بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار سے جو ہم نے یاد رکھا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا۔ ہم تین سو سوار تھے۔ ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے۔ قریش کے تجارتی قافلہ کی نگرانی میں بیٹھ گئے۔ سمندر کے کنارے ہم آدھا مہینہ ٹھہرے رہے اور ہمیں سخت بھوک لگی۔ یہاں تک کہ ہم نے پتے بھی کھائے۔ اس لئے اس فوج کا نام جیش الخبط رکھا گیا۔ اس اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور جس کو عنبر کہتے ہیں, پھینک دیا۔ ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر ملا کرتے۔ یہاں تک کہ ہمارے جسم پھر ویسے کے ویسے تازہ ہوگئے (جیسے پہلے تھے۔) حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اس کو کھڑا کیا اور سب سے لمبا شخص جو اُن کے ساتھ تھا اُس کو لیا۔ اور ایک بار سفیان (بن عیینہ) نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ انہوں نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی، اس کو کھڑا کیا۔ پھر ایک آدمی بمع اونٹ کے لیا جو اُس کے نیچے سے گزر گیا۔ حضرت جابرؓ نے یہ بھی کہا کہ لشکر میں ایک شخص تھا جس نے (لوگوں کے کھانے کے لئے تین دن) تین تین اونٹ ذبح کئے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کو روک دیا؛ اور عمرو (بن دینار) کہتے تھے: ابوصالح (ذکوان) نے ہمیں بتایا کہ قیس بن سعد نے اپنے باپ سے کہا: میں بھی اسی فوج میں تھا اور ان کو بھوک لگی تو حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کرلو۔ میں نے اونٹ ذبح کرلیا۔کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کر لو۔ میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔ کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کر لو۔ میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔ قیس کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کرلو۔ کہتے تھے: پھر مجھے روک دیا گیا۔
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے, ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سب سے آخری سورۃ جو پوری نازل ہوئی, سورۃ برأت ہے؛ حالانکہ سب سے آخری سورت جو نازل ہوئی سورۃ النساء کا آخر ہے: تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہو! اللہ تمہیں کلالہ کی بابت فتویٰ دیتا ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو (بن دینار) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ جیش الخبط کے ساتھ حملہ میں ہم نکلے اور حضرت ابوعبیدہؓ کو امیر بنایا گیا تھا۔ ہمیں سخت بھوک لگی اور سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینک دی۔ ہم نے ایسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے ہیں۔ ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی اور سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ (ابن جریج نے کہا:) ابوزبیر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: کھاؤ۔ جب ہم مدینہ آئے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: جو رزق اللہ نے نکالا ہو, اسے تم کھاؤ۔ ہمیں بھی کھلاؤ اگر تمہارے ساتھ کچھ ہو۔ ان میں سے کسی نے آپؐ کو ایک حصہ دیا اور آپؐ نے اس کو کھایا۔
(تشریح)سلیمان بن داؤد ابوربیع نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زہری نے حُمَید بن عبدالرحمٰن سے, حُمَید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک جماعت کے ساتھ اس حج میں قربانی کے دن بھیجا، جس میں نبی ﷺ نے اُن کو امیر مقرر فرمایا تھا جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہیں آئے گا اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے گا۔
ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوصخرہ (جامع بن شداد)سے, انہوں نے صفوان بن محرز مازنی سے, صفوان نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی تمیم بشارت قبول کرو۔ وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپؐ نے ہمیں بشارت تو دی ہے۔ ہمیں کچھ دیں بھی۔ اس بات کا اثر آپؐ کے چہرے میں دیکھا گیا۔ پھر یمن کے کچھ لوگ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: تم ہی بشارت قبول کرلو جبکہ بنوتمیم نے وہ قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپؐ کی بشارت قبول کرلی۔
(تشریح)زُہَیر بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے, انہوں نے ابوزرعہ سے, ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تین باتوں کے بعد میں بنوتمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہا۔ جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ ان کے متعلق فرماتے تھے: وہ دجال کے مقابلہ میں میری تمام امت سے زیادہ مضبوط ہوں گے اور ان میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہؓ کے پاس تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو آزاد کردو۔ کیونکہ وہ حضرت اسماعیلؑ کی اولاد سے ہے اور اُن کے صدقات آئے تو آپؐ نے فرمایا: یہ میری قوم کے صدقات ہیں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا کہ ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ان کو بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے ان کو خبردی کہ بنی تمیم کا ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضرتابوبکرؓ نے عرض کیا: قعقاع بن معبد بن زرارہؓ کو ان کا امیر مقرر کردیں۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے: نہیں, بلکہ اقرع بن حابسؓ کو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میری مخالفت ہی چاہتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں۔ دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ پھر اس واقعہ کے متعلق یہ وحی نازل ہوئی: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کیا کرو۔ ……
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعامر عقدی نے ہمیں خبردی کہ قرۃ (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے روایت کی کہ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس ایک مٹکا ہے، جس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے۔ میٹھی ہوتی ہے، میں اسے پیتا ہوں۔کبھی زیادہ پی لیتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور دیرتک بیٹھتا ہوں۔ مجھے ڈر رہتا ہے کہ کسی وقت میری فضیحت نہ ہو۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: عبدالقیس کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: آنے والوں کی آمد خوشی خوشی ہو, نہ کبھی وہ رسوا ہوں اور نہ کبھی پشیمان۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے مشرک ہیں اور ہم آپؐ تک نہیں پہنچ سکتے مگر حرمت کے مہینوں میں ہی۔ اس لئے آپؐ ہمیں مختصر احکام بتائیں کہ اگر ہم ان پر عمل کریں جنت میں داخل ہوجائیں اور جو ہم سے پیچھے ہیں انہیں ان پر عمل کرنے کے لئے دعوت دیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے تم کو روکتا ہوں۔ اللہ پر ایمان لانا, تم جانتے ہو اللہ پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور ماہِ رمضان میں روزے رکھنا؛ اور یہ کہ تم غنیمت کے مالوں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور تم کو چار باتوں سے روکتا ہوں: اس شراب سے جو کدو کے تونبہ اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی مرتبان اور رال کے روغنی برتن میں تیار کی جاتی ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ کہتے تھے: عبدالقیس کے نمائندے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہے اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے کفار روک بن گئے ہیں۔ ہم آپؐ کے پاس (محفوظ رہتے ہوئے) نہیں پہنچ سکتے۔ مگر ماہِ حرام ہی میں؛ تو آپؐ ہمیں چند ایسی باتوں کا حکم دیں کہ جن پر ہم عمل کریں اور ان پر عمل کرنے کے لئے ان کو بھی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (یہ کہہ کر) آپؐ نے ایک انگلی بند کی اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور یہ کہ تم اللہ کے لئے ان مالوں کا پانچواں حصہ ادا کرنا جو تم غنیمت میں حاصل کرو۔ اور تم کو کدو کے تونبے اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی مرتبان اور لک کے روغنی برتنسے منع کرتا ہوں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن حارث) نے مجھے خبردی۔اور بکر بن مضر نے یوں کہا کہ عمرو بن حارث سے روایت ہے, عمرو بن حارث نے بکیر سے روایت کی کہ کریب نے جو کہ حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن ازہر اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک آدمی بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہم سب کی طرف سے ان کو السلام علیکم کہو اور ان سے ان دو رکعتوں کی بابت پوچھو جو عصر کے بعد (نبی ﷺ نے پڑھی) ہیں۔ نیز( اُن سے پوچھنا کہ) ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپؐ یہ رکعتیں پڑھا کرتی ہیں حالانکہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ میں تو حضرت عمرؓ کے ساتھ مل کر لوگوں کو مار کر ان دو رکعتوں سے روکا کرتا تھا۔ کریب کہتے تھے کہ میں حضرت عائشہؓ کے پاس اندر گیا اور جو پیغام دے کر انہوں نے مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان کو پہنچایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: امّ سلمہؓ سے پوچھو۔ میں نے ان لوگوں کو بتایا۔ تو انہوں نے مجھے حضرت امّ سلمہؓ کے پاس ویسا ہی پیغام دے کر بھیجا جو پیغام دے کر مجھے حضرت عائشہؓ کے پاس بھیجا تھا۔ حضرت امّ سلمہؓ نے سن کر یہ کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپؐ ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور بات یہ ہوئی کہ آپؐ نے عصر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپؐ میرے ہاں آئے اور اس وقت میرے پاس انصار سے بنو حرام کی کچھ عورتیں تھیں۔ تو آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپؐ کے پاس خادمہ کو بھیجا کہ اٹھو آپؐ کے پاس جاکر ایک طرف کھڑی ہوجاؤ اور کہو: یارسول اللہ! امّ سلمہؓ کہتی ہیں: کیا میں نے آپؐ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے نہیں سنا؟ مگر اب میں آپؐ کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ اگر آپؐ اپنے ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے کو ہٹ جانا۔ خادمہ نے ایسا ہی کیا۔ جب آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اپنی قوم کے مسلمان ہونے کا پیغام لے کر میرے پا س آئے تھے تو انہوں نے مجھے باتوں میں مشغول رکھ کر وہ دو رکعتیں پڑھنے نہیں دیں جو نمازِ ظہر کے بعد کی پڑھی جاتی ہیں اور یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔