بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یسرہ بن صفوان نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، عبداللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپؐ نے کسی سے کہا ہو کہ میرے ماں باپ تیرے قربان, سوا سعد بن مالکؓ کے۔ میں نے آپؐ کو جنگ اُحد کے دن یہ فرماتے سنا: سعدؓ تیر پھینکو میرے ماں باپ تیرے قربان۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معتمر (بن سلیمان) سے، معتمر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے۔ابوعثمان (نہدی) نے کہا: ان جنگوں میں سے جو آپؐ نے دشمنوں سے لڑیں ایک جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت طلحہؓ اور حضرت سعدؓ کے سوا کوئی بھی باقی نہیں رہا تھا۔ ابوعثمان نے یہ ان دونوں سے سن کر بیان کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معتمر (بن سلیمان) سے، معتمر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے۔ابوعثمان (نہدی) نے کہا: ان جنگوں میں سے جو آپؐ نے دشمنوں سے لڑیں ایک جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت طلحہؓ اور حضرت سعدؓ کے سوا کوئی بھی باقی نہیں رہا تھا۔ ابوعثمان نے یہ ان دونوں سے سن کر بیان کیا۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع(بن جراح) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہؓ کا ایک ہاتھ شل دیکھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے جنگِ اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا تھا۔
عمرو بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا ،انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہماسے سنا، کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو مقرر فرمایا اور پیادہ سپاہی شکست کھا کر بھاگنے لگے۔یہ وہ واقعہ ہے (جس کے متعلق قرآنِ مجید میں ہے) کہ جب رسول ان کو اُن کے پیچھے سے بلا رہا تھا۔
عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن یوسف سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سائب بن یزیدؓ سے سنا،کہتے تھے: میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت مقداد (بن اَسوَد) اور حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا۔ میں نے ان میں سے کسی کو بھی (جنگ کے متعلق) کوئی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ ہاں میں نے حضرت طلحہؓ کو جنگ اُحد کی بابت بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
ابومعمر (عبداللہ بن عمرو) نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن صہیب) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب اُحد کی جنگ ہوئی تو لوگ شکست کھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا ہوگئے۔ اور حضرت ابوطلحہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپؐ کو اپنی ایک ڈھال سے آڑ میں لئے کھڑے رہے اور حضرت ابوطلحہؓ ایسے تیرانداز تھے کہ جو زور سے کمان کھینچا کرتے تھے، انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں تو ڑ دیں اور جو کوئی آدمی تیروں کا ترکش اپنے ساتھ لئے گزرتا تو آنحضرت ﷺ فرماتے: ابوطلحہؓ کے لئے پھینک دو۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر اُٹھا کر لوگوں کو دیکھتے تو حضرت ابوطلحہؓ کہتے: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، سر اُٹھا کر نہ دیکھیں مبادا ان لوگوں کے تیروں میں سے کوئی تیر آپؐ کو لگے۔ میرا سینہ آپؐ کے سینے کے سامنے ہے اور میں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی (امّ المؤمنین) حضرت عائشہؓ کو اور (اپنی والدہ) حضرت امّ سُلَیمؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے پانچے چڑھائے ہوئے ہیں،ان کی پنڈلیوں کی پازیبیں نظر آتی تھیں،اپنی پیٹھوں پر مشکیں بھر کر اُچھالتی ہوئی لاتی تھیں اور لوگوں کے مونہوں میں ڈالتی تھیں۔ پھر جاتیں اور اُنہیں بھر کر پھر آتیں اور لوگوں کے مونہوں میں ڈالتی تھیں۔ اور حضرت ابوطلحہؓ کے ہاتھ سے تلوار دو یا تین دفعہ گر گئی تھی۔
عبیداللہ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: جب جنگ اُحد ہوئی تو مشرک شکست کھا کر بھاگ نکلے تو ابلیس نے اللہ کی اس پر لعنت ہو پکارا۔ ارے اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔ چنانچہ یہ سن کر جو اُن سے آگے تھے وہ لوٹے۔ اگلے اور پچھلے آپس میں تلواروں سے لڑ پڑے۔ حضرت حذیفہؓ نے دیکھا کہ ان کے باپ حضرت یمانؓ سے لوگ لپٹے ہیں۔ وہ بولے: ارے اللہ کے بندو! میرا باپ ہے میرا باپ۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! وہ نہ رُکے، اس کو مار ہی ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ عروہ کہتے تھے: بخدا حضرت حذیفہؓ میں ہمیشہ ہی نیکی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔ بَصُرْتُ فِی الْاَمْرِ کے معنی عَلِمْتُ یعنی میں نے جانا اور اَبْصَرْتُ آنکھ کادیکھنا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بَصُرْتُ اور اَبْصَرْتُ ایک ہی معنی میں ہیں۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحمزہ نے ہمیں بتایا کہ عثمان بن موہب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص آیا جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، اس نے پوچھا: جو بیٹھے ہیں کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں۔ اس نے پوچھا: یہ بوڑھا کون ہے؟ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ۔ وہ ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں آپؓ سے ایک بات پوچھتا ہوں، کیا آپؓ بتلائیں گے؟ کہنے لگا: میں حرمت بیت اللہ کی قسم دے کر آپؓ سے پوچھتا ہوں: کیا آپؓ کو علم ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ جنگ اُحد کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا پھر آپؓ کو یہ بھی علم ہے کہ وہ غزوۂ بدر سے غیرحاضر رہے اور اس میں شریک نہیں ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر کیا آپؓ کو علم ہے کہ وہ بیعت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اور اس میں موجود نہ تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (عثمان بن موہب) کہتے تھے:اس پر اس نے اللہ اکبر کہا (اور چلایا۔ حضرت عبداللہ) بن عمرؓ نے کہا: ادھر آؤ میں تمہیں بتاؤں اور جن باتوں کی نسبت تم نے مجھ سے پوچھا ہے انہیں اچھی طرح بیان کردوں۔ جنگ اُحد کے دن جو اُن کا بھاگنا ہے تو میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ نے ان سے درگذر کردیا ہے اور جنگ بدر سے جو اُن کی غیرحاضری تھی وہ اس لئے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ان کی بیوی تھیں اور وہ بیمار تھیں، نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا تھا: تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے والے کا ہی اَجر اور حصہ ملے گا اور بیعت رضوان میں جو اُن کی غیرحاضری تھی تو اگر وادئ مکہ میں اور کوئی حضرت عثمان بن عفانؓ سے بڑھ کر معزز ہوتا تو آپؐ (مشرکوں کو سمجھانے کیلئے) اُسی کو اُن کی جگہ بھیجتے مگر آپؐ نے حضرت عثمانؓ ہی کو بھیجا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی، جب حضرت عثمانؓ مکہ جاچکے تھے، تو نبی ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پررکھ کر فرمایا: یہ عثمانؓ کا ہاتھ ہے۔ جاؤ اَب یہ باتیں اپنے ساتھ لے جاؤ۔
(تشریح)