بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا۔ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ سعید (بن ابی سعید مقبری) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: جب خیبر فتح کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری تحفۃً بھیجی گئی جو زہرآلود تھی۔
(تشریح)پھر ہم نے حضرت عائشہؓ کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: امّ المؤمنین! کیا آپؓ نہیں سنتیں کہ ابوعبدالرحمٰن کیا کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے، ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر ابن عمرؓ اس میں موجود تھے اور آنحضرت ﷺ نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کی۔ انہوں نے (عبداللہ) بن ابی اوفیٰ سے سنا۔ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آنحضرت ﷺ کو اپنی آڑ میں لئے ہوئے مشرکوں اور اُن کے جوشیلے نوجوانوں سے بچارہے تھے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دیں۔
محمد(بن سلام) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، سفیان نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ اور صفاومروہ کے درمیان محض اس لئے دوڑے تھے کہ آپؐ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ وُہَیب نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہؓ سے نکاح کیا اور آپؐ اس وقت احرام کی حالت میں تھے اور رخصتانہ جو اُن سے ہوا تو اُس وقت آپؐ احرام کھول چکے تھے اور حضرت میمونہ (٥١ ھ میں) سرف مقام میں ہی فوت ہوئیں۔
مسدد(بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ سفیان بن سعید (ثوری) نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ (بن زیدؓ) کو ایک فوج کا امیر مقرر کیا۔ لوگوں نے ان کی امارت پر طعنہ زنی کی، آپؐ نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر طعنہ زنی کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! یقیناً وہ امارت کے لائق تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت ہی پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد اُن لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت ہی پیارےہیں۔
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت براء (بن عازب) ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ نے ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپؐ کو مکہ میں داخل ہونے دیں۔ آخر آپؐ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ آپؐ (آئندہ سال عمرہ کو آئیں گے اور) یہاں (مکہ میں) تین دن تک ٹھہریں گے۔ جب صلح نامہ لکھنے لگے تو یوں لکھا کہ یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے صلح کی۔ (مکہ والے) کہنے لگے: ہم اس (مقام) کو نہیں مانتے۔ اگر ہم جانتے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں، آپؐ کو کبھی نہ روکتے۔ بلکہ آپؐ محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں آپؐ (کے خطاب) کو کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے لکھا ہوا کاغذ لے لیا اور آپؐ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے تھے۔ آپؐ نے یوں لکھا: یہ وہ شرطیں ہیں جو محمد بن عبداللہ نے ٹھہرائیں۔ مکہ میں کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے، سوائے تلواروں کے جو نیاموں میں ہوں گی اور مکہ والوں میں سے کسی کو بھی ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اگر چہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں روکیں گے اگروہ مکہ ٹھہرنا چاہے۔ (خیر جب اس معاہدہ کے مطابق) آپؐ (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوئے اور (تین دن کی) مدت ختم ہوگئی تو قریش حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے ساتھی (محمد ﷺ) سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں۔ کیونکہ مقررہ مدت گزر چکی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ حضرت حمزہؓ کی بیٹی آپؐ کے پیچھے آئی جو پکار رہی تھی کہ اے چچا! اے چچا! حضرت علیؓ نے جاکر اسے لے لیا۔ اس کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو لے لیں۔ انہوں نے اس کو سوار کر لیا ۱ ۔ اب حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت جعفرؓ (حضرت حمزہؓ کی) لڑکی کی بابت جھگڑنے لگے۔حضرت علیؓ کہنے لگے: میں نے اس کو لیا ہے اور میرے چچا کی بیٹی ہے اور حضرت جعفرؓ نے کہا: میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اور حضرت زیدؓ نے کہا: میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خالہ کے پاس رہے اور فرمایا: خالہ بمنزلہ ماں ہے اور حضرت علیؓ سے کہا: تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں اور حضرت جعفرؓ سے کہا: تم صورت اور سیرت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو اور حضرت زیدؓ سے کہا: تم ہمارے بھائی ہو اور دوست ہو۔ حضرت علیؓ نے کہا: کیا آپؐ حمزہؓ کی بیٹی سے شادی نہیں کرلیتے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے۔ (میں اس کا چچا ہوں۔)
محمد بن رافع نے مجھ سے بیان کیا کہ سُریج (بن نعمان) نے ہمیں بتایا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور محمد بن حسین بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ فُلَیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی نیت کرکے (مدینہ سے) نکلے۔ مگر کفار قریش آپؐ کے اور بیت اللہ کے درمیان روک بنے۔ آپؐ نے حدیبیہ میں اپنی قربانی ذبح کردی اور اپنا سر مُنڈایا اور اُن سے یہ ٹھہرایا کہ آپؐ آئندہ سال عمرہ کریں گے اور سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے اور آپؐ مکہ میں صرف اتنا عرصہ ٹھہریں گے جتنا وہ چاہیں گے۔ چنانچہ آپ آئندہ سال عمرہ کی نیت سے آئے اور مکہ میں اسی طرح داخل ہوئے جس طرح کہ آپؐ نے ان سے صلح کی تھی۔ جب آپ نے اس میں تین دن قیام فرمایا تو قریش نے آپؐ کو (مکہ سے) جانے کے لئے کہا اور آپؐ (مکہ سے) واپس چلے گئے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد (نبوی) میں گئے۔ کیا دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہؓ کے گھر کے پاس بیٹھے ہیں اور عروہ نے (اُن سے) پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا: چار، ان میں سے ایک رجب میں تھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے جو زید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے،ا یوب نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ (مکہ میں عمرہ کے لئے) آئے تو مشرک کہنے لگے: کچھ نمائندے تمہارے پاس آرہے ہیں جن کو یثرب کے بخار نے ناتواں کردیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا کہ وہ تین دوڑیں تو دوگام رفتار سے طے کریں اور دونوں رکنوں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان معمولی چال سے چلیں اور تمام دوڑیں آپ نے دوگام رفتار سے چلنے کا حکم نہیں دیا تو محض ان پر شفقت کی وجہ سے، (مبادا انہیں تکلیف ہو۔) اور (حماد) بن سلمہ نے ایوب سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے یہ (بات) مزید بیان کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کہ جس میں آپؐ نے امن کا عہد کیا تھا۔ (مکہ میں)آئے۔ آپؐ نے فرمایا: دوگام رفتار سے چلو کہ مشرک تمہاری قوت دیکھیں اور مشرک اس وقت قعیقعان پہاڑ کی سمت تھے۔