بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
(زہری کہتے تھے:) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کا زور ہوا تو آپؐ اپنی چادر اپنے منہ پر ڈالتے۔ جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے اس کو ہٹا دیتے اور اس حالت میں آپؐ فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا ہے اس سے بچنے کے لئے آپؐ نے تنبیہ فرمائی۔
(زہری کہتے تھے:) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کا زور ہوا تو آپؐ اپنی چادر اپنے منہ پر ڈالتے۔ جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے اس کو ہٹا دیتے اور اس حالت میں آپؐ فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا ہے اس سے بچنے کے لئے آپؐ نے تنبیہ فرمائی۔
عبیداللہ نے مجھے یہ بتایا کہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوبکرؓ کی بابت جو بار بار کہا، آپؐ سے اس تکرار کرنے پر صرف اس بات نے مجھے آمادہ کیا کہ میرے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آیا کہ آپؐ نے یہ اس لئے فرمایا کہ لوگ آپؐ کے بعد اس شخص کو پسند کریں جو آپؐ کی جگہ پر کھڑا ہو اور نہ میں یہ سمجھتی تھی کہ جو بھی آپؐ کی جگہ پر کھڑا ہوگا، لوگ اس سے بُری فال لیں گے۔ اس لئے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ کام سپرد کریں۔ یہ بات حضرت (عبداللہ) بن عمر, حضرت ابوموسیٰ (اشعری) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے مجھے خبردی- اور یہ حضرت کعب بن مالکؓ اُن تین آدمیوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی- کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اُن کو بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آپؐ کی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے, باہر نکلے۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! آج صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: الحمد للہ آج صبح اچھے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے کہنے لگے: اللہ کی قسم! تم تین دن کے بعد ڈنڈے کے غلام ہوگے اور میں بخدا یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری سے عنقریب فوت ہوجائیں گے۔ یہ اس لئے کہ میں عبدالمطلب کے بیٹوں کے موت کے وقت کے چہرے پہچانتا ہوں۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپؐ سے پوچھ لیں کہ یہ خلافت کس کے لئے ہوگی؟ اگر تو ہمارے لئے ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے سوا کسی اور کے لئے ہوئی، اس کا بھی علم ہوجائے گا اور وہ ہمارے لئے وصیت کرجائیں گے۔ حضرت علیؓ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا اور آپؐ نے ہمیں (یہ خلافت) نہ دی تو آپؐ کے بعد لوگ ہمیں کبھی نہ دیں گے اور بخدا! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہیں پوچھوں گا۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا, کہا: عقیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ مسلمان اس اثنا میں کہ سوموار کے دن فجر کی نماز میں تھے اور حضرت ابوبکرؓ اُن کو نماز پڑھا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکایک حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ اُٹھایا اور ان کو دیکھا اور وہ نماز کی صفوں میں تھے۔ پھر خوشی سے مسکرائے اور یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر ؓاپنی ایڑیوں کے بل پیچھے کو ہٹے تاکہ صف میں جاملیں اور خیال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لئے باہر آنا چاہتے ہیں۔ حضرت انسؓ نے کہا: مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ وہ نماز توڑنے کو تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اُن کو اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کریں۔ پھرآپؐ حجرے میں چلے گئے اور پردہ ڈال دیا۔
محمد بن عبیدنے مجھ سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا کہ عمر بن سعید سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبردی کہ ابوعمرو ذکوان نے جو کہ حضرت عائشہؓ کے غلام تھے, ان سے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: مجھ پر اللہ کے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں، میری باری کے دن اور میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے اور یہ کہ اللہ نے آپؐ کی وفات کے وقت میرے اور آپؐ کے لعاب کو ملا دیا۔ عبدالرحمٰن (بن ابی بکرؓ) میرے پاس اندر آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دئیے ہوئے تھی۔ میں نے آپؐ کو دیکھا کہ مسواک کی طرف نظر ہے اور میں سمجھتی تھی کہ آپؐ مسواک لینا پسند کرتے ہیں۔ میں نے آپؐ سے پوچھا: کیا میں آپؐ کے لئے یہ مسواک لے لوں؟ آپؐ نے اپنے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے آپؐ کو لے کردی مگر وہ سخت تھی۔ (آپؐ چبا نہ سکے۔) میں نے کہا: کیا آپؐ کے لئے یہ نرم کردوں؟ آپؐ نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ میں نے وہ نرم کر دی تو آپؐ نے مسواک کی۔ اور آپؐ کے سامنے پانی کی چھاگل تھی یا کہا: پیالہ تھا۔ عمر (بن سعید) اس کے متعلق شک کرتے ہیں۔ اس میں پانی تھا، آپؐ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور اُن کو اپنے منہ پر پھیرتے۔ فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کی بھی سختیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور فرمانے لگے: اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔ یہاں تک کہ آپؐ اُٹھا لئے گئے اور آپؐ کا ہاتھ جھک گیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا کہ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے, پوچھتے تھے, فرماتے: کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ آپؐ کی مراد یہ تھی کہ حضرت عائشہؓ کی باری کب ہوگی۔ یہ معلوم کرکے آپؐ کی ازواج نے آپؐ کو اجازت دے دی کہ جہاں آپؐ چاہیں رہیں۔ تب آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر میں رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس آپؐ فوت ہوئے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: آپؐ اس دن فوت ہوئے جس دن آپؐ میرے گھر میں میرے پاس باری پر آیا کرتے تھے۔ اللہ نے آپؐ کو اُٹھالیا اور اس وقت آپؐ کا سر میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا اور آپؐ کا لعاب میرے لعاب سے ملا۔ پھر انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اندر آئے اور اُن کے پاس مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسواک کی طرف دیکھا۔ میں نے ان سے کہا: عبدالرحمٰن! مسواک مجھے دے دو اور انہوں نے مجھے وہ دے دی۔ میں نے وہ توڑی اور توڑ کر چبائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو وہ مسواک دے دی۔ آپؐ نے اس مسواک سے مسواک کی اور آپؐ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے, ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے, انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرماتی تھیں: نبی ﷺ میرے گھر میں، میری باری کے دن، میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے اور جب آپؐ بیمار ہوتے, ہم میں سے کوئی دعا پڑھ کر آپؐ کے واسطے پناہ مانگتا۔چنانچہ میں بھی آپؐ کے لئے پناہ مانگنے لگی۔ آپؐ نے اپنا منہ آسمان کی طرف اُٹھایا اور فرمانے لگے: اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔ اور عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ ادھر آنکلے اور ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک سبز ٹہنی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا۔ میں سمجھ گئی آپؐ کو اس کی ضرورت ہے۔ میں نے وہ لی اور اس کا سرا چبایا اور اس کو پانی سے جھاڑ کر صاف ستھرا کرکے آپؐ کو وہ دے دی۔ اور آپؐ نے اس سے مسواک ایسی اچھی طرح کی کہ جو آپؐ کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے مجھے وہ مسواک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ آپؐ کا ہاتھ گرگیا، یا کہا: آپؐ کے ہاتھ سے وہ گر گئی۔ اس طرح اللہ نے میرے اور آپؐ کے لعاب کو اُس وقت اکٹھا کردیا کہ جو دنیا میں آخری دن اور آخرت میں پہلا دن تھا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) نے مجھے خبردی کہ حضرت عائشہؓ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے اس گھر سے جو سنح میں تھا, گھوڑے پر سوار ہوکر آئے اور اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔ لوگوں سے بات نہیں کی، سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس چلے آئے اور رسول اللہﷺ کی طرف گئے۔ آپؐ ایک یمنی کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپؐ کے منہ سے وہ کپڑا اُٹھایا۔ پھر آپؐ پر جھکے اور آپؐ کو بوسہ دیا اور روئے ۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اللہ کی قسم! اللہ آپؐ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو آپؐ کے لئے مقدر تھی وہ تو آپؐ پر وارد ہوچکی۔