بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے عمارہ بن قعقاع بن شُبْرُمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ عبدالرحمٰن بن ابی نعم نے ہم سے بیان کیا, کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے سنا۔ کہتے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کی طرف سے ایک سونے کا چھوٹا سا ٹکڑا رنگے ہوئے چمڑے میں لپیٹ کر بھیجا جو طبعی حالت میں تھا, کندن نہیں ہوا تھا حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: آپؐ نے وہ ٹکڑا چار آدمیوں کے درمیان تقسیم کیا۔ عیینہ بن بدر, اقرع بن حابس, زید خیل(بن مہلہل) اور چوتھے علقمہ (بن علاثہ)یا عامر بن طفیل تھے۔ یہ دیکھ کر آپؐ کے صحابہ میں سے ایک شخص بولا: ان سے تو ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: جب یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے جبکہ میں اس (ذات) کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ صبح اور شام مجھے آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: اس پر ایک شخص کھڑا ہوا جس کی آنکھیں اندر گھسی ہوئی تھیں، دونوں رُخسار اوپر کو اُٹھے ہوئے تھے، پیشانی اُبھرئی ہوئی، داڑھی گھنی، سر منڈا ہوا، تہ بند اُٹھائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا: یارسول اللہؐ! اللہ سے ڈریں ۔ آپؐ نے فرمایا: تم پر افسوس۔ کیا زمین کے تمام لوگوں میں سے مَیں ہی زیادہ اس لائق نہیں ہوں کہ اللہ سے ڈروں؟ کہتے تھے: پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔ خالد بن ولیدؓ نے کہا: یارسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ خالدؓ نے کہا: کتنے ہی نمازی ہیں اپنی زبان سے وہ کچھ کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کو کریدوں اور لوگوں کے پیٹوں کو پھاڑوں۔ کہتے تھے: پھر آپؐ نے اسے دیکھا جبکہ وہ پیٹھ پھیر کے جارہا تھا تو فرمایا: اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی کتاب بڑے مزے سے پڑھیں گے، ان کے گلے کے نیچے سے آگے نہیں جائے گی دین سے وہ ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے گزر جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: اگر مَیں نے اُن کو پالیا تو مَیں اُن کو اس طرح قتل کروں گا جیسے ثمود قتل کئے گئے۔
مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی کہ عطاء (بن ابی رباح) نے کہا کہ حضرت جابرؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے (جب وہ یمن سے لَوٹ کر آئے) فرمایا کہ وہ اپنے احرام پر ہی قائم رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا: عطاء نے کہا کہ حضرت جابرؓ کہتے تھے: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جس غرض کے لئے گئے تھے پوری کرکے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا: علیؓ! تم نے کس کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر قربانی بھیج دو اور جیسے تم ہو ویسے ہی اپنے احرام پر رہو۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے لئے بھی اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید طویل سے روایت کی کہ بکر (بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ سے ذکر کیا کہ حضرت انسؓ نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ اسی کا احرام باندھا۔ جب ہم مکہ میں آئے، آپؐ نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی نہ ہو تو وہ حج کو عمرہ کر ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ اس اثناء میں حضرت علی بن ابی طالبؓ یمن سے حج کرنے کے لئے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کس کا احرام باندھا ہے؟ کیونکہ ہمارے ساتھ تمہارے گھر والے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی پر ٹھہرے رہو۔ ہمارے ساتھ بھی قربانی کا جانور ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید طویل سے روایت کی کہ بکر (بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ سے ذکر کیا کہ حضرت انسؓ نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ اسی کا احرام باندھا۔ جب ہم مکہ میں آئے، آپؐ نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی نہ ہو تو وہ حج کو عمرہ کر ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ اس اثناء میں حضرت علی بن ابی طالبؓ یمن سے حج کرنے کے لئے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کس کا احرام باندھا ہے؟ کیونکہ ہمارے ساتھ تمہارے گھر والے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی پر ٹھہرے رہو۔ ہمارے ساتھ بھی قربانی کا جانور ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہم سے بیان کیا کہ بیان (بن بشر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس (بن ابی حازم) سے, قیس نے حضرت جریرؓ (بن عبداللہ بجلی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک بت خانہ تھا جسے ذوالخلصہ، کعبہ یمانی اور کعبہ شامی کہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا ذوالخلصہ کو ختم کرکے تم مجھے اس کی طرف سے بے فکر نہیں کرو گے؟ یہ سن کر میں(اپنی قوم کے) ایک سو پچاس سوار لے کر چل پڑا۔ ہم نے وہ (بت خانہ) توڑ دیا اور جن کو اُس کے پاس پایا انہیں قتل کردیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو اس کی خبردی تو آپؐ نے ہمارے لئے اور احمس قبیلہ کے لئے دعا کی۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں خبردی کہ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا کہ قیس (بن ابی حازم) نے ہم سے بیان کیا۔ کہتے تھے: مجھ سے حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ کی طرف سے بے فکر نہیں کروگے؟ اور یہ خثعم قبیلہ میں بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانی کہتے تھے۔ میں احمس قبیلہ کے ایک سو پچاس سوار لے کر چل پڑا اور یہ سب شہسوار تھے اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھا کرتا تھا۔ آپؐ نے میرے سینہ میں (اتنے زور سے) ہاتھ مارا کہ میں نے اپنے سینہ میں آپؐ کی انگلیوں کے نشان دیکھے۔ آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کو (گھوڑے پر) مضبوطی سے بیٹھنے کی توفیق دے اور اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ چنانچہ حضرت جریرؓ ذوالخلصہ کی طرف چلے گئے اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور جلا دیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک آدمی بھیجا۔ حضرت جریرؓ کے ایلچی نے کہا: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپؐ کے پاس نہیں آیا جب تک کہ میں نے اس کو ایسے حال میں نہیں چھوڑا کہ جیسے خارشی اونٹ ہوتا ہے۔ حضرت جریرؓ کہتے تھے: یہ سن کر آپؐ نے احمس کے گھوڑوں اور اُس کے لوگوں کو پانچ بار برکت کی دعا دی۔
یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے, قیس نے حضرت جریرؓ (بن عبداللہ بجلی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ کی طرف سے بے فکر نہیں کروگے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ!) یہ کہہ کر میں احمس قبیلہ کے ایک سو پچاس سوار لے کر چل پڑا۔ یہ سب شہسوار تھے اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا۔ آپؐ نے میرے سینہ پر ہاتھ (اس زور سے) مارا کہ میں نے آپؐ کے ہاتھ کا نشان اپنے سینہ میں لگا دیکھا اور آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کو (گھوڑے پر) مضبوطی سے بیٹھنے کی توفیق دے اور اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ حضرت جریرؓ کہتے تھے: اس کے بعد میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ انہوں نے کہا: اور ذوالخلصہ یمن میں خثعم اور بجلیہ قبیلوں کا ایک معبد تھا جس میں بت رکھے ہوئے تھے، جنہیں پوجا جاتا تھا۔ لوگ اس کو کعبہ کہتے تھے۔ حضرت جریرؓ کہتے تھے: وہ وہاں آئے اور آگ سے اُسے جلادیا اور توڑ پھوڑ دیا۔ قیس کہتے تھے: جب حضرت جریرؓ یمن میں پہنچے وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال لیا کرتا تھا۔ اسے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیامبر یہاں ہے۔ اگر اُس نے تم پر قابو پالیا، تمہاری گردن اڑا دے گا۔ کہتے تھے: اسی اثناء میں کہ وہ تیروں سے فال نکال رہا تھا کہ حضرت جریرؓ اس کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور کہا: تمہیں ان کو توڑنا اور یہ اقرار کرنا ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ کہتے تھے: یہ سن کر اُس نے ان کو توڑ دیا اور (اللہ کی واحدانیت کا) اقرار کیا۔ پھر حضرت جریرؓ نے احمس قبیلہ کے ایک شخص کو جس کی کنیت ابوارطاہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپؐ کو ذوالخلصہ کے گرائے جانے کی بشارت دے۔ جب وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا, کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق دے کر بھیجا، میں نہیں آیا جب تک کہ اُس کو اس طرح نہیں چھوڑا جس طرح کہ خارشی اونٹ ہوتا ہے ۔ کہتے تھے: یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس کے گھوڑوں اور اس کے آدمیوں کے لئے پانچ بار دعا کی۔
(تشریح)اسحاق (بن شاہین)نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ (طحان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے, انہوں نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو ذات السلاسل کی فوج پر افسر مقرر کرکے بھیجا۔ حضرت عمروؓ کہتے تھے: جب میں آپؐ کے پاس (واپس) آیا تو میں نے آپؐ سے پوچھا: لوگوں میں سے آپؐ کو کون زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ۔ میں نے کہا: مردوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کا باپ ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: عمرؓ۔ اس کے بعد کئی شخصوں کو آپؐ نے شمار کیا۔ پھر میں چپ ہو رہا اس خوف سے کہ کہیں آپؐ مجھے سب لوگوں کے آخر نہ کر دیں۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے, اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے, قیس نے حضرت جریرؓ (بن عبداللہ بجلی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں یمن میں (سمندر کے قریب) تھا تو میں اہل یمن میں سے دو شخصوں یعنی ذوکلاع اور ذوعمرو سے ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مَیں ان سے بیان کرنے لگا تو ذوعمرو سن کر اُن سے کہنے لگا: اگر یہ صحیح ہے جو تو اپنے ساتھی کی نسبت بیان کرتا ہے تو اُن کی وفات پر تین دن گزر چکے ہیں اور وہ دونوں میرے ساتھ آئے۔ جب ہم نے کچھ راستے کو طَے کیا تو ایک قافلہ دور سے ہمیں دکھائی دیا جو مدینہ کی طرف سے آرہا تھا۔ ہم نے قافلہ والوں سے پوچھا۔ وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ مقرر ہوئے ہیں اور لوگ اچھے بھلے ہیں۔ یہ سن کر ذوالکلاع اور ذوعمرو دونوں نے کہا: تم اپنے ساتھی (حضرت ابوبکرؓ) کو خبردو کہ ہم یہاں تک آگئے تھے۔ اگر اللہ نے چاہا تو شاید ہم پھر آئیں گے اور وہ یمن کو لَوٹ گئے۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ کو اُن کا واقعہ بتایا۔ انہوں نے کہا: تم اُن کو لے کیوں نہ آئے؟ اس کے بعد جب کچھ مدت گزری, ذوعمرو نے مجھے کہا: جریرؓ مجھ پر تمہارا ایک احسان ہے اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں تم یعنی عرب کے لوگ ہمیشہ اچھے رہو گے جب تک کہ تم اس پر عمل کروگے۔ یعنی اگر کوئی امیر فوت ہو تو تم دوسرے کو امیر بناؤ گے اور جب تلوار سے امارت ہوگی تو ایسے بادشاہ ہوں گے جو بادشاہوں کی طرح غصہ کا اظہار کریں گے اور بادشاہوں کی طرح خوش ہوں گے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا, کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے وہب بن کیسان سے, وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اُن پر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو امیر مقرر فرمایا اور وہ تین سو تھے۔ ہم نکلے اور ابھی کچھ راستہ طَے کیا تھا کہ زادِراہ ختم ہوگیا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے حکم دیا کہ سب توشے اکٹھے کئے جائیں۔ چنانچہ وہ اکٹھے کئے گئے تو وہ کُل دو تھیلے کھجوروں کے بنے۔ حضرت ابوعبیدہؓ ہمیں ہر روز تھوڑا تھوڑا کھانے کے لئے دیتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا۔ ہمیں ایک ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے حضرت جابرؓ سے پوچھا: ایک کھجور تمہاری کیا بھوک دور کرتی ہوگی۔ انہوں نے کہا: جب وہ بھی نہ رہی تو ہم نے اس وقت ایک کھجور کی عدم موجودگی محسوس کی۔ ہم سمندر پر پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی ہے۔ لوگ اُس سے اٹھارہ راتیں کھاتے رہے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی پسلیوں کے متعلق حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں اور اونٹنی کے بارے میں کہا تو اُس پر کجاوہ رکھا گیا۔ وہ اُن دونوں پسلیوں کے نیچے سے گزر گئی اور ان کو چھؤا تک نہیں۔