بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے جابر بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس تہ بند نہ ہو وہ پاجامہ ہی پہن لے اور جس کے پاس جوتیاں نہ ہوں تو وہ موزے ہی پہن لے۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے اشعث بن سلیم نے بتایا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ وہ مسروق سے، مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو غسل وغیرہ کرنے میں اور اپنی کنگھی کرنے میں اور اپنے جوتے پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنا پسند کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابو زناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک ہی جوتا پہن کر نہ چلے یا تو دونوں پاؤں کو ننگا رکھے یا ان دونوں میں جوتا پہنے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو پہلے دائیں سے شروع کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں سے شروع کرے۔ دایاں پاؤں جوتا پہنتے وقت پہلے ہو اور اتارتے وقت آخری ہو۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی میں دو دو تسمے تھے۔
محمد (بن مقاتل) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبردی کہ عیسیٰ بن طہمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر آئے ان دونوں میں دو، دو تسمے تھے۔ ثابت بنانی نے کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا۔ اور لیث (بن سعد) نے کہا کہ مجھے یونس نے بتایا۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور ان کو چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا۔
محمد بن ابی بکر (مقدمی) نے مجھ سے بیان کیا کہ معتمر (بن طرخان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے سعید سے، سعید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک بوریاسے حجرہ سا بنا لیتے تھے اور (اس میں )نماز پڑھتے تھے اور دن کو اسے بچھا لیتے اور اس پر بیٹھتے تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہونے لگتے اور آپؐ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے۔ آپؐ ان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اتنے ہی عمل کرو جتنی کہ تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تو نہیں اکتاتا مگر تم ہی اکتا جاتے ہو اور اللہ کو وہی عمل زیادہ پیارا ہے جو ہمیشہ ہوتا رہے گو تھوڑ اہی ہو۔
اور لیث نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھ سے بیان کیا ۔ا نہوں نے حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت کی کہ ان کے باپ مخرمہؓ نے ان سے کہا: اے میرے بیٹے ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپؐ ان کو تقسیم کررہے ہیں چلو ہم بھی آپؐ کے پاس جائیں۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں پایا تو مخرمہؓ نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلاؤ۔ میں نے اس کو بہت ہی برا سمجھا۔ میں نے کہا: کیامیں رسول اللہ صلی اللہ عل یہ وسلم کو آپ کے پاس بلاؤں؟ انہوں نے کہا: بیٹا ! وہ مغرور نہیں ہیں ۔ تب میں نے آپؐ کو بلایا، آپؐ باہر آئے اور آپؐ پر ایک ریشمی قبا تھی جسے سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: مخرمہؓ یہ ہم نے تمہارے لئے چھپا رکھی ہے اور آپؐ نے وہ ان کو دے دی۔