بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
محمود (بن غیلان) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کے لئے نکلے۔ جب ظہر کا وقت ہوا تو آپؐ وادی میں گئے جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے۔آپؐ ایک درخت کے نیچے اُترے اور اس کے سایہ میں ٹھہرے اور اپنی تلوار لٹکائی اور لوگ بھی اِدھر اُدھر آرام کرنے کے لئے منتشر ہوگئے۔ ہم سایہ میں آرام ہی کررہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلایا۔ ہم آئے ،کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدوی آپؐ کے سامنے بیٹھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ میرے پاس آیا اور میں سو رہا تھا، اس نے میری تلوار سونت لی۔ میں جاگ پڑا۔ یہ میرے سر پر ننگی تلوار سونتے کھڑا تھا۔ کہنے لگا: کون مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔ اس نے تلوار نیام میں کرلی، پھر بیٹھ گیا۔ سو وہ یہ ہے۔ حضرت جابرؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسے سزا نہ دی۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن عبداللہ بن سراقہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے غزوۂ انمار میں نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ اپنی اونٹنی پر بیٹھے نفل پڑھ رہے ہیں۔ آپؐ نے مشرق کی طرف منہ کیا ہوا تھا۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا۔ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودنے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ جب بہتان والوں نے ان کی نسبت جو کہا سو کہا اور ان میں سے ہر شخص نے مجھ سے ان کی بات کا ایک حصہ بیان کیا اور بعض ان کی بات بعض سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے اور انہوں نے اس واقعہ کو عمدگی سے نہایت ضبط کے ساتھ بیان کیا اور میں نے بھی ان میں سے ہر شخص کی بات جو اُس نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتائی، یاد رکھی ہے اور ان میں سے ایک کا قول دوسرے کی تائید کرتا تھا، اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ یاد رکھنے والا تھا۔ یہ سب کہتے تھے: حضرت عائشہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے نام قرعہ ڈالتے۔ پھر جس کا نام نکلتا، اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: ایک غزوہ کے لئے آپؐ نکلے اور آپؐ نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو اس میں میرا نام نکلا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ مجھے ہودے میں بٹھا کر ہودہ اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا اور اسی طرح اُتاری جاتی تھی۔ ہم سفر کرتے رہے یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہوئے اور لوٹتے ہوئے ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے ایک رات کوچ کرنے کا اعلان فرمایا۔ جب انہوں نے اعلان کیا تو مَیں اُٹھی اور قضائے حاجت کے لئے اتنی دور چلی گئی کہ فوج سے آگے نکل گئی۔ جب میں حاجت رفع کرکے کجاوے کی طرف آئی اور اپنے سینے کو چھؤا تو معلوم ہوا کہ میرا ہار جو ظفار کے نگینوں کا تھا، ٹوٹ کر کہیں گر گیا ہے۔ میں واپس لَوٹی اور اپنا ہار ڈھونڈھنے لگی۔اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا۔ کہتی تھیں: ادھر وہ لوگ آئے جو مجھے سوار کیا کرتے تھے۔ میرے ہودے کو اُٹھا کر اُس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ میں ہودے میں ہوں اور عورتیں ان دِنوں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، موٹی نہ ہوتی تھیں اور نہ پُرگوشت۔ تھوڑا ہی تو کھانا کھاتی تھیں اور لوگوں نے ھودے کو اُٹھا کر اونٹ پر رکھتے وقت اس کے ہلکے پن کو محسوس نہ کیا (وہ یہ نہیں سمجھے کہ میں ھودے میں نہیں ہوں) اور میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔انہوں نے اونٹ کو اُٹھایا اور چل دئیے اور اس کے بعد جب فوج گزر گئی تو مجھے اپنا ہار مل گیا۔ میں ان کے خیموں کی جگہ پر آئی۔ وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ جواب دینے والا۔ میں اپنی اس جگہ پر چلی گئی جس میں مقیم تھی۔ میں نے خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہ پائیں گے تو میرے پاس واپس لوٹ آئیں گے۔ میں اپنے ٹھکانے میں بیٹھی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور سو گئی اور صفوان بن معطل سُلمی ذکوانیؓ فوج کے پیچھے پیچھے رہا کرتا تھا، وہ جب میرے ٹھکانے کے قریب صبح کو پہنچا تو اس نے ایک سوئے ہوئے انسان کو دیکھا۔ اس نے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا اور پردہ کے حکم سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا تھا، جب اس نے مجھے پہچانا تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھا، جس سے میں جاگ پڑی۔ میں نے اپنی جلباب (اوڑھنی) سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا اور اللہ کی قسم! ہم نے بات نہ کی اور نہ میں نے اس کی کوئی بات سنی سوائے اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے کے۔ وہ اونٹ سے نیچے اُترا اور اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اونٹ کی اگلی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھا۔ میں اُٹھ کر اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہوگئی اور وہ اونٹنی کو آگے سے پکڑ کر روانہ ہوگیایہاں تک کہ ہم جلتی بھنتی دھوپ میں ٹھیک دوپہر کو لشکر میں پہنچ گئے۔ اس وقت لوگ (آرام کے لئے ) اُترے ہوئے تھے۔ کہتی تھیں: پھر اس واقعہ سے ہلاک ہوئے جو ہلاک ہوئے اور جس شخص نے بہتان میں بڑا حصہ لیا وہ عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول تھا۔ عروہ کہتے تھے: مجھے بتایا گیا ہے کہ عبداللہ بن اُبَیّ کے پاس اس قسم کی بات چیت ہوتی تو وہ اسے صحیح قرار دیتا اور کان لگا کر سنتا اور کھود کھود کر پوچھتا اور (اسی سند سے) عروہ نے یہ بھی کہا: بہتان باندھنے والوں میں سے اور کسی کا نام نہیں لیا گیا سوائے حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے۔ اسی طرح کچھ اور لوگوں کا بھی جن کا مجھے علم نہیں مگر وہ ایک ٹولی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا سرغنہ عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول تھا۔عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے پاس حضرت حسانؓ کو بُرا کہا جائے اور کہتی تھیں کہ حسانؓ ہی تو وہ شخص ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ شعر کہا ہے: میرا باپ اور میرا دادا اور میری آبرو سب کچھ محمدﷺ کی آبرو کے لئے سپر ہوں حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: ہم مدینہ میں پہنچے تو میں ایک مہینہ بیمار رہی اور لوگ افک والوں کے بہتان کی بابت اندھا دھند باتیں بناتے رہے۔ میں اس سے متعلق کوئی علم نہیں رکھتی تھی اور جو بات مجھے اپنی بیماری میں پریشان کرتی وہ یہ تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مہربانی جو اپنی بیماری کی حالت میں دیکھا کرتی تھی، نہیں دیکھتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یوں ہی آتے پھر سلام کرتے اور فرماتے: یہ کیسی ہے اور پھر چلے جاتے۔ سو یہ بات مجھے پریشان کرتی۔ اس وقت تک مجھے کسی شر کا علم نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے آفاقہ ہوا تو میں (قضائے حاجت کے لئے) باہر نکلی اور اُمّ مسطح کے ساتھ مَیں مناصع کی طرف گئی اور یہ ہمارے بول وبراز کی جگہ تھی اور ہم رات ہی کو نکلا کرتی تھیں اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کے قریب پاخانے بنائے۔ کہتی تھیں: اور قضائے حاجت میں ہماری حالت بھی ان عربوں کی سی تھی جو بیابان میں رہا کرتے تھے اور ہم پاخانوں سے تکلیف محسوس کرتے تھے کہ اپنے گھروں کے قریب انہیں بنائیں۔ کہتی تھیں: میں اور اُمّ مسطح گئیں اور یہ ابو رُہم بن مطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا۔ جب میں اور مسطح کی ماں اپنی حاجت سے فارغ ہوکر گھر کی طرف آرہے تھے، اتنے میں مسطح کی ماں اپنی اوڑھنی میں اُلجھ کر گرپڑیں اور بولیں: مسطح کا بُرا ہو۔ میں نے ان سے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا ہے؟ کیا ایسے آدمی کو بُرا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا تھا؟ کہنے لگیں: اے بھولی بھالی! ابھی تم نے سنا نہیں جو اُس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: کیا کہا ہے؟چنانچہ مسطح کی ماں نے افک والوں کا قصہ مجھے بتایا۔ کہتی تھیں: میری بیماری اور بڑھ گئی۔ جب میں اپنے گھر میں واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور پوچھا: یہ کیسی ہے؟ میں نے آپؐ سے کہا: کیا آپؐ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے ماں باپ کے پاس جاؤں؟ کہتی تھیں: اور میں چاہتی تھی کہ جاکر اُن سے معلوم کروں۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی ماں سے کہا: لوگ کیا باتیں کررہے ہیں؟ کہنے لگیں: بیٹی معمولی بات ہے پروا نہ کرو۔ اللہ کی قسم! بہت ہی کم ہوا ہے کہ کبھی کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو، اس کی سوکنیں بھی ہوں اور وہ اس کے متعلق بہت کچھ نہ کہتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا بہتان تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ کہتی تھیں: میں ساری رات صبح تک روتی رہی۔ میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی اور اس کے بعد صبح کو بھی روتی رہی۔ کہتی تھیں: جب وحی رُک گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالبؓ اور اسامہ بن زیدؓ کو بلایا۔ ان سے اپنی اہلیہ(حضرت عائشہؓ) کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کرنے لگے۔ اسامہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علم کے مطابق وہ مشورہ دیا جو آپؐ کی اہلیہ کو تہمت سے بَری ٹھہرانے والا تھا اور اسامہ نے کہا: وہ آپؐ کی زوجہ ہیں اور ہم ان میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے اور علیؓ نے کہا: اللہ نے آپؐ پر کوئی تنگی نہیں کی۔ عورتیں اس کے سوا بہت ہیں اور خادمہ(بریرہؓ) سے پوچھئے، آپؐ سے سچ کہے گی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہؓ کو بلایا۔ آپؐ نے پوچھا: بریرہؓ! کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو؟ بریرہؓ کہنے لگی: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اُن کی کبھی کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کو میں معیوب سمجھتی ہوں سوا اس کے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، اپنے گھر والوں کا گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں، گھر کی بکری آتی ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ آپؐ نے عبداللہ بن اُبَیّ سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور آپؐ اس وقت منبر پر تھے۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! کون میرا اِنصاف کرے گا؟ ایسے شخص کے متعلق جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس نے میری اہلیہ کو دُکھ دیا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے اپنی اہلیہ سے متعلق یہی علم ہے کہ وہ اچھی ہے اور میں اپنی اہلیہ میں بھلائی ہی دیکھتا ہوں اور انہوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا جس کے متعلق مجھے بھی علم ہے کہ وہ اچھا ہے اور میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی جایا کرتا تھا۔ یہ سنتے ہی سعد بن معاذؓ جو بنی عبدالاشہل میں سے تھے، کھڑے ہوگئے۔ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں آپؐ کا انصاف کروں گا۔ اگر وہ اَوس سے ہوا، اُس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو جو حکم آپؐ دیں گے ہم بجالائیں گے۔ کہتی تھیں: یہ سن کر خزرج سے ایک شخص اُٹھا اور حسانؓ کی ماں اسی گود سے اس کی چچا زاد بہن تھی اور وہ سعد بن عبادہؓ سردار خزرج تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ وہ اس سے پہلے اچھے آدمی تھے لیکن قومی پچ نے اُن کو اُکسایا۔ وہ سعدؓ سے کہنے لگے: اللہ کی قسم! تم نے غلط کہا ہے۔ تم اس کو نہیں مار سکو گے اور نہ قتل کرسکتے ہو۔ اگر تمہاری قوم سے ہوتا تو کبھی پسند نہ کرتے کہ مارا جائے۔ یہ سن کر اُسَید بن حُضَیرؓ کھڑے ہوئے اور وہ سعد (بن معاذؓ) کے چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے سعد بن عبادہؓ سے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور ماریں گے، تم منافق ہو، منافقوں کی طرف سے جھگڑتے ہو۔ کہتی تھیں: اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اُٹھے۔ یہاں تک کہ وہ لڑنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے تھے۔ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ ان کے جوشوں کو دباتے رہے۔ آخر وہ چپ ہوگئے اور آپؐ بھی خاموش ہو رہے۔ کہتی تھیں: میں تو سارا دِن روتی رہی۔ میرے آنسو تھمتے نہ تھے اور نہ مجھے نیند آتی۔ کہتی تھیں: میرے ماں باپ بھی میرے پاس رہے اور میں دو راتیں اور ایک دن تنہائی میں روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ اس اثناء میں کہ میرے ماں باپ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اسے اجازت دی۔ وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی۔ کہتی تھیں: ابھی ہم اس حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آگئے۔ آپؐ نے السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے۔ کہتی تھیں: جب سے کہ بہتان باندھا گیا تھا کبھی میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپؐ ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے مگر آپؐ کو میرے معاملہ کی نسبت کوئی وحی نہ ہوئی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھے، کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر فرمایا: عائشہ! دیکھو تمہارے متعلق یہ یہ بات پہنچی ہے۔ سو اگر تم بری ہو تو اللہ ضرور بری کرے گا اور اگر تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو اللہ سے استغفار کرو اور اسی کی طرف متوجہ ہو۔ کیونکہ بندہ جب خطا کا اِقرار کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر مہربانی کرتاہے۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرچکے۔ میرے آنسو یکایک ایسے بند ہوگئے کہ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ کرتی تھی۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپؐ نے فرمایا ہے میری طرف سے جواب دیں۔ میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ میں نے اپنی ماں سے کہا: آپؐ ہی رسول اللہ ﷺ کو اس کا جواب دیں جو آپؐ نے فرمایا ہے۔ میری ماں کہنے لگیں: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتی کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ اور میں اس وقت کم عمر لڑکی تھی، قرآنِ مجید زیادہ نہیں جانتی تھی۔ پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ آپ لوگوں نے ایسی بات سنی ہے یہاں تک کہ وہ آپ کے دلوں میں گڑ گئی ہے اور آپ نے اس کو سچا سمجھ لیا ہے، اس لئے اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بَری ہوں تو آپ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں آپ سے کسی بات کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بَری ہوں تو آپ مجھے سچا سمجھ لیں گے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے اور آپ کے لئے یوسف کے والد کی مثال کے سوا اور کوئی مثال نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کہا: صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے، اُن باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو۔ پھر میں ایک طرف ہوگئی اور بستر پر لیٹ گئی اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس وقت بَری تھی اور اللہ کو میری پاک دامنی کا اظہار کرنا ہی تھا لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ میرے لئے وحی نازل کرے گاجس کی تلاوت کی جائے گی۔ میری اپنی حیثیت میرے نزدیک اس سے کم تھی کہ اللہ تعالیٰ میری نسبت کلام کرتا لیکن میں یہ اُمید رکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے بَری قرار دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹھنے کی جگہ سے نہیں سِرکے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی نکلا تھا کہ اتنے میں آپؐ پر وحی نازل ہوئی اور آپؐ کو سخت تکلیف ہونے لگی جو آپؐ کو ہوا کرتی تھی یہاں تک کہ آپؐ کے جسم سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکنے لگا حالانکہ وہ سردی کا دن تھا بوجہ اس کلام کے جو آپؐ پر نازل کیا گیا۔ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ سے وہ حالت چلی گئی اور آپؐ مسکرا رہے تھے۔ پہلی بات جو آپؐ نے کہی وہ یہ تھی۔ عائشہ! اللہ نے تو تجھے بَری کردیا ہے۔ کہتی تھیں: میری ماں مجھے کہنے لگیں: اُٹھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ میں نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں تو ان کے پاس نہیں جاؤں گی کیونکہ میں اللہ عزو جل کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔ کہتی تھیں: اللہ نے یہ آیات نازل کیں: اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ …{یقینا ً وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے تم ہی میں سے ایک گروہ ہے… } دس آیتوں تک۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ وحی میری بریت میں اُتاری۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا- اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ قرابت و محتاجی خرچ دیا کرتے تھے، اللہ کی قسم! میں مسطح کو عائشہؓ پر اِفتراء کرنے کی وجہ سے خرچ نہیں دوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ {اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔ پس چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔} حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور درگزر فرمائے۔ چنانچہ وہ مسطح کو بدستور خرچ دینے لگے اور کہا: اللہ کی قسم! میں اس خرچ میں سے اس کو کبھی محروم نہیں کروں گا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحشؓ سے بھی میرے متعلق پوچھا تھا۔ زینبؓ سے کہا: تمہیں کیا علم ہے ؟یا (فرمایا:) تمہاری کیا رائے ہے؟ وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔ اللہ کی قسم! سوائے بھلائی کے مجھے کچھ علم نہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: یہی وہ تھیں جو نبی ﷺ کی ازواج میں سے میری برابری کیا کرتی تھیں مگر اللہ نے تقویٰ کی وجہ سے انہیں بچائے رکھا۔ کہتی تھیں: اور ان کی بہن حمنہ ان کی خاطر لڑنے لگ جایا کرتی تھی اور وہ ان لوگوں کے ساتھ جو ہلاک ہوئے، ہلاک ہوگئی۔ ابن شہاب کہتے تھے: یہ وہ حدیث ہے جو مجھے ان لوگوں کی روایتوں سے پہنچی ہے۔ پھر عروہ نے یہ بھی کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! اور وہ شخص جس کے متعلق بہتان باندھا گیا ہے، وہ کہتا تھا: سبحان اللہ، اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے پہلو کو برہنہ نہیں کیا۔ کہتی تھیں: پھر اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ہشام بن یوسف (صنعانی) نے مجھے اپنے حافظہ سے لکھوایا۔ کہا: معمر نے ہمیں بتایا: زُہری سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے: ولید بن عبدالملک نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علیؓ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اِتہام لگایا؟ میں نے کہا: نہیں۔ مگر تمہاری قوم کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں سے کہا کہ حضرت علیؓ ان کی نسبت تہمت تسلیم نہیں کرتے تھے۔ (ولید بن عبدالملک کے ساتھیوں نے) زُہری سے دوبارہ دریافت کیا تو وہ اپنی بات پر قائم رہے اور انہوں نے (اپنی روایت میں) لفظ مُسَلِّمًا ہی کہا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں اور ان پر بھی کوئی شک نہیں (یعنی کمزورئ حافظہ کی وجہ سے غیر ثقہ ہوں) بخاری کے پرانے اصل نسخے میں اسی طرح ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے ابووائل (شقیق بن سلمہ) سے، (ابووائل نے کہا کہ) مسروق بن اجدع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امّ رومان ؓنے مجھ سے بیان کیا اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ماں تھیں، کہتی تھیں: اسی اثناء میں کہ میں اور عائشہؓ بیٹھی تھیں، انصار کی ایک عورت اندر آئی، کہنے لگی: اللہ فلاں فلاں سے ایسا ایسا سلوک کرے۔ حضرت امّ رومانؓ نے کہا: کیوں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرا بیٹا بھی ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے یہ بات بیان کی۔ (حضرت امّ رومان) کہنے لگیں: وہ کیا بات ہے؟ کہنے لگی: ایسا ایسا کہتا ہے۔ عائشہؓ نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے بھی یہ بات سنی ہے؟ کہنے لگی: ہاں۔ عائشہؓ نے پوچھا اور ابوبکرؓ نے بھی؟ اس نے کہا: ہاں۔ عائشہؓ یہ سنتے ہی بے ہوش ہوکر گرپڑیں۔ ہوش میں آئیں تو انہیں لرزے کا بخار تھا۔ میں نے ان کے کپڑے اُن پر ڈال دئیے اور انہیں ڈھانپ دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپؐ نے پوچھا: اسے کیا ہے؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! اسے لرزے کا بخار ہوگیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: شاید اس بات کی وجہ سے جو اسے بتائی گئی ہے۔حضرت امّ رومانؓ کہتی تھیں: (میں نے کہا:) جی ہاں۔ عائشہؓ یہ بات سن کر بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں:اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں آپ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور کچھ کہوں تو میرا عذر قبول نہیں کریں گے۔ میری مثال اور آپ کی مثال یعقوب اور ان کے بیٹوں کی سی ہے’’ اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے ان باتوں پر جو تم کہتے ہو‘‘ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ لوٹ گئے اور آپؐ نے کچھ نہیں کہا۔ پھر اللہ نے ان کی بریت کے بارے میں وحی نازل کی۔ عائشہؓ (آنحضرت ﷺ سے) کہنے لگیں: اللہ ہی کا شکر ادا کرتی ہوں اور نہ کسی اور کا اور نہ آپؐ کا۔
یحيٰ (بن جعفر) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع بن عمر (بن عبداللہ) سے، نافع نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ سورۂ نور کی اس آیت کو یوں پڑھا کرتی تھیں: اِذْ تَلِقُوْنَہُ بِاَلْسِنَتِکُمْ اور کہتی تھیں کہ تَلِقُوْنَہُ- وَلْقٌ (یعنی جھوٹ ) سے ہے اور ابن ابی ملیکہ کہتے تھے: حضرت عائشہؓ اس بارے میں دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ یہ وحی انہی کی نسبت نازل ہوئی تھی۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہؓ کے سامنے حضرت حسانؓ کو بُرا بھلا کہنے لگا، وہ بولیں: اُن کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے اور حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: (حسانؓ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی ہجو کے لئے اجازت مانگی،آپؐ نے فرمایا: میرے خاندان کو کیسے بچاؤ گے؟ انہوں نے کہا: میں آپؐ کو اُن سے اس طرح نکالوں گا جیسے بال گوندھے ہوئے آٹے سے۔اور محمد (بن عقبہ امام بخاری کے شیخ) نے کہا کہ عثمان بن فرقد نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ہشام (بن عروہ) سے سنا: وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے انہوں نے کہا: میں نے حضرت حسانؓ کو بُرا بھلا کہا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عائشہؓ کے خلاف بہت کچھ باتیں کی تھیں۔
بشر بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور حضرت حسان بن ثابتؓ بھی موجود تھے اور شعر سنا رہے تھے۔ چند شعر بطور تشبیب سنا کر یہ شعر پڑھا: وہ پاکدامن ہیں، سنجیدہ ہیں اور ان پر کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور بے خطا ہیں۔ عورتوں کے گوشت سے وہ بھوکی رہتی ہیں (یعنی غیبت کرنے سے پاک ہیں۔) اس پرحضرت عائشہؓ نے حضرت حسانؓ سے کہا: مگر تم تو ایسے نہیں ہو۔ مسروق کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہؓ سے کہا: آپؐ نے ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ بحالیکہ اللہ نے فرمایا ہے: اور جس شخص نے ان میں سے اس امر میں زیادہ حصہ لیا ہے اس کو بہت بڑا عذاب ہوگا۔ کہنے لگیں: نابینا ہوجانے سے اور کونسا عذاب زیادہ سخت ہوگا۔ حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے، یا کہا: جواب میں کفار کی ہجو کرتے تھے۔
(تشریح)خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان بن بلال نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: صالح بن کیسان نے مجھے بتایا: انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہتے تھے: جس سال حدیبیہ کا واقعہ ہوا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ایک رات ہم پر بارش ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے ربّ نے کیا فرمایا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے کہا: اللہ نے فرمایا ہے: آج صبح میرے بندوں میں سے بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہوئے اور بعض انکار کرنے والے۔ جس نے یہ کہا کہ اللہ کی رحمت اور اللہ کی عطا اور اللہ کے فضل سے ہم پر بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے یہ کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرا انکار کرنے والا ہے۔