہہ سکتا تھا۔