بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث (بن سعد) سے, لیث نے عبدالعزیز بن ابی سلمہ سے, عبدالعزیز نے سعد بن ابراہیم سے, سعد نے نافع بن جبیر سے, نافع نے عروہ بن مغیرہ سے, عروہ نے اپنے باپ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی, کہا: نبی ﷺ اپنی حاجت کے لئے گئے۔ میں اُٹھا کہ آپؐ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالوں۔ میں یہی جانتا ہوں کہ حضرت مغیرہؓ نے کہا: یہ واقعہ غزوۂ تبوک میں ہوا۔ آپؐ نے اپنا منہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دھونے لگے تو جبے کی آستین اتنی تنگ تھی کہ (آپؐ اس کو چڑھا نہ سکے۔) آپؐ نے بازوؤں کو جبے کے نیچے سے نکال کر اُن کو دھویا پھرآپؐ نے پاؤں پر مسح کیا۔
خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا, کہا: عمرو بن یحيٰ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے, عباس نے ابوحمید (ساعدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک سے لَوٹ کر آئے۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: یہ طابہ آن پہنچا اور یہ اُحد پہاڑ ہے۔ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ وہ حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت کرتے تھے, کہتے تھے: مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے گیا تھا۔ اور سفیان نے ایک بار (لڑکوں کی بجائے) یوں کہا: بچوں کے ساتھ۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زہری نے حضرت سائبؓ (بن یزید) سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے ثنیۃ الوداع تک گیا تھا جبکہ آپؐ غزوۂ تبوک سے واپس آئے تھے۔
(تشریح)اور یونس نے زُہری سے نقل کیا کہ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے, فرماتے تھے: عائشہ! میں اب تک اس کھانے کی تکلیف محسوس کررہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا۔ اب اس وقت میں نے محسوس کیا ہے جیسے اس زہر سے میری شاہ رگ کٹ گئی ہے۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ حمید طویل نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک سے لَوٹے اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جو بھی سفر کرتے ہو اور جس وادی کو عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: یارسول اللہ! وہ مدینہ میں ہی رہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ مدینہ میں رہتے ہیں, عذر نے اُن کو روک رکھا ہے۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے, صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبردی کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ سہمیؓ کے ہاتھ اپنا خط کسریٰ کو بھیجا۔ آپؐ نے (عبداللہ بن حذافہؓ سے) فرمایا کہ وہ خط بحرین کے حاکم کو دیں۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ کو بھیج دیا۔ جب اُس نے وہ خط پڑھا, اسے پھاڑ ڈالا۔ (زہری کہتے تھے:) میں سمجھتا ہوں کہ (سعید) بن مسیب نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران والوں کے لئے دعا کی کہ وہ ہر طرح ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔
عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا کہ عوف (اعرابی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری) سے, حسن نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللہ نے جنگ جمل کے ایام میں مجھے ایک بات سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی جبکہ قریب تھا کہ میں جمل والوں سے جاملوں اور اُن کے ساتھ ہوکرلڑوں۔ حضرت ابوبکرہؓ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے اپنے لئے کسریٰ کی بیٹی ملکہ شاہ بنا لی ہے تو آپؐ نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنی حکومت ایک عورت کے سپرد کی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے, انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے, حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت امّ فضل بنت حارثؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی ﷺ کو مغرب (کی نماز) میں سورۃ وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا پڑھتے سنا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی اور اللہ نے آپؐ کو اُٹھا لیا۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے, ابوبشر نے سعید بن جبیر سے, سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباسؓ کو اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ان سے کہا: ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: وہ جس حیثیت کا ہے تم جانتے ہو۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے اس آیت سے متعلق پوچھا: اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بتائی ہے تو حضرت عمر ؓنے یہ سن کر کہا: میں بھی یہی اس سے سمجھتا ہوں جو تم سمجھتے ہو۔