بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
حسن بن مدرک نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ سے میں نے کہا: سورۃالحشر تو انہوں نے کہا: اسے سورۃ النضیر کہو۔ ابوعوانہ کی طرح ہُشَیم نے بھی ابوبشر سے یہی روایت بیان کی۔
عبداللہ بن ابی اسوَد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ (سلیمان) سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا۔ وہ کہتے تھے: انصار میں سے بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے کھجور کے درخت مخصوص کردیتے تھے یہاں تک کہ قریظہ اور نضیر مفتوح ہوئے تو اس کے بعد آنحضرتﷺ ہدیہ میں دیئے ہوئے درخت ان لوگوں کو واپس کرنے لگے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث(بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دئیے اور کٹوا ڈالے یعنی بُوَیرہ باغ کے۔ اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے ہیں یا جنہیں اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ہے تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت عباسؓ دونوں اپنا ورثہ مانگنے کے لئے حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زمین جو فدک میں ہے اور آپؐ کا وہ حصہ جو خیبر میں ہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمدؐ اس مال سے کھائیں گے۔ اللہ کی قسم! اپنے رشتہ داروں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار مجھے زیادہ پیارے ہیں کہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کروں۔
(تشریح)اسحاق(بن منصور) نے مجھ سے بیان کیا (کہا:) حبان نے ہمیں خبردی کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی کھجوروں کے درخت جلوا دئیے۔ کہتے تھے اور انہی کی نسبت حضرت حسان بن ثابتؓ نے یہ شعر کہے:بنولؤیکے سرداروں کے لئے یہ معمولی باتتھی وہ آگ جو بُوَیرہ میں شعلہ زن ہوئی حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: ابوسفیان بن حارث (بن عبدالمطلب) نے (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) حسان کو یہ جواب دیا:اللہ اس کارروائی کو ہمیشہ جاری رکھے اور مدینہ کے چاروں طرف آگ بھڑکتی رہے، عنقریب تم جان لوگے کہ ہم میں سے کون اس آگ سے دور رہے گا اور یہ بھی جان لو گے کہ ہمارے ملک میں سے کس علاقہ کو یہ آگ نقصان دے گی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: مالک بن اوس بن حدثان نصری نے مجھے خبردی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا (وہ ان کے پاس آگئے) اتنے میں حضرت عمرؓ کے پاس اُن کا دربان یرفأ آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ اجازت دیتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ, حضرت عبدالرحمٰن (بن عوفؓ)، حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) آپؓ سے ملیں؟ یہ لوگ آپؓ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ہاں اُن کو اندر لے آؤ۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر وہ آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ چاہتے ہیں کہ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ آپؓ سے ملیں؟ یہ دونوں اجازت چاہتے ہیں۔ آپؓ نے کہا: ہاں۔ جب یہ دونوں اندر آئے، حضرت عباسؓ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور علیؓ کے درمیان فیصلہ کردیں اور اُن دونوں کے درمیان اس مالِ غنیمت سے متعلق اختلاف تھا جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نضیر سے دلوایا تھا۔ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ نے ایک دوسرے کو سخت سُست کہا تھا۔ اس جماعت نے کہا: امیرالمؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیں اور ایک کو دوسرے سے چھٹکارا دلائیں۔حضرت عمرؓ نے کہا: ذرا ٹھہریں،میں تم کو اُس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے؟ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات مراد تھی۔ کہنے لگے: بے شک آپؐ نے یہ فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تب میں تمہیں اس معاملہ کی اصلیت بتاتا ہوں۔ اللہ پاک نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مالِ غنیمت میں ایک خاص حق دیا تھا جو آپؐ کے سوا کسی اور کو نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ جل ذکرہ نے فرمایا ہے: جو مال اللہ نے اپنے رسولؐ کو اُن سے دلوایا ہے اور تم نے اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے ہیں نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس کا چاہتا ہے مالک بنا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، تو یہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا۔ پھر بخدا آپؐ نے تمہیں چھوڑ کر یہ مال اپنے لئے محفوظ نہیں رکھا اور اسے اپنے لئے خاص نہیں کیا بلکہ تمہیں دیا اور تم پر تقسیم کیا اور اس غنیمت میں سے یہ مال باقی رہا اور اس مال میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو اُن کے ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے اور پھر جو باقی رہتا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے۔ آپؐ فوت ہوگئے تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام ہوں اور حضرت ابوبکرؓ نے یہ مال اپنے قبضہ میں لیا اور انہوں نے اس میں ایسا ہی تصرف کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور یہ کہہ کر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم دونوں کو یاد ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس میں ایسا ہی کیا جیسا کہ تم (بھی) کہتے ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اس کارروائی میں سچے اور نیک تھے اور صراط مستقیم پر قائم اور حق کے متبع رہے۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کا مَیں جانشین ہوں۔ میں نے اپنی امارت میں دو برس تک یہ مال اپنے قبضہ میں رکھا اور اس میں ویسے ہی تصرف کرتا رہا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے کیا تھا اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس میں صادق، نیک، صراطِ مستقیم پر قائم اور حق کا متبع تھا ۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں کی بات اور تمہارا معاملہ ایک ہی تھا۔ پھر تم اے عباس! (اکیلے بھی) میرے پاس آئے میں نے تم سے یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ جب مجھے مناسب معلوم ہوا کہ میں اس مال کو تم دونوں کے سپرد کروں تو میں نے کہا: اگر تم دونوں چاہو تو میں اس شرط سے تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں کہ تم دونوں پر اللہ کا عہد و پیماں ہے۔ تم اس میں ویسا ہی تصرف کرو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ نے کیا تھا اور جیسا میں نے خلافت سنبھالنے کے بعد کیا ہے ،ورنہ مجھ سے بات نہ کرو۔ تم دونوں نے کہا: اسی شرط پر ہمیں یہ دے دیں اور میں نے تمہارے سپرد یہ مال کردیا۔ اب کیا تم مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ اسی اللہ کی قسم ہے جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں! میں اس سے متعلق قیامت تک بھی کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم اس مال کو سنبھالنے سے عاجز آگئے ہو تو پھر میرے سپرد کردو، میں تمہاری جگہ اس کی نگرانی کروں گا۔
زُہری کہتے تھے: میں نے یہ حدیث عروہ بن زبیر سے بیان کی تو انہوں نے کہا: مالک بن اوس نے سچ کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی سنا، وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے حضرت عثمانؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجا وہ اس مالِ غنیمت سے جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا تھا اپنے ترکہ کا آٹھواں حصہ مانگتی تھیں مگر میں انکار کرتی تھی، میں نے اُن سے کہا: کیا تم اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم نہیں جانتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟ اس سے آپؐ کی مراد اپنی ہی ذات تھی، آلِ محمد ﷺ اس مال میں سے اپنے کھانے کے لئے لیا کریں گے۔ چنانچہ نبی ﷺ کی ازواج اس کو سن کر جو میں نے ان کو بتایا تھا ترکہ کا حصہ مانگنے سے رُک گئیں۔ عروہ کہتے تھے: یہ صدقہ حضرت علیؓ کے ہاتھ میں رہا، حضرت علیؓ نے حضرت عباسؓ کو نہ دیا اور پھر اُن سے زبردستی یہ مال لیا۔ پھر اس کے بعد حضرت حسن بن علیؓ کے ہاتھ رہا۔ پھر حضرت حسین بن علیؓ کے ہاتھ میں، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن کے ہاتھ میں۔ دونوں باری بار ی اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر زید بن حسن کے ہاتھ میں رہا اور یہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طور پر صدقہ رہا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )بن عیینہ( نے ہمیں بتایا۔عمرو )بن دینار( کہتے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو سخت اذیت دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہوگئے، کہنے لگے: یارسول اللہ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے مارڈالوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ کہا: تو پھر آپؐ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی طرف سے اس کے لئے کوئی صورت پیدا کروں۔
: اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن آدم نے ہم سے بیان کیا کہ (یحيٰ) ابن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق (سبیعی) سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو ابورافع کی طرف بھیجا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عتیکؓ اس کے گھر میں رات کے وقت گئے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔