بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان احول سے, سلیمان نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: جمعرات کا دن تھا اور جمعرات کا دن بھی کیا تھا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ پر آپؐ کی بیماری نے سخت حملہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس لاؤ کہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں۔ جس کے بعد تم کبھی نہیں بھٹکو گے۔ وہ لوگ آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔ کہنے لگے: کیا بات ہے؟ کیا آنحضرت ﷺ بیماری کی شدت سے کچھ فرما رہے ہیں؟ آپؐ سے پوچھو۔ چنانچہ آپؐ سے دوبارہ پوچھنے لگے: آپؐ نے فرمایا: مجھے رہنے دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے, اس سے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔ آپؐ نے اُن کو تین باتوں کی وصیت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جزیرۂ عرب سے مشرکوں کو نکال دینا اور نمائندوں کو اس طرح آنے دینا جس طرح کہ میں اُن کو آنے دیا کرتا تھا اور آپؐ خاموش ہوگئے۔ تیسری بات نہیں کی یا حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں اس کو بھول گیا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے, سعد نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے یعنی وہ بیماری جس میں کہ آپؐ فوت ہوگئے, آپؐ فرمانے لگے: رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے, زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے, عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آپہنچا اور گھر میں کئی مرد موجود تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ دوں کہ اس کے بعد تم نہیں بھٹکو گے۔ ان میں کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری نے بے بس کردیا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ اللہ کی کتاب ہمیں کافی ہے۔ اس پر گھر والوں میں اختلاف ہوا اور وہ جھگڑنے لگے۔ ان میں بعض وہ تھے جو کہتے تھے: (کاغذ, قلم دوات) قریب کرو کہ تمہیں تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو، اور ان میں سے بعض وہ تھے جو کچھ اور کہتے تھے۔ جب انہوں نے بحث اور جھگڑا بہت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو چلے جاؤ۔ عبیداللہ نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: مصیبت ساری کی ساری مصیبت وہی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آپس میں جھگڑنے اور شور کرنے کی وجہ سے رُک گئے کہ آپؐ ان کے لئے وہ تحریر لکھتے۔
۴۴۳۵: محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے, سعد نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی بھی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار نہ دے دیا جائے۔ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؐ کی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے, فرماتے سنا اور آپؐ کی آواز بیٹھ گئی تھی۔ فرماتے تھے: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ میں سمجھی کہ آپؐ کو اختیار دیا گیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں زہری سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تندرست تھے, فرمایا کرتے تھے: کبھی بھی کوئی نبی نہیں اُٹھایا گیا جب تک کہ اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ نہیں دیکھ لیا۔ پھر چاہے تو (دنیا میں) زندہ رکھا جائے یا اسے اختیار دیا جائے۔ جب آپؐ بیمار ہوئے اور جان کنی کا وقت آیا اور آپؐ کا سر حضرت عائشہؓ کی ران پر تھا آپؐ پر غشی طاری ہوئی۔ جب آپؐ نے ہوش سنبھالا۔ آپؐ نے اپنی آنکھ کو گھر کی چھت کی طرف اُٹھایا اور فرمایا: اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ میں نے کہا: اب تو آپؐ ہم میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپؐ ہمیں بتایا کرتے تھے جبکہ آپؐ تندرست تھے۔
محمد (بن یحيٰ ذہلی) نے ہم سے بیان کیا کہ عفان (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صخر بن جویریہ سے, صخر نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے, انہوں نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے, انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی: عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپؐ کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا اور عبدالرحمٰنؓ کے پاس ایک تازہ مسواک تھی جس سے وہ مسواک کررہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسواک کی طرف نگاہ کی, دیکھا۔ میں نے مسواک لی اور اسے توڑا اور اس کو نرم کرکے پانی سے پاک صاف کیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور آپؐ نے اس مسواک سے ایسی عمدگی سے مسواک کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی عمدگی سے مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپؐ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا یا کہا: اپنی انگلی اُٹھائی اور پھر تین بار فرمایا: رفیق اعلیٰ کے ساتھ ۔ پھر آپؐ گزر گئے؛ اور حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں: آپؐ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے۔
حبان (بن موسیٰ مروَزی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی, کہا: عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے بدن پر معوذات (سورۃ الاخلاص, سورۃ الفلق او ر سورۃ الناس) پڑھ کر دم کرتے اور اپنے ہاتھ کو بیماری دورکرنے کے لئے پھیرتے۔ جب آپؐ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے تو میں آپؐ پر ان معوذات کو پڑھ کر دَم کرنے لگی، جن سے آپؐ دَم کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ لے کر آپؐ کے بدن پر بیماری دور کرنے کے لئے پھیرتی۔
معلیٰ بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور انہوں نے یہ بات آپؐ سے فوت ہونے سے پہلے کان لگا کر سنی جبکہ آپؐ اپنی کمر مجھ سے لگا کر سہارا لئے ہوئے تھے۔ آپؐ فرماتے تھے: اے اللہ! پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر کر اور مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیق سے ملا دے۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ (وضاح بن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال (بن ابی حمید) وزان سے, ہلال نے عروہ بن زبیر سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُس بیماری میں جس سے کہ آپؐ نہیں اُٹھے, فرمایا: اللہ! ان یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی رحمت سے دور رکھ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اگر اس بات کاخیال نہ ہوتا تو آپؐ کی قبر پر سونے کا غلاف چڑھ جاتا۔ آپؐ ڈرے کہ کہیں آپؐ کی قبر مسجد نہ بنا لی جائے۔
۴۴۴۲: سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا, کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی, کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرچلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپؐ کی بیماری کا آپؐ پر سخت حملہ ہوا تو آپؐ نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپؐ کی تیمارداری کی جائے تو انہوں نے آپؐ کو اجازت دے دی۔ آپؐ نکلے اور آپؐ دو آدمیوں کے درمیان تھے۔ آپؐ کے پاؤں زمین پر لکیریں ڈالتے جاتے تھے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ اور ایک اور شخص کے درمیان تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ (بن عباسؓ) کو جو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا, بتایا تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو، وہ دوسرا شخص کون تھا؟ جس کا حضرت عائشہؓ نے نام نہیں لیا۔ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: وہ حضرت علیؓ (بن ابی طالب) ہیں اور حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں داخل ہوئے اور آپؐ کی بیماری نے آپؐ کو نڈھال کردیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ پر سات مشکیں انڈیلو کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں۔ شاید میں لوگوں کو وصیت کرسکوں۔ ہم نے آپؐ کو آپؐ کی زوجہ حضرت حفصہؓ کے لگن میں بٹھایا۔ پھر آپؐ پر اُن مشکوں سے پانی ڈالتے گئے یہاں تک کہ آپؐ نے ہمیں اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا, بس کافی ڈال دیا ہے۔ بیان کرتی تھیں: پھر آپؐ لوگوں کے پاس باہر گئے اور نماز پڑھائی اور ان سے مخاطب ہوئے۔