بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عبید بن حنین سے، عبید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: میں ایک برس تک انتظار کرتا رہا اور میں یہ چاہتا تھا کہ حضرت عمرؓ سے ان دو عورتوں کے متعلق پوچھوں، جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف آپس میں ایکا کیا تھا مگر میں اُن سے ڈرتا رہا۔ ایک دن وہ ایک پڑاؤ میں اترے اور پیلو کے جھنڈ میں گئے۔ جب وہاں سے باہر آئے تو میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: عائشہؓ اور حفصہؓ تھیں۔ پھر کہنے لگے:ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو کسی شمار میں بھی نہ سمجھتے تھے ۔ جب اسلام آیا اور اللہ نے ان کا ذکر کیا، تو ہم اس وجہ سے ان کا اپنے ذمے حق سمجھنے لگے بغیر اس کے کہ انہیں اپنے معاملات میں سے کسی میں دخل دینے دیں اور میرے اور میری بیوی کے درمیان جو گفتگو ہوئی تو اس نے مجھ سے سخت کلامی کی۔ میں نے اس سے کہا: اچھا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو ۔ وہ کہنے لگی: تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرتی رہتی ہے۔ یہ سن کر میں حفصہؓ کے پاس آیا اور میں نے اس سے کہا: میں تمہیں تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنا پھر آپؐ کی تکلیف کے متعلق سن کر میں نے پہلے اس (حفصہؓ)کے پاس جاکر کہا۔ پھر میں اُم سلمہؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا۔ وہ کہنے لگیں: عمر ؓ! میں تم پر حیران ہوں کہ تم اب ہمارے معاملات میں بھی دخل دینے لگ گئے ہو۔ اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تم رسول اللہ ﷺ اور ان کی ازواج کے درمیان بھی مداخلت کرو۔ انہوں نے بار بار یہی فقرہ دہرایا اور انصار میں سے ایک شخص تھا کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر حاضر ہوتا اور میں آپؐ کے پاس موجود ہوتا تو میں اس کے پاس وہ خبریں لاتا جو ہوتیں اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتا تو میرے پاس وہ خبریں لاتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارد گر د جتنے قبائل تھے وہ سب آپؐ کے لئے سیدھے ہوگئے اور کوئی باقی نہ رہا مگر غسان کا بادشاہ جو شام میں تھا۔ ہم ڈرتے تھے کہیں وہ ہم پر حملہ نہ کردے۔ یکایک مجھے معلوم ہوا کہ وہ انصاری ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ ایک بہت بڑا واقعہ ہوا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا: وہ کیا ہے غسانی آن پہنچے؟ کہنے لگا: اس سے بھی بڑھ کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں آیا تو کیا ہے کہ ان کے حجروں سے رونے کی آواز آرہی ہے اور کیا دیکھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانے میں اوپر تشریف لے گئے ہیں اور اس بالا خانے کے دروازے پر ایک غلام ہے ۔ میں اس کے پاس آیا۔ میں نے کہا: میرے لئے اجازت مانگو۔ اس نے میرے لیے اجازت مانگی تو میں اندر گیا۔ میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوریئے پر (لیٹے) ہیں اس نے آپؐ کے نشان ڈال دئیے ہیں اور آپؐ کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے اور کیا دیکھتا ہوں کہ چند کچی کھالیں لٹک رہی ہیں اور کیکر کے کچھ پتے ہیں ۔ میں نے جو حفصہؓ اور امّ سلمہؓ سے کہا تھا اور جو امّ سلمہؓ نے مجھے جواب دیا اس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ہنس پڑے ۔ آپؐ انتیس راتیں وہاں رہے پھر اس کے بعد اترے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ مرد زعفرانی رنگ استعمال کرے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ محرم ایسا کپڑا پہنے جو ورس یا زعفران سے رنگا ہوا ہو۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی۔ ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قامت تھے اور میں نے آپؐ کو سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھا میں نے آپؐ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعس (بن ابی شعثاء) سے، اشعس نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے ،معاویہ نےحضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا۔ بیمار کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانااور چھینکنے والے کو دعا سے جواب دینا، اور ہمیں ریشمی کپڑا اور دیباج اور قسی اور استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے منع فرمایا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید ابومسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ مُحرم ایسا کپڑا پہنے جو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ہو اور آپؐ نے فرمایا: جس کو جوتیاں میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے اور وہ انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف صنعانی) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے کہا: مجھے ہند بنت حارث نے خبر دی۔ ہند نے حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی وہ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جاگے اور آپؐ یہ فرما رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں آج رات کیا کچھ فتنے اتارے گئے ہیں اور کیا کیا خزانے اتارے گئے ہیں۔ ان حجروں والیوں کو کون جگائے؟ کتنی ہی پہننے والی ہیں دنیا میں، جو قیامت کے دن ننگی ہوں گی زہری نے کہا اور ہند کی آستینوں میں اس کی انگلیوں کے درمیان بٹن ہوا کرتے تھے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ ان کے باپ نے کہا: حضرت اُمّ خالد بنت خالدؓ (بن سعید بن عاص) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک سیاہ اُونی دھاری دار چادر بھی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم یہ چادر کس کو پہنائیں؟ لوگ خاموش ہو رہے۔آپؐ نے فرمایا: اُم خالدؓ کو میرے پاس لے آؤ۔ (حضرت اُمّ خالدؓ کہتی ہیں:)مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مجھے یہ (چادر) پہنائی اور دوبار فرمایا: ہمیشہ ہی پہنتی رہو۔ آپؐ اس چادر کے بیل بوٹوں کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کرتے اور فرماتے: اُمّ خالدؓ! هَذَا سَنَا اور سَنَا حبشی زبان میں اچھے کو کہتے ہیں۔ اسحاق (بن سعید) نے کہا کہ میرے رشتہ داروں میں سے ایک عورت نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اس چادر کو حضرت اُمّ خالدؓ کو پہنے ہوئے دیکھا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سعید مقبری سے، سعید نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے آپؓ کو ایسی چار باتیں کرتے دیکھا ہے کہ آپؓ کے ساتھیوں میں سے میں نے کسی کو بھی ان باتوں کو کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپؓ کو دیکھا ہے کہ آپؓ رکنوں میں سے صرف یمانی رکنوں کو ہی چھوتے ہیں اور میں نے آپؓ کو دیکھا ہے کہ آپؓ صاف سبتی جوتی پہنتے ہیں اور میں نے آپؓ کو دیکھا ہے کہ آپؓ زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپؓ کو دیکھا ہے کہ جب آپؓ مکہ میں ہوں لوگ جب چاند کو دیکھتے ہیں تو لبیک پکارتے ہیں اور آپ لبیک نہیں پکارتے جب تک کہ آٹھویں تاریخ نہ ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: یہ جو رکن ہیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپؐ نے سوائے یمنی رکنوں کے کسی اور کو چھوا ہو اور جو صاف سبتی جوتے ہیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ و ہی جوتی پہنا کرتے تھے جس میں بال نہ ہوتے اور ان کو پہنے ہوئے وضو کرتے اور میں بھی پسند کرتا ہوں کہ انہی کو پہنوں اور یہ جو زرد رنگ کا خضاب ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اس کا خضاب لگاتے تھے اس لئے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ اس کا خضاب لگاؤں اور یہ جو لبیک پکارنا ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپؐ اس وقت تک لبیک پکارتے ہوں جب تک کہ آپؐ کی اونٹنی آپؐ کو لے کر اٹھ کھڑی نہ ہو۔