بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے یزید بن رومان سے، انہوں نے صالح بن خوات سے، انہوں نے ان لوگوں سے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ذات الرقاع کی جنگ میں شریک ہوئے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپؐ نے خوف کی نماز یوں پڑھائی کہ ایک گروہ آپؐ کے ساتھ صف بستہ کھڑا ہوا اور ایک دوسرا گروہ دشمن کے مقابل پررہا۔ آپؐ نے اس گروہ کو جو آپؐ کے ساتھ تھا ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپؐ کھڑے ہوگئے اور اس نے اپنے طور پر دوسری رکعت پڑھ کر نماز ختم کی۔ پھر (یہ لوگ) فارغ ہوکر چلے گئے اور دشمن کے مقابل پر صف بستہ کھڑے ہوئے اور دوسرا گروہ آیا اور آپؐ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو کہ آپؐ کی نماز سے باقی تھی۔ پھر آپؐ بیٹھ رہے اور انہوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت پڑھ کر (نماز) ختم کی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گیا۔ ہم دشمن کے آمنے سامنے ہوئے۔ ہم ان کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب (بن ابی حمزہ) نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سنان (بن ابی سنان) اور ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابرؓ نے (ان کو) بتایا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف چڑھائی کی۔
اور ابوزبیرنے کہا: حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نخل مقام میں تھے اور آپؐ نے وہاں نمازِ خوف پڑھائی۔ اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ نجد میں نمازِ خوف پڑھی بحالیکہ حضرت ابوہریرہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غزوۂ خیبر کے ایام میں آئے تھے۔
(تشریح)اور معاذ (بن ہشام) کہتے تھے کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے حضرت جابرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نخل میں تھے ۔ پھر حضرت جابرؓ نے نمازِ خوف کا ذکرکیا۔ مالک نے کہا: یہ سب سے عمدہ روایت ہے جو مَیں نے نمازِ خوف سے متعلق سنی۔ (معاذ بن ہشام کی طرح) لیث (بن سعد) نے بھی بتایا۔انہوں نے ہشام (بن سعد مدنی) سے، انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بنی انمار میں یہ نماز پڑھائی۔
مسدد نے ہم سے بیان کہ یحيٰ بن سعید بن قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحيٰ بن سعید انصاری سے، یحيٰ نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے صالح بن خوات سے، صالح نے حضرت سہل بن ابی حثمہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:امام قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اور لوگوں میں سے ایک گروہ اس کے ساتھ ہو اور ایک گروہ دشمن کی طرف۔ ان کے منہ دشمن کی طرف ہوں۔ پھر امام ان لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ہیں ایک رکعت پڑھائے ۔ پھر وہ کھڑے ہوں اور اپنے طور پر ایک اور رکعت پڑھیں اور اپنی جگہ دو سجدے کریں۔ پھر یہ لوگ ان کی جگہ پر چلے جائیں اور وہ (دوسرے) آجائیں۔ اور امام ان (دوسروں) کو ایک رکعت پڑھائے تو اس کی دو رکعتیں ہوگئیں۔ پھر اس کے بعد یہ لوگ دوسری رکعت پڑھیں اور دو سجدے کریں۔مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے،انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے صالح بن خوات سے، صالح نے حضرت سہل بن ابی حثمہؓ سے، حضرت سہلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی۔(اور) محمد بن عبیداللہ نے مجھ سے بیان کیا (کہا) کہ ابن ابی حازم نے مجھے بتایا: انہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے قاسم (بن محمد) سے سنا کہ صالح بن خوات نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہلؓ (بن ابی حثمہ) سے روایت کی کہ انہوں نے اپنی وہی بات ان سے بیان کی۔
مسدد نے ہمیں بتایا (کہا) کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک کو نماز پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل رہا۔ پھر یہ گروہ فارغ ہوکر لوٹ گیا اور اپنے ساتھیوں کی جگہ پر کھڑا ہوگیا ۔ وہ آئے اور آپؐ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت پوری کی اور پھر دوسرے کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت انہوں نے پوری کی۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَوٹے تو وہ بھی ان کے ساتھ لَوٹے۔ آپؐ کو اتفاق سے دوپہر کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے۔ رسول اللہ ﷺ اُترپڑے اور لوگ ان درختوں میں اِدھر اُدھر بکھرگئے تاکہ سایہ میں بیٹھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیکر کے درخت کے نیچے ڈیرا کیا۔ آپؐ نے اس سے اپنی تلوار لٹکا دی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: کچھ ہم سوئے۔ پھر کیا سنتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں بلا رہے ہیں۔ہم آپؐ کے پاس آئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار سونت لی اور میں سویا ہوا تھا، میں جو جاگا ت تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں ننگی تھی۔اس نے مجھ سے پوچھا: کون تمہیں مجھ سے بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔ یہ دیکھو وہ بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سزا نہ دی۔
اور ابان (بن یزید) نے کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوسلمہ(بن عبدالرحمٰن) سے، ابو سلمہ نے حضرت جابرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ ذات الرقاع میں تھے کہ اتنے میں ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس پہنچے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ چھوڑ دیا، اتنے میں مشرکوں میں سے ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے اس کو سونت لیا اور آپؐ سے کہنے لگا: مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپؐ نے اس سے فرمایا: نہیں۔ کہنے لگا: پھر کون مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس کو دھمکایا۔ اور نماز کی تکبیر ہوئیتو آپؐ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپؐ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ نبی ﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو۔اور مسدد نے کہا: انہوں نے ابوعوانہ سے، ابوعوانہ نے ابوبشر سے روایت کی کہ اس شخص کا نام غورث بن حارث تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ میں محارب خصفہ سے مقابلہ کیا تھا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، ربیعہ نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے، انہوں نے ابن محیریز سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں مسجد نبوی میں گیا اور وہاں حضرت ابوسعید خدریؓ کو دیکھا۔ میں ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور اُن سے عزل کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے۔ عربوں کے قیدیوں میں سے کچھ قیدی ہمیں غنیمت میں ملے۔ عورتوں کی ہم نے خواہش کی اور عورتوں سے علیحدگی ہمارے لئے مشکل ہوگئی اور ہم نے یہ پسند کیا کہ عزل کریں چنانچہ ہم نے عزل کرنا چاہا اور ہم نے کہا کہ یہ نامناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان ہوں اور آپؐ سے پوچھے بغیر ہم عزل کریں۔ چنانچہ ہم نے اس کے متعلق آپؐ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کیا حرج ہے کہ تم ایسا نہ کرو۔ جو بھی جان قیامت تک ہونے والی ہے وہ تو ضرورہی ہوکر رہے گی۔