بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
مجھ سے عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بیان کیا، (کہا:) ہم سے ہشام (بن یوسف صنعانی) نے کہا کہ معمر (بن راشد) نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی, کہتے تھے: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے مالوں سے عطا کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار میں سے بعض کہنے لگے: اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے۔ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظرانداز کردیا ہے حالانکہ ہماری تلواریں اُن کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ حضرت انس کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کی اس بات کا ذکر ہوا تو آپؐ نے انصار کو بلا بھیجا۔ان کو چمڑے کے ایک بڑے خیمے میں اکٹھا کیا اور اُن کے ساتھ اور کسی کو نہ بلایا۔ جب وہ سب اکٹھے ہوگئے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے متعلق پہنچی ہے؟ انصار میں سے جو سمجھ دار لوگ تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے بڑے لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور جو ہم میں سے کم سن لوگ ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے: اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے, قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں اُن کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو حال میں مسلمان ہوئے ہیں۔ میں اُن کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تمہیں پسند نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جاؤ؟ کیونکہ اللہ کی قسم جس کو تم لے کر لَوٹ رہے ہو، وہ بہتر ہے اُن مالوں سے جن کو وہ لے کرلَوٹیں گے۔ انصار نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوش ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: عنقریب تم بہت خودغرضی پاؤ گے۔ تو تم اس وقت تک کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملو، صبر کئے رہنا۔ میں حوض پر ہوں گا۔ حضرت انس کہتے تھے: مگر انہوں نے صبر نہ کیا۔
ابونعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد (بن زید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح (یزید بن حمید) سے, انہوں نے حضرت انس سے روایت کی, کہا: جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے درمیان غنیمتیں تقسیم کیں۔ انصار ناراض ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کرجاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی یا (فرمایا:) پہاڑی راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی یا اُن کے راستے پر ہی چلوں گا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) ازہر (بن سعد سمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے, عبداللہ نے ہشام بن زید بن انس سے, انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا تو ہوازن سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے اور وہ لوگ بھی تھے جن کو آپؐ نے احسان کرکے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے پیٹھ پھیر دی۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! حاضر ہیں اور آپؐ کی خدمت کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔ ہم آپؐ کے سامنے موجود ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اُتر پڑے اور آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مشرک شکست کھا کر بھاگ گئے۔ آپؐ نے ان لوگوں کو جنہیں احسان کرکے چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو تو مالِ غنیمت دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار باتیں کرنے لگے اور آپؐ نے ان کو بلایا، پھر انہیں ایک بڑے خیمے میں لے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جاؤ؟ نبی صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسرے راستے پر چلیں تو میں ضرور انصار کے راستے کو ہی اختیار کروں گا۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو قریش زمانہ جاہلیت سے قریب بعہد ہیں اور ابھی ابھی مصیبت سے نکلے ہیں اور میں نے چاہا کہ ان کے نقصان کی تلافی کروں اور ان کی تالیف قلب کروں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دُنیا لے کر لَوٹیں اور تم اپنے گھروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر لَوٹو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار پہاڑ کے راستہ پر چلیں تو میں ضرور انصار کی وادی یا (کہا:) انصار کے راستے پر ہی چلوں گا۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے, اعمش نے ابووائل سے, ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے مال کی تقسیم کی تو انصار میں سے ایک شخص بولا: آپؐ نے اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی نہیں چاہی۔ یہ سن کر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو میں نے بتایا۔ آپؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر فرمایا: موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دئیے گئے، پر انہوں نے صبر کیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے, انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مقدم کیا۔ اقرع (بن حابس) کو ایک سو اونٹ دیئے اور عُیَینہ (بن حصن) کو بھی اتنے ہی اونٹ اور چند اور لوگوں کو بھی دیا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص بولا: اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی نہیں چاہی گئی۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے تھے:) میں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا, (کہا:) معاذ بن معاذ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک سے, ہشام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا, ہوازن اور غطفان وغیرہ قبیلے اپنے مویشی اور اپنے بال بچے لے کر اُمڈ آئے اور نبی صلی ا للہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے۔ کچھ ان لوگوں میں سے وہ بھی تھے جن کو آپؐ نے احسان کرکے چھوڑ دیا تھا۔ وہ سب آپؐ کو چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگ نکلے۔ یہاں تک کہ آپؐ اکیلے رہ گئے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے اس دن دو آوازیں دیں۔ انہیں آپس میں ملایا نہیں۔ پہلے آپؐ نے دائیں طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: اے انصار کے لوگو ! انہوں نے کہا: یارسول اللہ! حاضر۔ آپؐ کو بشارت ہو ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپؐ نے بائیں طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: اے انصار کے لوگو! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حاضر اور آپؐ کو بشارت ہو۔ ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ آپؐ اس و قت ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ آپؐ اُتر پڑے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر مشرک شکست کھا کر بھاگ گئے۔ آپؐ نے اس دن بہت سی غنیمتیں حاصل کیں۔ آپؐ نے مہاجرین اور ان لوگوں میں جن کو احسان کرکے چھوڑ دیا تھا, بانٹ دیں۔ انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار کہنے لگے: جب کوئی سخت گھڑی ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت اوروں کو دی جاتی ہے۔ یہ خبر آپؐ کو پہنچی۔ آپؐ نے ان کو ایک بڑے خیمہ میں اکٹھا کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ کیا بات مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ وہ خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک پہاڑی راستے پر چلیں تو میں خود انصار کا راستہ اختیار کروں گا۔ ہشام نے یہ سن کر کہا: ابوحمزہ! آپؓ بھی اس وقت موجود تھے؟ انہوں نے کہا: اور میں کہاں آپؐ سے غائب ہوگیا تھا۔
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ (دوسری سند) اور نعیم (بن حماد) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زُہری نے سالم سے, سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا اور انہوں نے اُن کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اچھی طرح نہ کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور کہنے لگے: ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ اس پر حضرت خالدؓ نے ان کے آدمی قتل کرنے اور قید کرنے شروع کردیئے اور ہم میں سے ہر ایک شخص کو اُس کا اپنا ہی قیدی دے دیا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت خالدؓ نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے قیدی کو قتل کردے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو ہم نے آپؐ سے سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےہاتھ اُٹھائے اور آپؐ نے دو بار یہ فرمایا: اے اللہ! میں تیرے حضور بَری ہوں، اس فعل سے جو خالد نے کیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعد بن عبیدہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن (سلمی) سے, انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ فوج بھیجا اور انصار میں سے ایک شخص کو سردار مقرر کیا اور آپؐ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی فرمانبرداری کریں۔ایک دفعہ وہ (انصاری امیر) ناراض ہوا اور کہنے لگا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو حکم نہیں دیا کہ تم نے میری فرمانبرداری کرنی ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں, بے شک دیا ہے۔ تب اس نے کہا: میرے لئے جلانے کی لکڑیاں اکٹھی کرو۔ انہوں نے اکٹھی کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ اور انہوں نے آگ جلائی۔ پھر کہا: اس میں داخل ہوجاؤ۔ انہوں نے ارادہ کیا مگر وہ ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے: ہم آگ سے بھاگ کر نبیﷺکے پاس آئے تھے (کہ قیامت کے دن آگ سے بچیں۔) خیر وہ یہی کہتے رہے یہاں تک کہ آگ بجھ گئی اور انصاری امیر کا غصہ بھی فرو ہوگیا۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر اس میں داخل ہوتے تو قیامت تک نہ نکلتے؛ اور (فرمایا:) اطاعت تو معروف بات میں ہوتی ہے۔
(تشریح)