بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہم سے بیان کیا: زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمان نے مجھے بتایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ دوگروہ آپس میں نہ لڑیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی برپا نہ ہوگی جب تک کہ دو گروہ آپس میں نہ لڑیں اور ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوگی۔ ان کا دعویٰ ایک ہوگا اور وہ گھڑی اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال کھڑے نہ ہوں۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیاکہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اثناء میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے،آپؐ اس وقت کوئی مال تقسیم کررہے تھے کہ اتنے میں ذوالخویصرہ آپؐ کے پاس آیا۔ وہ بنوتمیم میں سے ایک شخص تھا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! انصاف فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: وائے افسوس! اور کون انصاف کرے گا، اگر میں نے انصاف نہ کیا؟ پھر تو تم بے مراد ہی رہے اور گھاٹے میں پڑے، اگر میں نے انصاف نہ کیا۔ حضرت عمرؓ بولے: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے رہنے دو، کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی ہونگے کہ تم میں سے ایک اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے مقابل اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے حقیر سمجھے گا۔وہ قرآن پڑھیں گے جو اُن کی ہنسلیوں سے آگے نہیں جائے گا۔ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ اس کی بھال میں دیکھا جائے تو اس میں (خون کا) نشان تک نہ پایا جائے۔ پھر اس کے جوڑ کی جگہ کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی نشان نہ پایا جائے۔ پھر اس کے بانس کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی نشان نہ پایا جائے۔ (نَضِیّ) تیر کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ پھر پَر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی نشان نہ پایا جائے۔ وہ لید اور خون سے صاف نکل گیا ہے۔ ان لوگوں کی نشانی ایک سیاہ فام شخص ہوگا جس کے بازوؤں میں سے ایک بازو عورت کے پستان یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا جو تھلتھلاتا ہوگا۔ وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لوگوں میں تفرقہ ہوگا۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور میں شہادت دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ان کو قتل کیا اور اس وقت میں ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ اس کی تلاش کی گئی اور اس کو لے کر آئے۔ میں نے اس کو دیکھا۔ وہ اس حُلیہ کے مطابق تھا جو حلیہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بیان کیا تھا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے خیثمہ سے، خیثمہ نے سُوَید بن غفلہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات میں تم سے بیان کروں تو (یہ سمجھو کہ) آسمان سے گرپڑنا مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں آپؐ پر افترا کروں۔ اور جب ایسے امور کے متعلق میں تم سے بیان کروں جن کا تعلق میر ے اور تمہارے درمیان ہے تو (تمہیں معلوم ہی ہے کہ) جنگ ایک حیلہ (تدبیر) ہی ہوتی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپؐ فرماتے تھے: اس زمانہ کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو کمسن ہوں گے، عقل کے کچے، سارے جہان کی اچھی سے اچھی باتیں کریں گے۔ اسلام سے نکلے ہوں گے جیسے تیر نشان کے پار نکل جاتا ہے۔ ان کے ایمان ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائیں گے۔ تم جہاں کہیں بھی ان سے ملو، ان کو مار ڈالو کیونکہ ان کا مار ڈالنا اس شخص کے لئے قیامت کے دن ثواب کا موجب ہوگا جو انہیں مار ڈالے گا۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے روایت کی، (کہا:) قیس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت خباب بن ارتؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا اور آپؐ اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر ٹیک دئیے بیٹھے تھے۔ ہم نے آپؐ سے کہا: کیا آپؐ اللہ سے ہمارے لئے نصرت کی دعا نہیں کریں گے؟ ہماری بہبودی کے لئے دعا نہیں کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے جو پہلے لوگ تھے، ان میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا جس کے لئے زمین میں گڑھا کھوداجاتا۔ پھر وہ اس میں گاڑ دیا جاتا اور آرا لا کر اس کے سر پر رکھا جاتا اور وہ دوٹکڑے کر دیا جاتا اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی اور لوہے کی کنگھیاں چلا کر اس کا گوشت ہڈیوں یا پٹھوں سے نوچتے اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی۔ اللہ کی قسم! اس سلسلہ (کی کامیابی) کو (پروردگار) ضرور مکمل کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا۔ کسی سے نہیں ڈرے گا، سوا اللہ کے، یا اپنی بکریوں کی بابت بھڑئیے سے۔ مگر بات یہ ہے کہ تم (کامیابی) جلدی چاہتے ہو۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ازہر بن سعد نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن انس نے مجھے خبردی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو غیر حاضر پایا ۔ تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں ا س کا پتہ آپؐ کو لا کر دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آیااور ان کو اپنے گھر میں اپنا سر اوندھا کئے ہوئے بیٹھے پایا۔ اس نے پوچھا: آپؓ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: بُرا حال ہے۔ اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ بلند کیا کرتا تھا۔ اس کے تو عمل رائیگاں گئے اور اب وہ دوزخیوں میں سے ہے۔ یہ سن کو وہ شخص آیا اور اس نے آپؐ کو خبر دی کہ انہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ موسیٰ بن انس کہتے تھے: پھر وہ دوسری دفعہ بہت ہی بڑی بشارت لے کر واپس گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو، بلکہ جنتیوں میں سے ہو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ایک شخص سورۂ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے گھر میں جانور بندھا ہوا تھا تو وہ بدکنے لگا۔ اتنے میں کیا دیکھا کہ کُہر{یا بدلی}ہے جو اس پر چھا گئی ہے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: اے فلاں! تم قرآن پڑھتے رہو کیونکہ یہی وہ سکینت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے نازل ہوئی یا فرمایا: قرآن پڑھنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نازل ہوتی ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیاکہ احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے ہمیں بتایا۔ زُہَیر بن معاویہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق نے ہمیں بتایا۔ میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے باپ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور اس سے ایک پالان خریدی۔ انہوں نے حضرت عازبؓ سے کہا: اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ میرے ساتھ یہ اُٹھا کر لے جائے۔ حضرت براءؓ کہتے تھے: چنانچہ میں ان کے ساتھ پالان اُٹھا کر لے گیا اور میرے باپ اس کی قیمت پرکھوانے کے لئے نکلے تو میرے باپ نے ان سے کہا: ابوبکرؓ! وہ واقعہ تو مجھے بتائیں کہ جب آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تھا تو آپ دونوں نے کیا کِیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم رات بھر چلتے رہے اور دوسرے دن بھی اس وقت تک کہ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا اور راستہ بالکل خالی ہوگیا۔ کوئی بھی اس پر نہیں گذرتا تھا اور ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کا سایہ تھا۔ وہاں دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم اس کے پہلو میں اُترے اور میں نے نبی ﷺ کے لئے جگہ اپنے ہاتھ سے درست کی تا آپؐ وہاں سوئیں اور میں نے اس جگہ پر پوستین بچھا دی اور کہا: یارسول اللہ! سو جائیں اور میں آپؐ کے اردگرد سب طرف نگاہ رکھوں گا (یعنی پہرہ دوں گا۔) آپؐ سوگئے اور میں آپؐ کے اردگرد نگاہ ڈالنے کی نیت سے نکلا۔ میں نے اچانک کیا دیکھا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف سامنے سے آرہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان کے سایہ میں اسی طرح ٹھہرنا چاہتا تھا جس طرح ہم نے چاہا۔ میں نے پوچھا: لڑکے تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا، یا (کہا:) مکہ کے ایک شخص کا۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیا تم دودھ دوہو گے؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے ایک بکری لی۔ میں نے کہا: تھن کو مٹی، بال ، کیچڑ وغیرہ سے صاف کر دو۔ ابواسحاق کہتے تھے: میں نے حضرت براءؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر جھاڑتے تھے۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس چھاگل تھی (سفر میں ) مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُٹھا لایا تھا تا آپؐ اس سے سیر ہو کر پانی پئیں اور وضو کریں ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپؐ کو جگاؤں۔ میں آپؐ کے پاس اس وقت آیا جب آپؐ خود جاگے۔ میں نے کچھ پانی دودھ پر ڈالا ۔ یہاں تک کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پیجئے۔ (حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے:) آپؐ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں آیا؟ میں نے کہا: ہاں آگیا ہے۔ کہتے تھے: جب سورج ڈھل چکا تو ہم وہاں سے روانہ ہوگئے اور سراقہ بن مالک ہمارا تعاقب کررہا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں دشمن نے پالیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: غم نہ کریں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا اس کے سمیت اپنے پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا۔ زُہَیر نے شک کیا کہ آیا سخت کا لفظ کہا تھا یا نہیں۔ سراقہ کہنے لگا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں نے مجھ پر بددعا کی ہے۔ اس لئے میرے لئے اب دعا کریں۔ اللہ کے نام کا یہ وعدہ آپ سے کرتا ہوں کہ میں تعاقب کرنے والوں کو تم سے واپس کردوں گا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور اس نے چھٹکا را پایا تو وہ جس کسی سے بھی ملتا یہی کہتا: میں تمہاری جگہ دیکھ آیا ہوں۔ چنانچہ وہ جس کسی کو بھی ملتا، اسے واپس کردیتا۔ کہتے تھے: اور اس نے ہم سے وفاداری کی۔
معلیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہمیں بتایا۔ خالد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس آئے کہ اس کی عیادت کریں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپؐ کسی بیمار کے پاس عیادت کو آتے تو فرماتے: کوئی فکر کی بات نہیں۔ ان شاء اللہ؛ یہ بیماری پاک ہونے کا موجب ہوگی۔ تو آپؐ نے اس بدوی سے فرمایا: کوئی فکر کی بات نہیں۔ ان شاء اللہ یہ پاک ہونے کا موجب ہوگی۔ اس نے کہا: آپؐ کہتے ہیں پاک ہونے کا موجب ہوگی۔ ہرگز نہیں؛ بلکہ یہ ایسا بخار ہے جو بہت ہی بوڑھے پر جوش مار رہا ہے یا کہا: جنجھلا کر حملہ کررہا ہے۔ قبروں کی ہی اس کو زیارت کرائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا یونہی سہی ۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص عیسائی تھا، وہ مسلمان ہوگیااور اس نے سورۂ بقرہ اور آل عمران پڑھی۔ وہ نبی ﷺ کے لئے لکھا کرتا تھا۔ وہ پھر عیسائی ہوگیا اور وہ یہ کہا کرتا تھا: محمدؐ تو کچھ نہیں جانتا تھا مگر وہی جو میں انہیں لکھ دیتا تھا۔ اللہ نے اس کو ہلاک کیا اور لوگوں نے اسے دفن کردیا۔ صبح جو ہوئی تو کیا دیکھا کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ محمدؐ اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ جب یہ شخص ان سے بھاگ آیا تو انہوں نے قبر کھود کر ہمارے ساتھی کو باہر نکال پھینکا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے لئے پھر گڑھا کھودا اور اسے بہت گہرا کیا۔ جب پھر صبح ہوئی تو کیا دیکھا کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا ہے۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہ محمدؐ اور اس کے ساتھیوں (ہی) کا کام ہے کہ جب یہ شخص ان سے بھاگ آیا تو انہوں نے قبر کھود کر ہمارے ساتھی کو باہر نکال پھینکا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے لئے پھر جہاں تک ان سے ہوسکا، زمین میں گہراگڑھا کھودا۔ صبح کو پھر وہی حال تھا کہ زمین نے اس کو باہر پھینکا ہواتھا تو وہ سمجھ گئے کہ یہ کام آدمیوں کا نہیں۔ اس لئے انہوں نے اسے پھر یونہی پھینک دیا۔