بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبداللہ بن محمد(مسندی) نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (فزاری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید (طویل) سے روایت کی کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے، دیکھا کہ مہاجرین و انصار سردی کے دن صبح کے وقت خندق کھود رہے ہیں۔ اُن کے غلام نہ تھے جو اُن کے لئے یہ کام کرتے۔ جب آپؐ نے ان کی تکان اور بھوک محسوس کی تو فرمایاکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ تو انہوں نے جواب میں یہ کہا: ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (ﷺ) کی بیعت کی ہے اس بات پر کہ جب تک باقی رہیں گے ہمیشہ جہاد کریں گے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حکم (بن عتیبہ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بادِ صبا سے میری مدد کی گئی ہے اور عاد غربی ہوا سے ہلاک کئے گئے۔
عبدہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن سے روایت کی جو عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ پہلی جنگ جس میں مَیں شریک ہوا، جنگ خندق تھی۔
ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز (بن صُہَیب) سے، عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ مہاجرین اور انصار مدینہ کے گرد خندق کھودنے لگے اور وہ اپنی پیٹھوں پر مٹی ڈھو رہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جاتے تھے: ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد(ﷺ) کے ہاتھ پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہم باقی رہیں گے ہمیشہ اسلام پر قائم رہیں گے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ! آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، سو تو اَنصار اور مہاجرین کو برکت دے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: دو مٹھی جَو اُن کو دیئے جاتے تھے اور بُو دار چربی ڈال کر وہ پکائے جاتے اور یہی کھانا ان کے سامنے رکھا جاتا بحالیکہ وہ لوگ بھوکے ہوتے اور یہ کھانا بدمزہ اور تلخ تھا اور اس کی سڑی ہوئی بُوہوتی۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن ایمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (ایمن حبشی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت جابر (بن عبداللہ انصاری) رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا۔ پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خندق میں ایک پتھر آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں اُترتا ہوں۔ آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور تین دن سے ہم نے کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال لی اور اس سے پتھر پر ضربیں لگائیں تو وہ بُھربُھرا؛ یا کہا کہ پھسلتی ہوئی ریت کا ڈھیر ہوگیا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! مجھے گھر تک جانے کی اجازت دیجئے۔ میں نے جاکر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بات محسوس کی ہے جس پر صبر نہیں ہوسکتا۔ کیا تمہارے پاس کچھ (خوراک) ہے؟ کہنے لگی: کچھ جَواور بکری کا چھوٹا بچہ ہے۔ میں نے اس بچے کو ذبح کیا اور اس نے جَو پیسے اور ہم نے پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آٹا خمیر ہوچکا تھا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) میرے پاس کچھ کھانا ہے۔ یا رسول اللہ! آپؐ اُٹھیں اور ایک یا دو آدمی ساتھ لے لیں۔ آپؐ نے پوچھا: کھانا کتنا ہے؟ میں نے آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: بہت ہے اور اچھا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو ہانڈی نہ اُتارے اور نہ روٹی تنور سے نکالے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ پھر آپؐ نے صحابہ سے کہا: اُٹھو۔ چنانچہ مہاجرین اور انصار کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت جابرؓ اپنی بیوی کے پاس گئے، کہنے لگے: تمہارا بھلا ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار اور جواُن کے ساتھ ہیں سب کو لے کر آگئے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا: کیا آنحضرت ﷺ نے تم سے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر آپؐ نے (صحابہ سے) فرمایا: اندر چلو اور کشمکش نہ کرو۔ آپؐ روٹیوں کے ٹکڑے کرکے ان پر گوشت ڈال کر صحابہؓ کو دینے لگے اور جب ہانڈی اور تنور سے کچھ لیتے تو اسے ڈھانپ دیتے۔ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہ سیر ہوگئے اور کچھ کھانا بچ بھی رہا۔ آپؐ نے (حضرت جابر کی بیوی سے) فرمایا: لو اَب یہ کھا لو اور ہدیہ بھیجو کیونکہ لوگ بہت بھوکے ہیں۔
عمرو بن علی (فلاس) نے مجھے بتایا۔ ابوعاصم (ضحاک بن مخلد) نے ہم سے بیان کیا کہ حنظلہ بن ابی سفیان نے ہمیں خبردی۔ سعید بن میناء نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: جب خندق کھودی گئی میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بھوک سے آپؐ کا پیٹ پچک گیا۔میں وہاں سے لوٹ کر اپنی بیوی کے پاس آیا۔ میں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اتنی بھوک ہے کہ آپؐ کا پیٹ پچک گیا ہے۔ یہ سن کر وہ میرے پاس ایک تھیلا لائی جس میں ایک صاع جَو تھے اور ہمارے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ تھا۔میں نے اسے ذبح کیا اور بیوی نے جَو پیسے۔ میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہوگئی۔ میں نے گوشت کاٹ کر اُس کی ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس چلا۔ وہ کہنے لگی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چپکے سے کہا: یارسول اللہ! ہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جَو جو ہمارے پاس تھے پیسے ہیں۔ آپ آئیں اور آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ بھی۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: خندق والو! جابرؓ نے دعوت کی ہے۔چلو جلدی چلو اور (مجھ سے) فرمایا: اپنی ہانڈی نہ اُتارنا اور اپنے آٹے کی روٹیاں بھی نہ پکانا جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے تھے۔ میں اپنی بیوی کے پاس گیا، کہنے لگی: تمہارا ایسا ویسا ہو۔ میں نے کہا: میں نے تو وہی کیا ہے جو تم نے کہا تھا۔ چنانچہ اس نے آٹا آنحضرت ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے اس میں اپنا لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ آپؐ ہماری ہانڈی کی طرف گئے اور اس میں لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا: روٹی پکانے والی کو بلاؤ کہ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور ہانڈی نہ اُتارو اور اس سے گوشت نکالتے جاؤ۔ کھانے والے ایک ہزار تھے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں ان سب نے کھایا اور بچ بھی رہا اور وہ چلے گئے اور ہماری ہانڈی ویسی ہی اُبل رہی تھی اور ہمارے آٹے کی روٹیاں بھی پکائی جارہی تھیں۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے،ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ … یعنی جب تمہارے دشمن تمہارے پاس تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اُمڈ آئے {اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دِل (اُچھلتے ہوئے) ہنسلیوں تک جاپہنچے۔} حضرت عائشہ کہتی تھیں: یہ جنگِ خندق سے متعلق ہے۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابواسحاق (سُبَیعی) سے، سبیعی نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے دن مٹی ڈھو رہے تھے یہاں تک کہ آپؐ کے پیٹ کو گرد نے ڈھانپ لیا تھا یا کہا: آپؐ کا پیٹ گرد آلود ہوگیا تھا۔ آپؐ یہ شعر پڑھتے تھے: اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اے اللہ! تو ہی ہم پر تسلی نازل کر اور ہمیں ثابت قدم رکھ،اگر ہماری مڈبھیڑ دشمن سے ہو۔ یہ لوگ ہم پر چڑھ آئے ہیں جب بھی انہوں نے فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کیا ہے تو ہم نے اسے پسند نہیں کیا۔ اور آخر میں اپنی آواز لفظ اَبَیْنَا سے بلند کرتے۔
احمد بن عثمان نے مجھ سے بیان کیا کہ شُرَیح بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: ابراہیم بن یوسف نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میرے باپ (یوسف بن اسحاق ) نے مجھے بتایا کہ ابواسحاق (سبیعی) سے مروی ہے وہ کہتے تھے: میں نے حضرت براءؓ کو بیان کرتے سنا۔ انہوں نے کہا: جب احزاب کا واقعہ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودی تو میں نے دیکھا کہ آپؐ خندق سے مٹی ڈھو رہے ہیں یہاں تک کہ دھول نے آپؐ کے شکم کو چھپا لیا ہے اور آپؐ کے جسم پر بہت بال تھے۔ میں نے سنا کہ آپؐ ابن رواحہ کے یہ رجزیہ شعر پڑھتے تھے اور ساتھ مٹی ڈھوتے جاتے تھے: اے اللہ! اگر تو ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے سو تو ہی ہم پر تسلی نازل فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اگر ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوجائے۔ انہی نے ہم پر ظلم کئے ہیں اور جب کبھی انہوں نے فساد کا ارادہ کیا ہے تو ہم نے اسے پسند نہیں کیا۔اور آپؐ آخری مصرعہ پر اپنی آواز لمبی کرتے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے سالم(بن عبداللہ بن عمر) سے، سالم نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ اور معمر نے کہا: (عبداللہ ) ابن طاؤس نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے عکرمہ بن خالد سے، عکرمہ نے حضرت (عبداللہ) ابن عمر سے روایت کی انہوں نے کہا: میں(اپنی بہن) حضرت حفصہ کے پاس گیا اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا: لوگوں نے جو کیا ہے وہ آپؐ دیکھ رہی ہیں، میرا تو اس امر میں کچھ اختیار نہیں۔ حضرت حفصہؓ کہنے لگیں: جاؤ ان لوگوں سے ملو، وہ آپؓ کا انتظار کررہے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپؓ کے رُکے رہنے کی وجہ سے پھوٹ نہ پڑجائے۔ حضرت حفصہ انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ چلے گئے۔ جب لوگ منتشر ہوگئے تو حضرت معاویہ نے لوگوں سے خطاب کیا کہ جو شخص اس خلافت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہو تو وہ اُٹھے ہم اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ خلافت کے مستحق ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے (حضرت عبداللہ بن عمر سے) پوچھا کہ آپؓ نے انہیں جواب کیوں نہیں دیا؟ حضرت عبداللہ (بن عمر) نے کہا: میں نے قصد تو کیا تھا اور یہ کہنے لگا تھا کہ اس امر کے تم سے زیادہ حق دار وہ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر تم سے اور تمہارے باپ سے لڑائی کی مگر میں ڈر گیا کہیں ایسی بات نہ کہہ دوں جو جماعت میں پھوٹ ڈال دے اور خونریزی کا موجب ہو اور میرا مشورہ کچھ اور نہ سمجھ لیا جائے اور میں نے وہ نعمتیں یاد کیں جو اللہ نے جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب نے کہا: آپؓ محفوظ رہے اور بچائے گئے۔ یہ روایت محمود (بن غیلان) نے بھی عبدالرزاق سے نقل کی ہے۔ اس میں نَسْوَاتُھَا کی جگہ نَوْسَاتُھَا ہے۔