بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبیداللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا کہ نافع سے روایت ہے۔ ان کو حضرت ابن عمرؓ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر منڈوایا اور ایسا ہی آپؐ کے اصحاب میں سے بعض نےبھی۔ اور ان میں سے بعض نے بال کتروائے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا, کہا: حضرت اسامہؓ سے جبکہ میں موجود تھا پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج کو جاتے ہوئے سواری کیسے چلاتے تھے؟ انہوں نے کہا: رواں چال سے اور جب کشادہ جگہ پاتے تو دوڑاتے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے, مالک نے یحيٰ بن سعید سے, یحيٰ نے عدی بن ثابت سے, عدی نے عبداللہ بن یزید خطمی سے روایت کی کہ حضرت ابوایوبؓ (خالد بن زید انصاری) نے ان کو خبردی کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کیں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کی نسبت فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ جنہیں سزا دی گئی، سوائے اس کے کہ تم گریہ و زاری کرتے جاؤ، مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ نیز لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ (بن عتبہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کو بتایا کہ وہ ایک گدھے پر سوار چلے آرہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ مقام پر کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ان کا گدھا صف کے کچھ آگے سے گزرا۔ پھر وہ اس سے اُتر پڑے اور لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہوگئے۔
محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے, انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ میں آپؐ سے ان کے لئے سواریاں مانگوں کیونکہ وہ بھی آپؐ کے ساتھ جیش عسرہ میں ہیں اور یہی غزوۂ تبوک ہے۔ میں نے کہا: یا نبی اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے کہ آپؐ انہیں سواریاں دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! کوئی سواری نہیں کہ تمہیں دوں۔ اور میں نے اتفاقاً آپؐ سے ایسے وقت میں مطالبہ کیا کہ جب آپؐ غصہ میں تھے اور میں نہیں جانتا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انکار سے نیز اس خوف سے کہ کہیں نبی ﷺ اپنے دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوگئے ہوں, غمگین ہوکر لَوٹ آیا۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آگیا اور جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا میں نے اُن کو بتایا۔ بہت تھوڑی دیرگزری تھی کہ میں نے بلالؓ کو سنا کہ وہ پکار رہے ہیں: عبداللہ بن قیس! میں نے ان کو جواب دیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ، تمہیں بلا رہے ہیں۔ جب میں آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ دو اونٹوں کا جوڑا لے لو اور یہ (دو) جوڑے یعنی چھ اونٹ۔ آپؐ نے ان کو حضرت سعدؓ سے اسی وقت خریدا تھا۔ (فرمایا:) جاؤ اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور انہیں کہو کہ اللہ یا فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمہیں یہ سوار ہونے کے لئے دیتے ہیں۔ ان پر سوار ہوجاؤ۔ چنانچہ میں وہ اونٹ لے کر ان کے پاس چلا گیا۔ میں نے کہا: نبی ﷺ یہ اونٹ تمہیں سواری کے لئے دیتے ہیں مگر میں اللہ کی قسم تمہیں سوار ہونے نہیں دوں گا تا وقتیکہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ اس شخص کے پاس نہ جائے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات سنی تھی۔ یہ نہ سمجھو کہ میں نے خود تم سے کوئی بات بیان کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔ وہ کہنے لگے: ہم تو آپؐ کو اپنے نزدیک سچا سمجھتے ہیں اور ہم ضرور وہی کریں گے جو آپؐ پسند کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰؓ ان میں سے چند آدمی لے کر چلے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بات سنی تھی یعنی رسول اللہ ﷺ کا اُن کو (دینے سے) انکار کرنا, پھر اس کے بعد ان کو دینا۔ تو انہوں نے ان سے وہی بیان کیا جو حضرت ابوموسیٰؓ نے اُن سے بیان کیا تھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے, شعبہ نے حکم (بن عتیبہ) سے, حکم نے مصعب بن سعد سے, انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جانے کے لئے نکلے اور حضرت علیؓ کو (مدینہ میں) اپنا قائمقام مقرر کیا۔ حضرت علیؓ نے کہا: کیا آپؐ مجھے بچوں اور عورتوں میں پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کیا آپؓ خوش نہیں ہوتے کہ آپؓ کا مقام مجھ سے وہی ہے جو ہارونؑ کا موسیٰؑ سے تھا۔ مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور ابوداؤد (طیالسی) نے کہا: شعبہ نے حاکم (بن عتیبہ) سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مصعب سے سنا۔
عبیداللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے عطاء (بن ابی رباح) سے سنا۔ وہ بتایا کرتے تھے، کہتے تھے: صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا, کہا کہ میں عسرہ کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں نکلا۔ صفوان نے کہا: حضرت یعلیٰؓ کہتے تھے کہ وہ جنگ میرے نزدیک میرے تمام اعمال کی نسبت زیادہ قابل اعتماد ہے۔ عطاء نے کہا کہصفوان نے بتایا۔ حضرت یعلیٰؓ کہتے تھے: میرا ایک نوکر بھی تھا جو ایک شخص سے لڑ پڑا تو اُن میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا۔ عطاء نے کہا: صفوان نے یہ بھی مجھے بتایا تھا کہ ان دونوں میں سے کس نے دوسرے کو کاٹا، مگر میں یہ بھول گیا۔ کہتے تھے : جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنے ہاتھ کو کاٹنے والے کے منہ سے جھٹکا دے کر جو چھوڑایا تو اس نے اس کے اگلے دو دانتوں میں سے ایک دانت نکال دیا۔ اس پر وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپؐ نے اس کے دانت کی کوئی دیت نہ دلوائی۔ عطاء نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ صفوان نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں رہنے دیتا کہ تم اس کو چباتے؛ گویا وہ سانڈ کے منہ میں ہے جو چبا ڈالتا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک اور وہ ان کے بیٹوں میں سے حضرت کعبؓ کو جب وہ نابینا ہوگئے پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ کو وہ واقعہ بیان کرتے سنا جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔ حضرت کعبؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے کسی غزوہ میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپؐ نے کیا ہو, سوائے غزوۂ تبوک کے۔ ہاں غزوۂ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپؐ نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو اُن کو دشمن سے ٹکرا دیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔ جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد وپیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کی توفیق ملتی۔ اگرچہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری حالت یہ تھی کہ میں کبھی بھی اتنا تنومند اور خوشحال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جبکہ میں آپؐ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے اور اس غزوہ کے اثناء میں دو اونٹ اکٹھے کرلئے تھے اور رسول اللہ ﷺ جس غزوہ کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپؐ اس کو مخفی رکھ کر کسی اور طرف جانے کا اظہار کرتے تھے۔ جب وہ غزوہ ہوا تو نبی ﷺ اس غزوہ میں سخت گرمی کے وقت نکلے اور آپؐ کے سامنے دوردراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور دشمن تھا جو بہت بڑی تعداد میں تھا۔ آپؐ نے مسلمانوں کو اُن کی حالت کھول کر بیان کردی تاکہ وہ اپنے اس حملہ کے لئے جو تیاری کرنے کا حق ہے تیاری کریں۔ آپؐ نے اُن کو اس جہت کا بھی بتا دیا جس طرف آپؐ جانا چاہتے تھے اور مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بکثرت تھے اور محفوظ رکھنے والی کوئی کتاب نہ تھی جو اُن کی تعداد کو ضبط میں رکھتی۔حضرت کعبؓ کی مراد اس سے رجسٹر تھا۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے: اور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو غیرحاضر رہنا چاہتا ہو، مگر وہ خیال کرتا کہ اس کا غیرحاضر رہنا آپؐ سے پوشیدہ رہے گا، جب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل پک چکے تھے اور سائے اچھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی تیاری شروع کردی اور آپؐ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی۔ اور میں صبح کو جاتا,تا میں بھی اُن کے ساتھ سامانِ سفر کی تیاری کروں۔ میں واپس لَوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔ میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کرسکتا ہوں۔ یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ لوگوں کو سفر کی جلدی پڑی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح روانہ ہوگئے اور مسلمان بھی آپؐ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں نے اپنے سامانِ سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ نپٹایا تھا۔ میں نے سوچا کہ آپؐ کے جانے کے ایک دن یا دو دِن بعد تیاری کرلوں گا اور پھر اُن سے جاملوں گا۔ ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح باہر گیا کہ سامان تیار کرلوں مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔ پھر میں اگلے دن گیا اور واپس لَوٹ آیا اور کچھ بھی نہ نپٹایا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے لشکر بہت آگے نکل گیا۔ میں نے بھی ارادہ کرلیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا مگر مجھ سے یہ بھی مقدر نہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب بھی میں لوگوں میں نکلتا اور اُن میں چکر لگاتا تو مجھے یہ بات غمگین کردیتی کہ میں ایسے ہی شخص دیکھتا جن پر نفاق کا عیب دَھرا جاتا تھا، یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ نے معذور ٹھہرایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اس وقت یا د کیا جب آپؐ تبوک میں پہنچے۔ آپؐ نے فرمایا اور اس وقت آپؐ تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے, کعب کہاں ہے؟ بنوسلمہ میں سے ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اُس کے اپنے دائیں بائیں مُڑ کر دیکھنے نے روک رکھا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے یہ سن کر کہا: کیا ہی بُری بات ہے جو تم نے کہی ہے؟ اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! اس کے متعلق ہمیں اچھا ہی تجربہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ حضرت کعب بن مالکؓ کہتے تھے: جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپؐ واپس آرہے ہیں, مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپؐ کی ناراضگی سے بچ جاؤں اور اپنے گھر والوں میں ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا۔ جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کافور ہوگئے اور میں نے سمجھ لیا میں کبھی بھی آپؐ کے غصہ سے ایسی بات سے بچنے کا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔ اس لئے میں نے آپؐ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ جب آپؐ کسی سفر سے آتے پہلے مسجد میں جاتے, اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھ جاتے۔ جب آپؐ نے یہ کیا تو پیچھے رہے ہوئے لوگ آپؐ کے پاس آگئے اور لگے آپؐ سے معذرتیں کرنے اور قسمیں کھانے اور ایسے لوگ اسّی سے کچھ اوپر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے ان کے ظاہری عذر مان لئے اور اُن سے بیعت لی اور اُن کے لئے مغفرت کی دعا کی اور اُن کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا۔ پھر میں آپؐ کے پاس آیا۔ جب میں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپؐ ناراض شخص کی طرح مسکرائے۔پھر آپؐ نے فرمایا: آگے آؤ۔ میں چل کر آیا اور آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپؐ نے مجھے پوچھا: کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں ایسا ہوں کہ اگر آپؐ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کرکے بچ جاتا۔ مجھے خوش بیانی دی گئی ہے۔ مگر اللہ کی قسم! میں خوب سمجھ چکا ہوں اگر میں نے آج آپؐ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپؐ مجھ پر راضی ہوجائیں تو اللہ عنقریب مجھ پر آپؐ کو ناراض کردے گا اور اگر یہ آپؐ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپؐ مجھ پر ناراض ہوں تو مَیں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھوں گا۔ نہیں، اللہ کی قسم! میرے لئے کوئی عذر نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہوا، جتنا کہ اس وقت تھا جب آپؐ سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے تو سچ بیان کردیا ہے۔ اُٹھو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔ میں اُٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اُٹھ کر میرے پیچھے ہولئے۔ انہوں نے مجھے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کرسکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے جبکہ ان پیچھے رہنے والوں نے آپؐ کے سامنے بنائے۔ رسول اللہ ﷺ کا تمہارے لئے مغفرت کی دعا کردینا ہی تمہارے اس گناہ بخشانے کے لئے کافی تھا۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کرلیا کہ لَوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔ پھر میں نے اُن سے پوچھا: کیا کوئی میرے ساتھ اور بھی ہے جس نے آپؐ سے اس قسم کا اقرار کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ دو اور شخص ہیں، انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور اُن کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون ہیں؟ کہنے لگے: مرارہ بن ربیع عمری ؓاور ہلال بن امیہ واقفیؓ۔ انہوں نے مجھ سے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان دونوں میں (میرے لیے )نمونہ تھا۔جب لوگوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کردیا یعنی ان میں سے جو اُن لوگوں میں سے تھے جو آپؐ سے پیچھے رہ گئے تھے, لوگ کترانے لگے گویا کہ ہم سے بالکل ناآشنا ہیں۔ یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی, وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ ہم اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔ میرے جو ساتھی تھے وہ تو رہ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے اور میں اُن لوگوں میں سے زیادہ جوان تھا اور اُن لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔ میں باہر نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتا اور بازاروں میں پھرتا، مگر مجھ سے کوئی بات نہ کرتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی جاتا، آپؐ کو السلام علیکم کہتا جبکہ آپؐ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا: کیا آپؐ نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے یا نہیں؟ اور آپؐ کے قریب ہوکر نماز پڑھتا اور نظر چُرا کر آپؐ کو دیکھتا اور جب میں نماز پڑھنے لگتا، آپؐ میری طرف دیکھتے، اور جب میں آپؐ کی طرف توجہ کرتا تو آپؐ مجھ سے منہ پھیر لیتے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی یہ درشتی دیر تک رہنے سے مجھ پر دوبھر ہوگئی تو میں چلا گیا اور ابوقتادہؓ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا۔ یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔ میں نے اُن کو السلام علیکم کہا۔ اللہ کی قسم! انہوں نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا: ابوقتادہؓ! میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں, کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں؟ وہ خاموش رہے۔ پھر اُن سے پوچھا اور اُن کو قسم دی مگر وہ خاموش رہے۔ پھر اُن سے پوچھا اور اُن کو قسم دی تو انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ (یہ سن کر) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں نے پیٹھ موڑ کر دیوار پھاندی (اور وہاں سے چلا آیا۔) حضرت کعبؓ کہتے تھے: اس اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں چلا جارہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کےنبطیوں سے ایکنبطی اُن لوگوں میں سے ہے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لئے آئے تھے وہ کہہ رہا تھا: کعب بن مالکؓ کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارہ سے بتانے لگے۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اُس نے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔ اس میں یہ مضمون تھا: اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کرکے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا تھا جہاں ذلت ہو اور تمہیں ضائع کردیا جائے۔ تم ہم سے آکر ملو، ہم تمہاری خاطر مدارت کریں گے۔ جب میں نے یہ خط پڑھا۔ میں نے کہا: یہ بھی مصیبتوں کی ایک مصیبت ہے۔ میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں جھونک دیا۔ جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں، کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام لانے والا میرے پاس آرہا ہے ۔ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرماتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔ میں نے پوچھا: کیا میں اُسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: اس سے الگ رہو اور اُس کے قریب نہ جاؤ۔ آپؐ نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اُس وقت تک انہی کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ کرے۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے: پھر ہلال بن امیہؓ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہؓ بہت بوڑھا ہے, اس کا کوئی نوکر نہیں ۔ کیا آپؐ ناپسند فرمائیں گے، اگر میں اس کی خدمت کروں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن تمہارے قریب نہ ہو۔ کہنے لگی: اللہ کی قسم! اس کو تو کسی بات کی تحریک نہیں ہوتی۔ اللہ کی قسم! وہ اس دن سے آج تک رو رہا ہے جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے۔ میرے بعض رشتہ داروں نے مجھ سے کہا: اگر تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے متعلق ویسے ہی اجازت لے لو جیسا کہ آپؐ نے ہلال بن امیہؓ کی بیوی کو اُس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بارے میں کیا جواب دیں اور میں جوان آدمی ہوں۔اس کے بعد میں دس راتیں اور ٹھہرا رہا یہاں تک کہ ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوئیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔ جب پچاسویں رات کی صبح کو نمازِ فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا اور میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے یعنی مجھ پر میری جان تنگ ہوچکی تھی اور مجھ پر زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی تھی۔ اس اثناء میں مَیں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا: اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو۔ میں یہ سن کر سجدہ میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپؐ فجر کی نماز پڑھ چکے اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کرکے ہماری غلطی کو معاف کردیا ہے۔ یہ سن کر لوگ ہمیں خوشخبری دینے لگے اور میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا بھگائے ہوئے آیا اور اسلم قبیلہ کا ایک شخص دوڑا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔ جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی، مَیں نے اُس کے لئے اپنے دونوں کپڑے اُتارے اور اس کو پہنائے۔ اس لئے کہ اُس نے مجھے بشارت دی تھی۔ اللہ کی قسم! اس وقت ان کے سوا میرے پاس اور کچھ نہ تھا اور میں نے دو اور کپڑے عاریتاً لئے اور انہیں پہنا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج دَر فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک دیتے تھے۔ کہتے تھے: تمہیں مبارک ہو جو اللہ نے تم پر رحم کرکے توبہ قبول کی ہے۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے: آخر میں مسجد میں پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں، آپؐ کے اردگرد لوگ ہیں۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک دی۔ مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اُٹھ کر نہیں آیا اور طلحہؓ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا اور حضرت کعبؓ کہتے تھے: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپؐ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا, تمہیں بشارت ہو نہایت ہی اچھے دن کی، ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا, تم پر گزرے ہیں۔ کہتے تھے: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ بشارت آپؐ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرہ ایسا روشن ہوجاتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپؐ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔ جب میں آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔ مَیں نے کہا: یا رسول اللہ! مَیں اس توبہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دستبردار ہوتا ہوں جو اللہ اور رسول اللہ کی خاطر صدقہ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو کیونکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! اللہ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ سچ ہی بولا کروں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں گا۔ کیونکہ اللہ کی قسم! میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو, جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے، اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصل واقعہ بیان کیا۔ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کی، میں نے آج تک عمداً جھوٹ نہیں بولا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے محفوظ رکھے گا اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی: اور اللہ نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی کی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے پھر بھی اس نے ان کی توبہ قبول کی۔ یقیناً وہ ان کے لیے بہت ہی مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والاہے۔………… اللہ کی قسم! اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی، کبھی بھی اُس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کردیا۔ شکر ہے کہ میں نے آپؐ سے جھوٹ نہیں بولا ورنہ میں ہلاک ہوجاتا جیسا کہ وہ لوگ ہلاک ہوگئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں جو اُس نے کسی کے لئے استعمال کئے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’جب تم اُن کی طرف لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے ……اللہ اُن بدعہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہوگا۔‘‘ اور حضرت کعبؓ کہتے تھے: اور ہم تینوں کا فیصلہ اُن لوگوں کے فیصلے سے مؤخر رکھا گیا، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر قبول کیا تھا جب انہوں نے آپؐ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپؐ نے اُن سے بیعت لی اور اُن کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے فیصلہ کو ملتوی کردیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا۔ سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے:اسی طرح اُن تینوں پر بھی (اُس نے فضل کیا) جو کہ پیچھے چھوڑے گئے تھے……اور جو پیچھے رکھے جانے کا اللہ نے (اس میں) ذکر کیا ہے وہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں بلکہ اللہ کےفیصلے میں ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائیں تھیں اور آپؐ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپؐ نے ان کی معذرت قبول کرلی تھی۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زُہری نے سالم (بن عبداللہ) سے, سالم نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر کے پاس سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا: تم اُن لوگوں کی بستیوں میں مت داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا تھا؛ سوائے اس کے کہ تم روتے ہوئے جاؤ۔ اس کے بعد آپؐ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کردی یہاں تک کہ وادی سے پار ہو گئے۔