بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن کثیر) سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا، کہا: ہم حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپؐ کے صحابہؓ نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت مرداس (بن مالک) اسلمیؓ سے سنا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے آنحضرت
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازب)ؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور بلا شبہ فتح مکہ بھی فتح تھی اور ہم فتح بیعتِ رضوان کو سمجھتے ہیں جو غزوۂ حدیبیہ میں ہوئی۔ نبی ﷺ کے ساتھ ہم چودہ سو آدمی تھے اور حدیبیہ ایک کنواں تھا۔ ہم نے اس سے پانی کھینچنا شروع کیا۔ اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا۔ نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی آپؐ کنوئیں کے پاس آئے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ پھر آپؐ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور وضو کیا۔ پھر کلی کی اور دعا مانگی۔ پھر وہ پانی کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ اس نے جتنا ہم نے چاہا ہمیں اور ہمارے اونٹوں کو سیر کردیا اور ہم واپس ہوئے۔
فضل بن یعقوب نے مجھ سے بیان کیا کہ حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے ہمیں بتایا۔ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (سبیعی) نے ہم سے بیان کیا،انہوں نے کہا: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے ہمیں خبردی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حدیبیہ میں ایک ہزار چار سو یا کچھ زیادہ صحابہ تھے۔ وہ ایک کنویں پر اُترے اور اس کا سارا پانی کھینچ ڈالا۔ پھر وہ صحابہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو نبی ﷺ کنویں کے پاس آئے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے پھر فرمایا: اس کے پانی کا ڈول میرے پاس لاؤ چنانچہ وہ لایا گیا۔ آپؐ نے اس میں لعاب دہن ڈالا اور دعا کی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو ایک گھڑی کیلئے چھوڑ دو۔ پھر صحابہ نے اپنی ذات اور اپنی سواریوں کو خوب سیر کرکے وہاں سے کوچ کیا۔
یوسف بن عیسیٰ نے ہمیں بتایا کہ (محمد) بن فضیل نے ہم سے بیان کیا کہ حصین (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم (بن ابی الجعد) سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چھاگل تھی۔ آپؐ نے اس سے وضو کیا۔ پھر لوگ آپؐ کی طرف آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس پانی نہیں کہ جس سے وضو کریں اور پینے کیلئے بھی نہیں مگر وہی جو آپؐ کی چھاگل میں ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس چھاگل پر رکھا۔ پانی آپؐ کی انگلیوں میں سے چشموں کی طرح پھوٹنے لگا۔ کہتے تھے: ہم نے پیا اور وضو کیا۔ میں نے حضرت جابرؓ سے پوچھا: آپؓ اس دن کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے توپانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔ ہم پندرہ سو تھے۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، سعید نے قتادہ سے روایت کی، (وہ کہتے تھے:) میں نے سعید بن مسیب سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ ان لوگوں کا شمار (جو حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے) چودہ سو کرتے تھے۔ سعید نے مجھے کہا کہ حضرت جابرؓ نے مجھ سے کہا کہ وہ پندرہ سو تھے جنہوں نے حدیبیہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ابوداود (طیالسی) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ (انہوں نے کہا:)ہم سے قرہ (بن خالد) نے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ (اور) محمد بن بشار نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ (انہوں نے کہا:) ابوداؤد (طیالسی) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے کہا:میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ہم سے فرمایا: تم ساری زمین والوں میں سے بہتر ہو اور ہم ایک ہزار چار سو تھے۔ (حضرت جابرؓ کہتے تھے:) اگر آج میری بینائی صحیح ہوتی تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا (جہاں بیعت رضوان ہوئی۔) (سفیان کی طرح) اعمش نے بھی یہ روایت نقل کی۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت جابرؓ سے سنا کہ وہ چودہ سو تھے۔
اور عبیداللہ بن معاذ نے کہا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہمانے مجھ سے بیان کیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے ایک ہزار تین سو تھے اور اَسلم (قبیلہ) مسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھا۔ (عبیداللہ بن معاذ کی طرح) محمد بن بشار نے بھی یہ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوداؤد (طیالسی) نے بھی بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے مروان (بن حکم) اورحضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے روایت کی، دونوں نے کہا: جس سال حدیبیہ کا واقعہ ہوا نبی ﷺ ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہ کو لے کر نکلے جب آپؐ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپؐ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور (اس کی کوہان پر) نشان لگایا اور وہیں سے احرام باندھا۔ (علی بن عبداللہ مدینی کہتے تھے کہ) میں نہیں گنا سکتا کہ کتنی بار میں نے یہ بات سفیان سے سنی ہے، میں نے سفیان کو یہ بھی کہتے سنا: زُہری سے مجھے یہ بات یاد نہیں کہ انہوں نے نشان لگانے اورہار پہنانے کا ذکر کیا ہو، اس لئے میں بھی نہیں جانتا کہ نشان لگانے اور ہار ڈالنے سے یا اس ساری بات سے کیا مراد تھی۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے مروان (بن حکم) اورحضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے روایت کی، دونوں نے کہا: جس سال حدیبیہ کا واقعہ ہوا نبی ﷺ ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہ کو لے کر نکلے جب آپؐ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپؐ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور (اس کی کوہان پر) نشان لگایا اور وہیں سے احرام باندھا۔ (علی بن عبداللہ مدینی کہتے تھے کہ) میں نہیں گنا سکتا کہ کتنی بار میں نے یہ بات سفیان سے سنی ہے، میں نے سفیان کو یہ بھی کہتے سنا: زُہری سے مجھے یہ بات یاد نہیں کہ انہوں نے نشان لگانے اورہار پہنانے کا ذکر کیا ہو، اس لئے میں بھی نہیں جانتا کہ نشان لگانے اور ہار ڈالنے سے یا اس ساری بات سے کیا مراد تھی۔