بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 187 hadith
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔سعید نے کہا: میں نے نضر بن انس بن مالک سے سنا۔ وہ قتادہ سے بیان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس تھا اور لوگ ان سے پوچھ رہے تھے اور حضرت ابن عباسؓ جواب دیتے وقت نبی ﷺ کا ذکر نہ کرتے تھے یہاں تک کہ کسی نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: میں نے محمد ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے دنیا میں کوئی مورت بنائی قیامت کے دن اسے مجبور کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ پھونک نہ سکے گا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابوصفوان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس بن یزید سے، یونس نے ابنِ شہاب سے، ابنِ شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا۔ پالان پرفدک کی بنی ہوئی چادر تھی اور آپؐ نے اپنے پیچھے اسامہؓ کو بیٹھا لیا۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا۔ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا، خالد نے عکرمہ سے،عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے تو بنو عبدالمطلب کے بچوں نے آپؐ کا استقبال کیا۔ آپؐ نے ایک کو اپنے آگے بیٹھا لیا اور دوسرے کو اپنے پیچھے ۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا کہ عکرمہ کے پاس یہ ذکر کیا گیا کہ تین میں سے برا کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) آئے تو آپؐ نے قثم ؓ کو اپنے آگے سوار کیا اور فضلؓ کو اپنے پیچھے یا کہا: قثم ؓ کو اپنے پیچھے اور فضلؓ کو آگے، تو ان میں سے کون برا اور کون بھلا؟
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا ۔ ابنِ شہاب نے ہمیں بتایا۔ ابنِ شہاب نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا (حضرت عبداللہ بن زیدؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔
ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میرے اور آپؐ کے درمیان پالان کی لکڑی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: معاذؓ ! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر تک چلے پھر فرمایا: معاذؓ!میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا:معاذؓ! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: تم جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلتے رہے پھر فرمایا: معاذ بن جبلؓ ! میں نے کہا: حاضر ہوں یارسول اللہ اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: جانتے ہو بندوں کا کیا حق اللہ پر ہے جب وہ اس کا حق ادا کریں ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اُن کو سزا نہ دے۔
حسن بن محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن عبادنے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن ابی اسحاق نے مجھے خبر دی۔ یحيٰ نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے آئے اور میں حضرت ابوطلحہؓ کے پیچھے ایک سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور وہ چلے جارہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں کہ اتنے میں اونٹنی نے ٹھوکر کھائی ۔ میں نے کہا: عورت (گر پڑی ۔) میں اترا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی تمہاری ماں ہے۔ میں نے پالان کو مضبوط باندھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے۔ جب آپؐ مدینہ کے قریب پہنچے یا کہا مدینہ کو دیکھا۔ آپ نے فرمایا: ہم لوٹ کر آرہے ہیں اپنے ربّ کی طرف رجوع کرنے والے، اس کی عبادت کرنے والے، اسی کی حمد کرنے والے ہیں۔