بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت امّ حبیبہ بنت ابی سفیانؓ نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ ان کے پاس گھبرائے ہوئے آئے، فرما رہے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کو اس شر سے ہلاکت ہوگی جو قریب آپہنچا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف ہوگیا ہے اور آپؐ نے اپنے انگوٹھے اور اس انگلی سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، حلقہ بنا کر بتایا (کہ اس قدر۔) حضرت زینبؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہمارے اندر نیک آدمی بھی موجود ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں جب گند بہت ہو جائے۔
اور زہری سے مروی ہے کہ ہند بنت حارث نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت امّ سلمہؓ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ! کیا کیا خزانے نازل کئے گئے ہیں؛ اور کیا کیا فتنے نازل کئے گئے ہیں۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سعید نے مجھے بتایا کہ اسماعیل سے روایت ہے کہ قیس نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھی صحابہ نے (بھلائی) خیر (کی حالت) دریافت کی اور میں نے (آنحضرت ﷺ سے) شر (کی حالت) دریافت کی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ بن ماجشون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابوسعیدؓ نے مجھے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں پسند کرتے ہو اورتم ان کو رکھتے ہو، اس لئے تم ان کو اچھی طرح رکھو اور ان کے ناک صاف ستھرے رکھا کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بکریاں مسلمان کا بہترین مال ہوں گی۔ وہ ان کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بارش کی جگہوں میں لئے پھرے گا۔ اپنے دین کو فتنوں سے بچاتا ہوا بھاگتا پھرے گا۔
عبدالعزیز اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے سے اچھا ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اچھا ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے اچھا ہوگا۔ جو ان کو جھانک کر دیکھے گا تو وہ فتنے اس کو پہلے سے ہی جھانک کر دیکھ رہے ہوں گے اور جو کوئی پناہ کی جگہ پائے تو وہ اس میں پناہ گزیں ہوجائے۔
محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوتیاح سے، ابوتیاح نے ابوزُرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش کا یہ قبیلہ (یعنی بنو امیہ) لوگوں کو تباہ کردے گا۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپؐ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کاش کہ لوگ ان سے الگ ہی رہیں۔ محمود (بن غیلان) نے کہا: ابوداؤد (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ سے مروی ہے۔ انہوں نے ابو تیاح سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے ابوزُرعہ سے سنا۔
احمد بن محمد مکی نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن یحيٰ بن سعید اموی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مروان اور حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ تھا۔ تو میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا، کہتے تھے: میں نے ان سے سنا جو سچے تھے اور جن سے سچے وعدے کئے گئے۔ فرماتے تھے: میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لونڈوں سے ہوگی۔ تو مروان نے کہا: وہ لونڈے ہوں گے؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: اگر تم چاہو تو میں ان کا نام بھی لے دوں۔ بنی فلاں اور بنی فلاں۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید نے ہمیں بتایا، کہا: ابن جابر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بُسر بن عبیداللہ حضرمی نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوادریس خولانی نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: لوگ اچھی باتوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کرتے تھے اور شر کے متعلق آپؐ سے مَیں پوچھتا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے نہ آگھیرے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! ہم جہالت اور شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے (آپؐ کو بھیج کر) یہ خیروبرکت ہم کو دی۔ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد بھی کوئی خیر ہوگا؟ فرمایا: ہاں اور اس میں کچھ بُرائی بھی ملی ہوگی۔ میں نے کہا: اس میں کیا بُرائی ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میرے راستہ کے سوا کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کریں گے۔ ان میں کچھ باتیں تو تمہیں اچھی معلوم ہوں گی اور کچھ باتیں ایسی ہوں گی جن کو تم بُرا مناؤ گے۔ میں نے کہا: کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے جو اُن کی بات مان کر دروازوں کی طرف گیا تو وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! ہم سے ان کا حال بیان فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ ہماری قوم سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے پوچھا: آپؐ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر اس شر نے مجھے آگھیرا؟ آپؐ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام؟ تو آپؐ نے فرمایا: پھر ان سب فرقوں سے الگ رہو اگرچہ تمہیں درخت کی جڑیں بھی چبانی پڑیں۔ تم اسی حالت میں رہو، خواہ موت کی نوبت پہنچ جائے۔