بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
عبداللہ بن ابی الاسود نے مجھے بتایا کہ معاذ (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا ، ان کے باپ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: کپڑوں میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر پہننا بہت پسند تھی۔
ابوالیمان نے مجھ سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو ایک یمنی چادر آپؐ پر ڈال دی گئی۔
مسدد نے مجھے بتایا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا، ایوب نے حمید بن ہلال سے، حمید نے ابوبردہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حضرت عائشہ ؓ ہمارے پاس ایک چادر اور ایک موٹا تہ بند نکال کر لائیں اور کہنےلگیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ نے یہی دو (چادریں) پہنی ہوئی تھیں۔
یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہوئی تو آپؐ اپنی چادر کو اپنے چہرے پر ڈال لیتے اور جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ آپؐ اسی حالت میں تھے کہ آپؐ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا اس سے بچنے کیلئے آپؐ متنبہ فرماتے۔
یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہوئی تو آپؐ اپنی چادر کو اپنے چہرے پر ڈال لیتے اور جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ آپؐ اسی حالت میں تھے کہ آپؐ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا اس سے بچنے کیلئے آپؐ متنبہ فرماتے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا ، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک اُونی حاشیہ دار چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش تھے۔ آپؐ نے اس کے نقوش کو ایک نظر دیکھا۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا تو فرمایا: میری یہ چادر ابوجہم ؓ کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس نے ابھی میری نماز سے توجہ ہٹائی اور ابو جہمؓ کی سادہ چادر میرے پاس لے آؤ۔ ابوجہمؓ حذیفہ بن غانم کے بیٹے تھے جو بنو عدی بن کعب میں سے تھے۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید ثقفی)نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (عمری) نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے خبیب (بن عبدالرحمٰن) سے، خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعِ ملامسہ اور بیعِ منابذہ سے اور دو نمازوں سے منع فرمایا۔ ایک فجر کے بعد جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے دوسری عصر کے بعد جب تک کہ سورج ڈوب نہ جائے اور یہ کہ آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مار کر اس طرح نہ بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو جو اس کے اور آسمان کے درمیان حائل ہو اور نیز اس طرح کپڑا لپیٹ کر نہ بیٹھے کہ ہاتھ پاؤں باہر نہ نکل سکیں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا؛ مجھے عامر بن سعد (بن ابی وقاص) نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدریؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے دو قسم کے لباس سے اور دو قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا یعنی آپؐ نے خریدو فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے کپڑے کو اپنے ہاتھ سے چھولے رات کو یا دن کو اور اس کو الٹ پلٹ کر نہ دیکھے صرف اسی پر خریدے، اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور دوسرا اپنا کپڑا پھینک دے اور اس طرح بغیر دیکھنے کے اور بغیر باہمی رضا مندی سے ان کی خریدوفروخت قرار پائے ۔اور لباس کی دو قسمیں جن سے آپؐ نے منع فرمایا ان میں سے ایک اشتمال الصماء ہے اور صماء کے یہ معنی ہیں کہ آدمی اپنے کپڑے کو اپنے ایک کندھے پر ڈال لے اور اس کا ایک پہلو کھلا رہے اس پر کپڑا نہ ہو اور دوسرا لباس یہ ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے اپنے کپڑے سے اس طرح گوٹھ مارے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔