بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یحيٰ بن عبداللہ سُلمی نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ معمر (بن راشد) نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) سالم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ جب فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے اپنا سر اُٹھاتے تو یوں دُعا کرتے تھے: اے اللہ! فلاں اور فلاں اور فلاں کو رحمت سے دور کیجیو۔ یہ دعا آپؐ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی: اس امر میں تیرا کوئی اختیار نہیں، وہ چاہے تو اُن پر فضل کرے اور چاہے تو اُن کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
عمرو بن علی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ کی اس شخص پر سخت ناراضگی ہے جس کو نبی (
اور (اسی سند سے) عبداللہ بن مبارک نے حنظلہ بن ابوسفیان سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے خلاف دعا کرتے تھے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: اس امر میں تیرا کوئی اختیار نہیں، وہ چاہے تو اُن پر فضل کرے اور چاہے تو اُن کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
(تشریح)یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ ثعلبہ بن ابی مالک کہتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کی عورتوں میں سے بعض کو اوڑھنیاں تقسیم کیں۔ ان میں سے ایک اچھی اوڑھنی بچ رہی جو لوگ ان کے پاس تھے، ان میں سے کسی نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؐ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیٹی کو دیں جو آپؐ کے پاس ہے۔ ان کی مراد حضرت علیؓ کی بیٹی حضرت ام کلثومؓ تھیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اُمّ سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں اور حضرت اُمّ سلیطؓ ان انصاری عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: وہ جنگ اُحد کے دن ہمارے لئے مشکیں اُٹھا کر لاتی تھیں۔
(تشریح)ابوجعفر محمد بن عبداللہ (بن مبارک) نے مجھے بتایا۔ حُجَین بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن فضل سے ، عبداللہ نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ (سفر میں) گیا۔ جب ہم حمص (جو ملک شام کا مشہور شہر ہے، اس میں) پہنچے تو عبیداللہ بن عدیؓ نے مجھ سے کہا: کیا آپ وحشی (بن حرب حبشی) سے ملنا چاہتے ہیں، حضرت حمزہؓ کے قتل کی بابت اس سے پوچھیں گے؟ میں نے کہا: اچھا اور وحشی حمص میں رہا کرتا تھا۔ چنانچہ ہم نے اس کا پتہ دریافت کیا۔ ہم سے کہا گیا کہ وہ اپنے محل کے سایہ میں بیٹھا ہے جیسے بڑی مشک ہو۔ جعفر کہتے تھے: ہم اس کے پاس جاکر تھوڑی دیر کھڑے رہے ، ہم نے السلام علیکم کہا۔ اس نے سلام کا جواب دیا۔ کہتے تھے: اور عبیداللہ اس وقت پگڑی سے سر اور منہ لپیٹے ہوئے تھے۔ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی دیکھ سکتا تھا، عبیداللہ نے کہا: وحشی! کیا مجھے پہچانتے ہو؟ کہتے تھے: اس نے انہیں غور سے دیکھا، پھر کہا: اللہ کی قسم! نہیں سوا اس کے کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے شادی کی تھی جسے امّ قتال بنت ابی العیص کہتے تھے وہ مکہ میں عدی کے لئے ایک بچہ جنی تھی اور میں (انّا سے) اسے دودھ پلوایا کرتا تھا، بچے کو اُٹھا کر اس کی ماں کے ساتھ لے جاتا اور پھر وہ بچہ اس کی ماں کو دے دیتا۔ میں نے تمہارا پاؤں دیکھا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی ہے۔ یہ سن کر عبیداللہ نے اپنا منہ کھول دیا۔ پھر انہوں نے کہا: کیا تم حضرت حمزہؓ کے قتل کا واقعہ ہمیں نہیں بتاؤ گے؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت حمزہؓ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو بدر میں قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم میرے چچا کے بدلے میں حمزہؓ کو قتل کرو تو تم آزاد ہو۔ اس نے کہا: جب لوگوں نے دیکھا کہ عینین کی جنگ ہونے والی ہے اور عینین اُحد کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی ہے، اُحد کے اور اس کے درمیان ایک وادی ہے، میں بھی لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے نکلا۔ جب لوگ لڑنے کے لئے صف آراء ہوئے تو سباع (بن عبدالعزیٰ) میدان میں نکلا اور اس نے پکارا: کیا کوئی مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں نکلے گا؟کہتا تھا:یہ سن کرحضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ اس کے مقابل پر نکلے اور کہنے لگے: ارے سباع! ارے امّ انمار، عورتوں کے ختنے کرنے والی کے بچے! کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرتے ہو؟ یہ کہہ کر حضرت حمزہؓ نے اس پر حملہ کیا۔ وہ ایسا ہوگیا جیسے کل کا گزرا ہوا دن۔ (وحشی نے) کہا: اور میں ایک چٹان کے نیچے حضرت حمزہؓ کے لئے گھات میں بیٹھ گیا۔ جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنا برچھا مارا اور اس کو اُن کے زیر ناف رکھ کر جوزور سے دبایا تو وہ اُن کے دونوں سرینوں میں سے پار نکل گیا اور یہی اُن کی آخری گھڑی تھی۔جب لوگ لوٹے تو میں بھی اُن کے ساتھ لوٹا اور میں مکہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب اس میں اسلام پھیلا تو میں وہاں سے نکل کر طائف چلا گیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایلچی بھیجے اور مجھ سے کہا گیا کہ آپؐ ایلچیوں سے تعرض نہیں کرتے۔ کہا: میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپؐ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تم ہی وحشی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔آپؐ نے فرمایا: تم نے حمزہؓ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا: ٹھیک بات ہے جو آپؐ کو پہنچی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم سے ہوسکے تو میرے سامنے نہ ہو۔ کہا:یہ سن کر میں وہاں سے نکل گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسیلمہ کذاب نے بغاوت کی، میں نے کہا: میں مسیلمہ کی طرف ضرور جاؤں گا شاید میں اسے قتل کروں اور اس طرح حضرت حمزہؓ کے گناہ کا کفارہ کروں۔ کہا: میں بھی لوگوں کے ساتھ (جنگ میں) نکلا۔ پھر اس (جنگ) کا حال جو ہوا، وہ ہوا۔ کہا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے گندمی رنگ اونٹ ہے، سر کے بال پراگندہ ہیں۔ کہا: میں نے اس کو اپنا برچھا مارا اور اس کی چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور سے جو دبایا تو دونوں کندھوں کے درمیان سے پار نکل گیا۔ کہا: ایک انصاری شخص بھی کود کر اُس کی طرف لپکا اور اس کی کھوپڑی پر تلوار کی ضرب لگائی۔ (عبدالعزیز کہتے تھے:) عبداللہ بن فضل نے یہ بھی کہا کہ سلیمان بن یسار نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ (جب مسیلمہ مارا گیا تو) ایک لڑکی جو کہ گھر کی چھت پر تھی بولی۔ امیرالمومنین (یعنی مسیلمہ) کو بھی کالے غلام نے مار ڈالا ہے۔
(تشریح): اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر(بن راشد) سے، معمر نے ہمام سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ناراضگی اس قوم پر بہت ہی سخت ہے جنہوں نے اپنے نبی سے یہ سلوک کیا، آپ نے اپنے سامنے کے دانتوں کی طرف اشارہ کیا۔ اللہ کی ناراضگی اس شخص پر بہت ہی سخت ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں مارا۔
مخلد بن مالک نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن سعید اموی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا، انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ کا غضب اس شخص پر بہت ہی سخت ہے جس کو نبی ﷺ نے اللہ کی راہ میں قتل کیا اور اللہ کی ناراضگی اس قوم پر بہت سخت ہے جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خون آلود کیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سنا اور اس وقت ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے پوچھتے ہو تو اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم دھورہا تھا اور کون پانی ڈال رہا تھا اور کیا دوا لگائی گئی تھی۔ حضرت سہلؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہ السلام زخم دھو رہی تھیں اور حضرت علیؓ ڈھال میں سے پانی ڈال رہے تھے۔جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی خون کو اور نکال رہا ہے تو انہوں نے بوریا کا ایک ٹکڑا لیا اور اس کو جلایا اور چپٹا دیا۔ اس سے خون رُک گیا اور اس دن آپؐ کا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا اور آپؐ کا چہرہ زخمی ہوگیا تھا اور آپ کا خَود آپؐ کے سر پر ٹوٹ گیا۔
محمد(بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ… (صحابہ سے متعلق ہے) یعنی جن لوگوں نے اللہ اور رسولؐ کی بات مانی بعد اس کے کہ اُن کو زخم پہنچے، ان میں جنہوں نے نیک کام کئے اور تقویٰ اختیار کیا، اُن کے لئے بہت بڑا اَجر ہوگا۔ حضرت عائشہؓ نے عروہ سے کہا: اے میرے بھانجے! تیرے آباء زبیرؓ اور حضرت ابوبکرؓ بھی انہی لوگوں میں سے تھے کہ جب جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور مشرکین پلٹ گئے تو آپؐ کو خوف ہوا کہ کہیں وہ پھر نہ لَوٹ آئیں۔آپؐ نے فرمایا: ان کا تعاقب کون کرے گا؟ تو اُن میں سے ستر آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ عروہ کہتے تھے: ان میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے۔
(تشریح)عمرو بن علی(فلاس) نے ہمیں بتایا کہ معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ قتادہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم عرب قبائل میں سے کسی ایسے قبیلے کو نہیں جانتے جن کے (مرد) انصار سے زیادہ شہید ہوئے ہوں اور قیامت کے روز وہ زیادہ معزز ہوں۔ قتادہ نے کہا اور حضرت انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ ان (انصار) میں سے جنگ اُحد میں ستر شہید ہوئے تھے اور بئرمعونہ کی جنگ میں بھی ستر اور یمامہ کی جنگ میں بھی ستر ۔ قتادہ کہتے تھے: اور بئرمعونہ کی جنگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوئی اور یمامہ کا واقعہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں ہوا جس میں مسیلمہ کذاب سے جنگ ہوئی تھی۔