بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو تم میں سے نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں سوائے ہماری ایک بہن کے بیٹے کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔
اورحضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ مجھے پردہ کئے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے تو حضرت عمرنے ان حبشیوں کو ڈانٹا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کھیلنے دو۔ بنی ارفدہ بے فکر ہوکر کھیلتے جاؤ۔ آپؐ نے أَمْنًا جو فرمایا تو اس سے آپؐ کی یہ مراد تھی کہ تمہیں کوئی ڈر نہیں، امن سے کھیلتے رہو۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تعجب نہیں کہ اللہ قریش کی گالیوں اور ان کی لعنتوں کو مجھ سے کیونکر دور کرتا ہے۔ وہ مذمم (مذمت کیا ہوا) کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ سلیم بن حیان نے ہمیں بتایا کہ سعید بن میناء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور دوسرے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس نے اس کو مکمل کردیا ہو اور خوب آراستہ کردیا ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو تو لوگ اس میں داخل ہونے لگے اور وہ تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے: کیسا اچھا گھر ہوتا اگر اس میں اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے تو ایک شخص نے پکارا: ابوالقاسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منیٰ کے دنوں میں ان کے ہاں آئے اور اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا اوڑھے ہوئے تھے تو حضرت ابوبکرؓ نے ان دونوں کو جھڑکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا یا اور فرمایا: ابوبکر ان کو رہنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں اور وہ منیٰ (یعنی دسویں، گیارھویں اور بارھویں ذوالحجہ) کے دن تھے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے،ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: حسانؓ نے مشرکوں کی ہجو کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپؐ نے فرمایا: تم میرے خاندان کو کیونکر بچاؤ گے! حضرت حسانؓ نے کہا: میں آپؐ کو ان سے ایسا نکالوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔ نیز ہشام نے اپنے باپ سے یہ بھی روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہؓ کے پاس حسانؓ کو بُرا کہنے لگا تو انہوں نے کہا: اسے بُرا مت کہو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتا تھا۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: معن نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت جبیر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں اور احمد ہوں، میں ماحی یعنی مٹانے والا ہوں جس کے ذریعہ سے اللہ کفر کو مٹائے گا، میں حاشر ہوں یعنی اکٹھا کرنے والا، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور میں عاقب ہوں یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے خوب آراستہ پیراستہ کیا ہو سوائے اس جگہ کے جہاں کونے کی ایک اینٹ رکھی جاتی ہے۔ لوگ اس گھر میں پھرنے لگے اور اس سے تعجب کرتے اور کہتے: یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ آپؐ فرماتے تھے: میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیینؐ ہوں۔
(تشریح)