بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
سعید بن عُفَیر نے ہمیں بتایا, کہا: لیث بن سعد نے مجھ سے بیان کیا کہ عُقَیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ (دوسری سند) اور اسحاق (بن منصور) نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے ہمیں بتایا کہ محمد (بن مسلم) بن شہاب نے کہا اور عروہ بن زبیر خیال کرتے تھے کہ مروان (بن حکم) اور حضرت مسور بن مخرمہ دونوں نے اُن سے بیان کیا کہ جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہوکر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے آپؐ سے یہ درخواست کی تھی کہ اُن کے مال اور قیدی واپس کردیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: میرے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور مجھے سب سے پسندیدہ بات وہ لگتی ہے جو سچی ہو۔ اس لئے تم دو چیزوں میں سے ایک اختیار کر لو ۔ یا قیدی لے لو یا مال اور میں تمہارا انتظار کرتا رہا (تم نے دیر کر دی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لوٹے تو اُن کا دس سے کچھ اوپر راتیں انتظار کرتے رہے۔ جب اُن پر اچھی طرح واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو واپس کرنے کے نہیں مگر دو چیزوں میں سے صرف ایک چیز۔ تو کہنے لگے: پھر ہم اپنے قیدی ہی چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں (تقریر کے لئے) کھڑے ہوئے اور آپؐ نے پہلے اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اُن کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو تم میں سے یہ پسند کرے کہ خوشی سے اُن کو واپس کردے تو وہ کردے اور جو تم میں سے یہ پسند کرے کہ وہ اپنے حصہ پر ہی قائم رہے، اس شرط پر کہ ہم پہلی غنیمت سے جو اللہ ہمیں عطا کرے گا اُس کو دیں تو ایسا ہی کرے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے خوشی سے منظور کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اس کے متعلق اجازت دی اور کس نے نہیں دی۔ اس لئے لوٹ جاؤ تاکہ تمہارے سربراہ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس پیش کریں۔ لوگ واپس چلے گئے۔ اُن کے سربراہوں نے اُن سے بات چیت کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور بتایا کہ انہوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے۔ یہ وہ خبر ہے جو مجھے ہوازن کے قیدیوں کی بابت پہنچی ہے۔
ابونعمان(محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے, انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ۔ (دوسری سند) اور محمد بن مقاتل نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔معمر نے ایوب (سختیانی) سے, انہوں نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب ہم حنین سے لوٹے تو حضرت عمر نے نبی ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی ہوئی تھی۔ یعنی اعتکاف بیٹھنے کی۔ نبی ﷺ نے وہ نذر پوری کرنے کے لئے اُن سے فرمایا۔ اور بعض نے اس روایت کی سند یوں بیان کی ہے کہ حماد نے ایوب سے, ایوب نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ اور جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے, ایوب نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر سے, حضرت ابن عمر نے نبی ﷺ سے اسے روایت کیا۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے, یحيٰ نے عمر بن کثیر بن افلح سے, انہوں نے حضرت ابوقتادہؓ کے غلام ابومحمد سے, انہوں نے حضرت ابوقتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس سال حنین کا واقعہ ہوا، ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان اِدھر اُدھر ہٹ گئے۔ تو میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اُس نے ایک مسلمان شخص کو قابو کیا ہوا ہے۔ میں نے اس کے پیچھے سے آکر اُس کے مونڈھے کی رَگ پر تلوار سے ضرب لگائی اور اُس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ وہ مجھ پر لپکا اور اس زور سے مجھے بازو میں لے کر دبایا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی۔ پھر موت نے اس کو آدبوچا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر سے جاملا۔ میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوگیاکہ وہ بھاگ نکلے۔ انہوں نے کہا: اللہ عزوجل کا یہی منشاء تھا۔ پھر مسلمان پلٹے اور نبی ﷺ بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے کسی کو مارا ہو، اس کے پاس اس کے متعلق ثبوت ہو تو اُس کا (سارا) سامان اُس کو ملے گا۔ میں نے کہا: میری گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ حضرت ابوقتادہ کہتے تھے: پھر نبی ﷺ نے ویسا ہی فرمایا۔ میں اُٹھا اور میں نے خیال کیا: میری گواہی کون دے گا؟ یہ خیال کرکے پھر بیٹھ گیا۔ کہتے تھے: پھر نبی ﷺ نے ویسا ہی فرمایا۔ پھر میں اُٹھا۔ آپؐ نے پوچھا: ابوقتادہ! تمہیں کیا ہے؟ میں نے آپؐ سے وہ واقعہ بیان کیا تو ایک شخص کہنے لگا: اس نے سچ کہا ہے اور اس کا غنیمت کا سازوسامان میرے پاس ہے۔ میری طرف سے (ابوقتادہؓ) کو (کچھ دے کر) راضی کردیں۔ حضرت ابوبکر نے یہ سن کر کہا: یہ تو ہرگز نہیں ہوگا۔ اللہ کی قسم! آنحضرت ﷺ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا سامان جو کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی طرف سے لڑتا رہا ہے، چھین کر تجھے نہیں دیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ابوبکر نے سچ کہا ہے، وہ سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ چنانچہ اس نے مجھے وہ سامان دے دیا۔ میں نے اُس سے بنی سلمہ کے محلہ میں کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد کے پیدا کیا تھا۔
اور لیث (بن سعد) نے کہا: یحيٰ بن سعید (انصاری) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عمربن کثیر بن افلح سے, عمر نے حضرت ابوقتادہ کے غلام ابومحمد سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ کہتے تھے: جب حنین کا واقعہ ہوا تو میں نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مشرک شخص سے لڑرہا ہے اور ایک اور مشرک ہے جو دھوکہ دے کر چپکے سے اس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کو مار ڈالے۔ یہ دیکھ کر میں اس شخص کی طرف جلدی سے لپکا جو ایک مسلمان پر اس طرح دھوکہ سے جھپٹنا چاہتا تھا۔ اُس نے مجھے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور میں نے اس کے ہاتھ پر وار کرکے اُس کو کاٹ ڈالا۔ اس کے بعد اُس نے مجھے پکڑلیا اور اس زور سے مجھے بھینچا کہ میں بے بس ہوگیا۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا۔ وہ ڈھیلا پڑ گیا اور میں نے اس کو دھکا دیا اور اس کو مار ڈالا۔ ادھر یہ حال ہوا کہ مسلمان شکست کھا کر بھاگ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ بھاگ گیا۔ پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے اُن سے کہا: لوگوں کو کیا ہوا (کہ بھاگ کھڑے ہوئے۔) انہوں نے کہا: اللہ کا منشاء۔ پھر لوگ لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مقتول کے متعلق یہ ثبوت پیش کر دے کہ اُس نے اُس کو قتل کیا ہے تو اُس مقتول کا سامان اُس کے قاتل کا ہوگا۔ میں اُٹھا کہ اپنے مقتول سے متعلق کوئی شہادت ڈھونڈوں مگر کسی کو نہ دیکھا جو میری شہادت دیتا اور میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا اور میں نے اُس مقتول کا واقعہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپؐ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر کرتے ہیں میرے پاس ہیں۔ آپؐ اُن ہتھیاروں کی بجائے ان کو (کچھ دے دلا کر) راضی کردیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا: ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آپؐ قریش کے ایک بجو کو تو سامان دلادیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لڑ رہا ہو۔ حضرت ابوقتادہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، آپؐ نے مجھے وہ سامان دلا دیا۔ میں نے اس سے کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خریدلیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد پیدا کیا۔
(تشریح)محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرَید بن عبداللہ سے, بُرَید نے ابوبردہ سے, انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) ؓ سے روایت کی, کہا: جب نبی ﷺ حنین سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے حضرت ابوعامر (اشعریؓ) کو ایک فوج کا سردار مقرر کرکے اوطاس کی طرف بھیجا۔ اُن کا دُرَید بن صمہ سے مقابلہ ہوا اور دُرَید مارا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔ حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) کہتے تھے: اور آپؐ نے مجھے بھی ابوعامرؓ کے ساتھ بھیجا۔ ابوعامرؓ کے گھٹنے میں تیر لگا، جس کو ایک جشمی شخص نے چلایا اور اس تیر کو اُن کے گھٹنے میں گاڑ دیا۔ میں اُن کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے کہا: چچا ! آپؓ کو کس نے تیر ماراہے؟ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ کو اشارہ کرکے بتایا کہ وہ (جشمی) میرا قاتل ہے جس نے مجھے تیر مارا ہے۔ میں اس کی طرف گیا اور اسے جا لیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے یہ کہتا جاتا تھا: شرم نہیں کرتے؟ ٹھہر کیوں نہیں جاتے؟ یہ سن کر وہ رُک گیا۔ ہم نے تلوار سے ایک دوسرے پر دو وار کئے اور میں نے اس کو مار ڈالا۔ پھر میں نے ابوعامرؓ سے کہا: اللہ نے آپؓ کے تیر مارنے والے کو قتل کروا ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا: اب اس تیر کو کھینچ کر نکالو۔ چنانچہ میں نے وہ نکال دیا۔ اس سے پانی پھوٹ نکلا۔ ابوعامرؓ کہنے لگے: میرے بھتیجے نبی ﷺ کو سلام کہنا اور ان سے کہیو کہ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ ابوعامرؓ نے مجھے لوگوں پر اپنا قائم مقام بنایا۔ تھوڑی دیر زندہ رہے پھر وفات پائی۔ میں لَوٹ آیا اور نبی ﷺ کے پاس آپؐ کے گھر گیا۔ آپؐ ایک باند کی چارپائی پر بیٹھے تھے اور اس پر کپڑا تھا۔ چارپائی کی باندھوں نے آپؐ کی پیٹھ اور پہلو میں نشان ڈال دیئے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐ سے اپنی اور ابوعامرؓ کی سرگزشت بیان کی اور (بتایا کہ) انہوں نے کہا تھا کہ آپؐ سے کہنا: میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ آپؐ نے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ پھر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور کہا: اے اللہ! عبید ابی عامر کی پردہ پوشی فرما اور اس سے درگزر کر اور (آپؐ نے اپنے ہاتھ اتنے اُٹھائے کہ) آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔ پھر آنحضرتﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اس کو قیامت کے دن اپنی بہت سی مخلوق یعنی لوگوں پر فوقیت دے۔ میں نے کہا: اور میرے لئے بھی مغفرت کی دعا کریں۔ آپؐ نے کہا: اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر کر اور قیامت کے دن اس کو بھی جنت میں ایسے طور سے داخل کر جو عزت کا داخل ہونا ہو۔ ابوبردہ نے کہا: ایک دعا حضرت ابوعامرؓ کے لئے اور دوسری حضرت ابوموسیٰ کے لئے کی۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حُمَیدی نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے سفیان (بن عُیَینہ) سے سنا۔ (کہتے تھے) کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے, انہوں نے حضرت ابوسلمہؓ کی بیٹی حضرت زینبؓ سے, حضرت زینبؓ نے اپنی ماں حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اندر آئے اور اس وقت میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا تھا۔ میں نے سنا کہ وہ عبداللہ بن ابی امیہؓ سے کہہ رہا تھا: عبداللہ دیکھو، اگر اللہ نے تمہیں کل طائف فتح کرا دیا تو تم غیلان کی بیٹی کو لے لینا کیونکہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو پیٹ پر چار شکن پڑتے ہیں اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ شکن پڑتے ہیں۔ (یہ بات سنی) تو نبی ﷺ نے فرمایا: آئندہ یہ لوگ تم عورتوں کے پاس ہرگز نہ آیا کریں۔ ابن عُیَینہ نے کہا: اور ابن جریج نے کہا: اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام سے مروی ہے کہ انہوں نے یہی بات بتائی اور انہوں نے اتنا زیادہ بیان کیا کہ آپؐ ان دنوں طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے, عمرو نے ابوالعباس شاعر سے جو اندھے تھے، روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور آپؐ نے ان کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ آپؐ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ (اب) لَوٹنے والے ہیں۔ یہ امر مسلمانوں پر شاقّ گزرا۔ کہنے لگے: ہم چلے جائیں اور اس کو فتح نہ کریں! اور ایک دفعہ راوی نے نَذْھَبُ کی بجائے نَقْفُلُ کا لفظ بیان کیا۔ یعنی ہم لَوٹ جائیں گے (اور طائف فتح نہیں کریں گے!) اس پر آپؐ نے فرمایا: جنگ صبح ہی شروع کردو۔ چنانچہ وہ دوسرے دن صبح لڑنے گئے تو مسلمان زخمی ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل لَوٹ جائیں گے۔ یہ سن کر لوگ خوش ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک بار یوں کہا کہ آپؐ مسکرائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: حمیدی کہتے تھے: سفیان (بن عُیَینہ) نے ہم سے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرَید بن عبداللہ سے, بُرَید نے ابوبردہ سے, انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ آپؐ جعرانہ میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، مقیم تھے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلال تھے۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: کیا آپؐ میرے لئے پورا نہیں کریں گے وہ وعدہ جو آپؐ نے مجھ سے کیا تھا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: تمہیں بشارت ہو۔ اس نے کہا: آپؐ نے مجھے بہت دفعہ کہا ہے, بشارت ہو۔ یہ سن کر آپؐ حضرت ابوموسیٰ اور حضرت بلال کی طرف متوجہ ہوئے جیسے کوئی ناراض ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے خوش خبری کو ردّ کردیا ہے، تم دونوں اس کو قبول کرلو۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے قبول کیا۔ پھر آپؐ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں کچھ پانی تھا۔ آپؐ نے اس سے اپنے دونوں ہاتھوں اور منہ کو دھویا اور کلّی کی اور فرمایا: تم دونوں اس سے پئیو اور اپنے منہ اور سینوں پر ڈالو اور تمہیں بشارت ہو۔ ان دونوں نے وہ پیالہ لیا اور ایسا ہی کیا۔ (اُمّ المؤمنین) حضرت امّ سلمہ نے پردہ کے پیچھے سے آواز دی: اپنی ماں کے لئے بھی کچھ بچا رکھنا۔ انہوں نے ان کو بھی اس میں سے بچا کر دیا۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن ابراہیم بن عُلیّہ) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ حضرت یعلیٰ کہا کرتے تھے: کاش کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ صفوان نے کہا: ایک بار جبکہ نبی ﷺ جعرانہ میں تھے اور آپؐ کے اوپر ایک کپڑا تھا، جس سے آپؐ کو سایہ کیا ہوا تھا۔ آپؐ کے ساتھ سائبان کے نیچے صحابہ میں سے بعض لوگ تھے۔ اتنے میں آپؐ کے پاس ایک اعرابی آیا جس نے ایک چوغہ پہنا تھا جو خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے ایسے چوغہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو جو خوشبو سے لتھڑا ہو؟ حضرت عمر نے حضرت یعلیٰ کو ہاتھ کا اشارہ کیا کہ اِدھر آؤ۔ حضرت یعلیٰؓ آئے اور انہوں نے بھی اپنا سر جو اُس (سائبان) کے اندر کیا تو کیا دیکھا کہ نبی ﷺ کا چہرہ سرخ ہے، آپؐ کے سانس کی آواز آ رہی تھی۔ ایک گھڑی یہی حال رہا۔ پھر اس کے بعد آپؐ سے وہ حالت جاتی رہی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جو مجھ سے عمرہ کے متعلق ابھی پوچھ رہا تھا؟ اس شخص کی تلاش کی گئی، اس کو لے آئے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ جو خوشبو تمہیں لگی ہوئی ہے اس کو تین بار دھو ڈال اور چوغہ اُتار دے۔ پھر اپنے عمرہ میں وہی کر جو اپنے حج میں تو کیا کرتا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) وُہَیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن یحيٰ سے روایت ہے۔ انہوں عباد بن تمیم سے, عباد نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ بن عاصم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حنین کے واقعہ میں غنیمت کا مال عطا فرمایا تو آپؐ نے ان لوگوں میں وہ بانٹ دیا جن کی تالیفِ قلب مقصود تھی اور انصار کو کچھ نہیں دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انصار نے اس کو محسوس کیا کہ انہیں وہ کچھ نہیں ملا جو لوگوں کو ملا ہے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے ان کو خطاب فرمایا اور کہا: اے انصارکی جماعت! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت دی اور تم پراگندہ تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہارے درمیان اُلفت پیدا کردی اور تم محتاج تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تم کو غنی کردیا۔ جب کبھی آپؐ کچھ فرماتے تو انصار کہتے: اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔ آپؐ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو جواب دینے سے تمہیں کیا بات روک رہی ہے؟ حضرت عبداللہ بن زید کہتے تھے: جب کبھی آپؐ کچھ فرماتے تو وہ کہتے: اللہ اوراس کے رسولﷺ نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو کہتے: آپؐ ہمارے پاس ایسی ایسی حالت میں آئے تھے۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ اونٹ بکریاں لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں نبی ﷺ کو لے کر جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ہی ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی یا پہاڑی راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی اور انہی کے پہاڑی راستے میں چلوں۔ انصار اَستر ہیں اور دوسرے لوگ اَبرہ۔ دیکھو عنقریب تم میرے بعد حق تلفی پاؤ گے۔ پس تم صبر سے رہنا۔ یہاں تک کہ تم مجھے حوضِ کوثر پر ملو۔