بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سعید بن فلاں سے جو کہ عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔ انہوں نےحضرت اُم خالد بنت خالد ؓسے روایت کی۔ وہ کہتی تھی کہ نبی ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک چھوٹی سی سیاہ اونی نقش دار چادر بھی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم اس کو کسے پہنائیں؟ لوگ خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس اُم خالدؓ کو لے آؤ۔ اس کو اٹھا کر لائے۔ آپؐ نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور اس کو پہنا دی اور فرمایا کہ یہ دیر تک بار بار پہنتی رہو اور اس میں سبز یا زرد نقش تھے۔ آپؐ نے حضرت اُمِ خالدؓ سے فرمایا: یہ بہت اچھی ہے اور سَنَاهْ حبشی زبان کا لفظ ہے۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔ زہیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو عثمان سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ نے ہمیں لکھا اور ہم اس وقت آذربائیجان میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر اتنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں سیدھی ملا کر ہمیں بتایا اور زُہَیر نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو اٹھایا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالعزیز نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ شعبہ کہتے تھے: میں نے (عبدالعزیز سے) پوچھا: کیا حضرت انسؓ نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے؟ تو عبدالعزیز نے زور دے کر کہا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت کی ہے آپؐ نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا تو وہ اس کو آخرت میں ہرگز نہیں پہنے گا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ابن ابی عدی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے، ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت اُمّ سلیمؓ کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو مجھ سے کہنے لگیں: انسؓ! اس بچے کا خیال رکھو۔ اسے کوئی کچھ کھلائے نہیں اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح سویرے ہی لے جاؤ کہ تا آپؐ اسے گھٹی دیں۔ چنانچہ میں صبح کو اسے لے گیا کیا دیکھا کہ آپؐ ایک باغ میں ہیں اور آپؐ ایک حریثی اونی چادر پہنے ہوئے ہیں اور آپؐ اس (اونٹ کی) سواری کو داغ رہے ہیں جو فتح مکہ کے زمانہ میں آپؐ کو ملی۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب(بن عبدالمجید ثقفی) نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہمیں خبر دی۔ ایوب نے عکرمہ سے روایت کی کہ رفاعہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور پھر عبدالرحمٰن بن زبیر قرظیؓ نے اس سے نکاح کرلیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں:وہ سبز چادر اوڑھے ہوئے تھی اس نے حضرت عائشہؓ کے پاس آکر شکایت کی۔ اپنے جسم پر ان کو نیل دکھائے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور عورتیں ایک دوسرے کی مدد کیا ہی کرتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ کہنے لگیں: جیسی تکلیف مؤمن عورتیں اٹھاتی ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھی کسی نے اٹھائی ہو۔ اس کا جسم تو اس کے کپڑے سے بھی زیادہ (گہرا) سبز ہے۔ عکرمہ کہتے تھے اور عبدالرحمٰنؓ نے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ہے وہ بھی آ گئے۔ ان کے ساتھ ان کے دو بچے تھے جو دوسری عورت سے تھے۔ کہنے لگی، اللہ کی قسم! اس نےمیرے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی، مگر بات یہ ہے کہ جو اس کے پاس ہے وہ میرے لئے اس سے زیادہ کار آمد نہیں اور اس نے اپنے کپڑے کے حاشیہ کو پکڑا۔ عبدالرحمٰنؓ کہنے لگے۔ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! میں تو اس کو چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں مگر یہ نافرمان ہے۔ یہ رفاعہؓ کو پسند کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر عورت سے فرمایا: اگر ایسی بات ہے تو تم رفاعہؓ کے لئے حلال نہیں ہوسکتی یا اس کے پاس جانے کے لائق نہیں جب تک کہ (عبدالرحمٰنؓ) تجھ سے مزہ نہ اٹھائے۔ عکرمہ کہتے تھے اور آپؐ نے اس کے ساتھ دو بچے دیکھے۔ آپؐ نے عبدالرحمٰنؓ سے پوچھا یہ تیرے بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے عورت سے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق ایسا گمان کرتی ہے جو تو کرتی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس سے ایسے ہی ملتے جلتے ہیں جیسے ایک کوّا دوسرے کوّے سے۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین (بن ذکوان)سے، حسین نے عبداللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے یحيٰ بن یعمر سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ ابوالاسود دیلی نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس وقت آپؐ سو رہے تھے۔ پھر میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ بیدار ہو گئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جو لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا اقرار کرے۔ پھر اسی اقرار پر مر جائے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا، گو اس نے زنا کیا ہو؟ گو اس نے چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو۔پھر میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو گو اس نے چوری کی ہو۔ آپؐ نے فرمایا: گو اس نے زناکیا ہو گو اس نے چوری کی ہو۔ میں نے کہا:گو اس نے زنا کیا ہو گو اس نے چوری کی ہو۔ آپؐ نے فرمایا: (ہاں) گو اس نے زناکیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو۔ ابوذرؓ کے برا منانے کےباوجود۔ اور حضرت ابوذر ؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہا کرتے گو ابوذرؓ کو برا معلوم ہو۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا: یہ موت کے قریب یا اس سے پہلے جب وہ توبہ کرے اور پشیمان ہو اور لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا اقرار کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا قتادہ نے کہا: میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس حضرت عمرؓ کا خط آیا اور ہم اس وقت حضرت عتبہ بن فرقدؓ کے ساتھ آذربائیجان میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا مگر اتنا اور آپؐ نے دونوں انگلیوں سے جو انگوٹھے کے قریب ہیں اشارہ فرمایا۔ ابوعثمان نہدی نے کہا: جہاں تک ہمیں علم ہوا ہے آپؐ کی اس سے مراد بیل بوٹے حاشیہ وغیرہ ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سلیمان) تیمی سے، تیمی نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت عتبہؓ کے ساتھ تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں صرف وہی ریشمی کپڑا پہنے گا جس نے آخر ت میں اس کو نہ پہننا ہو۔حسن بن عمرنے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے بیان کیاکہ ابوعثمان نے ہمیں یہی حدیث بتائی اور ابوعثمان نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت حذیفہؓ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دہقان چاندی کے ایک برتن میں پانی ان کے پاس لایا۔ انہوں نے وہ برتن اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے کہ میں نے صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں نے اس کو منع کیا اور وہ باز نہیں آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سونا، چاندی، حریر اور دیباج یہ دنیا میں ان کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے۔