بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ عمرو بن دینار نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم حملے میں نکلے اور مہاجرین میں سے کچھ لوگ آپؐ کے پاس اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہوگئے یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے اور مہاجرین میں ایک شخص بڑا کھلاڑی تھا۔ اس نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی۔ وہ انصاری برافروختہ ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے اپنے آدمیوں کو پکارنا شروع کیا۔ انصاری نے کہا: اے انصار! دُہائی، پہنچنا۔ اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! دُہائی، پہنچنا۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: یہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی کیا دُہائی پکار ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو آپؐ کو بتایا گیا کہ ایک مہاجر نے انصاری کے سرین پر ضرب لگائی ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت کی ان باتوں کو چھوڑ دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں؛ اور عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول نے کہا: کیا وہ ہمارے مقابل پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو معزز ہے وہ ذلیل کو اس سے ضرور نکال کر چھوڑے گا۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: یا نبی اللہ! کیا ہم اس خبیث کو مار نہ ڈالیں یعنی عبداللہ (بن اُبَیّ) کو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیں لوگ باتیں نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو مروا ڈالتا ہے۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ابوحصین سے، ابوحصین نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن لحي بن قمعہ بن خندف خزاعہ کا باپ تھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلم اور غفار، مزینہ اور جہینہ میں سے بعض لوگ یا فرمایا: جہینہ میں سے یا مزینہ میں سے کچھ لوگ اللہ کے نزدیک بہتر ہوں، یا فرمایا: (اللہ کے نزدیک) قیامت کے دن بہتر ہوں اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے ۔
(امام بخاری نے کہا:) اور قبیصہ نے ہم سے کہا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: اپنے خاندان کے لوگوں کو جو قریبی رشتہ دار ہوں، خطرے سے آگاہ کرو؛ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلہ کا نام لے کرپکارنے لگے۔
ثابت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عبداللہ بن مُرّہ سے، عبداللہ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز سفیان سے مروی ہے۔ انہوں نے زُبید سے، زُبید نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے۔ حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے جو گالوں کو پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی باتیں پکارے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایاکہ زہری سے روایت ہے۔ وہ کہتے تھے: میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔انہوں نے کہا: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک دیا جاتا تھا اور لوگوں میں سے کوئی بھی اس کو نہ دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے جو وہ اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے تھے تو اس پر کوئی بوجھ نہ لادا جاتا۔ سعید کہتے تھے: اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر بن لحي خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں دوزخ میں گھسیٹ رہا ہے اور وہی پہلا شخص تھا جس نے سائبہ جانور چھوڑے۔
(تشریح)زید نے جو اخزم کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا کہ ابوقتیبہ سلم بن قتیبہ نے کہا: مثنیٰ بن سعید قصیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابوجمرہ نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن عباسؓ نے ہم سے کہا: کیا میں تمہیں ابوذرؓ کے مسلمان ہونے کا واقعہ نہ بتاؤں؟ ابوجمرہ کہتے تھے: ہم نے کہا:کیوں نہیں ضرور بتائیں۔ انہوں نے کہا: ابوذرؓ کہتے تھے: میں غفار قبیلے سے ایک شخص تھا۔ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص مکہ میں ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا: اس شخص کے پاس جاوٴ اور اس سے باتیں کرو اور پھر مجھے اس کا حال بتاؤ۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور آپؐ سے ملا۔ پھر واپس آگیا۔ میں نے پوچھا: کیا خبر لائے؟ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے ایک ایسا شخص دیکھا ہے جو اچھی بات کا حکم کرتا ہے اور بُری بات سے روکتا ہے۔ میں نے اس سے کہا: اس خبر نے میری تسلی نہیں کی۔ آخر میں نے ایک توشہ دان اور چھڑی لی اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ میں کسی کو نہیں پہچانتا تھا اور میں ناپسند کرتا تھا کہ آنحضرتﷺ کے متعلق (کسی سے) پوچھوں اور میں زمزم کے پانی سے پیتا تھا اور مسجد میں رہتا تھا۔ وہ کہتے تھے: اتنے میں حضرت علیؓ میرے پاس سے گذرے اور کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مسافر ہے۔ کہتے تھے: میں نے کہا: ہاں۔ حضرت علیؓ نے کہا: تو پھر گھر چلیں؟ کہتے تھے: میں ان کے ساتھ چلاگیا۔ وہ مجھ سے کسی بات کے متعلق نہیں پوچھتے تھے اور میں ان کو کچھ نہ بتاتا تھا۔ جب میں صبح کو اُٹھا تو میں سویرے ہی مسجد کو چلا گیا تا کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق پوچھوں اور کوئی بھی مجھے ان کے متعلق کچھ نہیں بتاتا تھا۔ کہتے تھے: پھر حضرت علیؓ میرے پاس سے گذرے اور کہنے لگے: اس شخص سے ابھی اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اپنا ٹھکانہ پہچانے۔کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھ چلیں۔ کہتے تھے: پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ کا کیا کام ہے؟ کیا غرض آپ کو اس شہر میں لائی ہے؟ کہتے تھے: میں نے ان سے کہا: اگر آپ میری بات پوشیدہ رکھیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں۔ حضرت علیؓ نے کہا: میں پوشیدہ رکھوں گا۔ کہتے تھے: میں نے ان سے کہا: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ یہاں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ یہ سن کر میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ ان سے گفتگو کرے۔ وہ لوٹ آیا اور اس نے اصل حالات میں میری تسلی نہیں کی۔ اس لئے میں نے چاہا کہ میں خود اُن سے ملوں۔ حضرت علیؓ نے یہ سن کر ان سے کہا: دیکھو آپ نے اچھا کیا ہے۔ میں بھی انہی کے پاس جارہا ہوں۔ اس لئے میرے پیچھے پیچھے چلے آئیں۔ جہاں میں داخل ہوں وہیں آپ بھی داخل ہوجائیں۔ اگر میں نے کسی کو دیکھا کہ جس سے آپ کے متعلق مجھے ڈر ہو تو میں دیوار سے لگ کر کھڑا ہوجاؤں گا جیسے کہ میں اپنی جوتی درست کررہا ہوں اور آپ چلتے جانا۔ چنانچہ حضرت علیؓ چل پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک مکان کے اندر گئے اور میں بھی ان کے ساتھ ہی نبی ﷺ کے پاس اندر گیا۔ میں نے ان سے کہا: آپؐ میرے سامنے اسلام پیش کریں اور آپؐ نے پیش کیا تو میں وہیں اسی وقت مسلمان ہوگیا۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: ابوذرؓ اس بات کو پوشیدہ رکھو اور اپنے شہر کو لوٹ جاؤ۔ جب تمہیں یہ خبر پہنچے کہ ہم غالب آگئے ہیں تو اس وقت چلے آنا۔ میں نے کہا: اسی ذات کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میں تو ان کے درمیان اسلام کا زورشور سے اعلان کروں گا۔ چنانچہ وہ مسجد میں آئے اور کچھ قریش بھی وہاں تھے تو انہوں نے کہا: اے قریش کے لوگو! میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: اُٹھو اس بے دین کو پکڑو۔ وہ اُٹھے اور مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں مرنے کو تھا۔ اتنے میں حضرت عباسؓ (آنحضرتؐ کے چچا) میرے پاس (وقت پر) آ پہنچے اور وہ آکر مجھ پر اوندھے جھکے اور پھر ان لوگوں سے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: تمہارا ستیاناس؛ کیا غفار کی قوم سے ایک شخص کو مارتے ہو حالانکہ تمہاری تجارت کا اور تمہارے آنے جانے کا راستہ غفار کے پاس سے گذرتا ہے۔ یہ سن کر وہ مجھ سے ہٹ گئے۔ جب میں دوسرے دن صبح اُٹھا، میں پھر گیا اور میں نے ویسے ہی کہا جو میں نے کل کہا تھا۔ وہ کہنے لگے: اُٹھو اس بے دین کو پکڑو اور میری وہی گت بنائی گئی جو گت میری کل بنائی گئی تھی اور حضرت عباسؓ میرے پاس (وقت پر) آپہنچے اور وہ آکر مجھ پر اوندھے جھکے اور انہوں نے وہی کہا جو کل کہا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: تو حضرت ابوذرؓ اس طرح پہلے مسلمان ہوئے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اگر تم یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ عرب کس قدر جاہل تھے تو سورۂ انعام کی ایک سو تیس آیتوں کے بعد پڑھو: وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو بے وقوفی سے بغیر علم کے قتل کر دیا ہے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا تھا اسے اللہ پر افتراء کرتے ہوئے (اپنے پر) حرام کر لیا ہے۔ وہ گھاٹا پانے والے ہو گئے ہیں اور گمراہ ہو گئے ہیں اور وہ ہدایت پانے والوں میں سے نہیں (بنے۔)
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن مرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ کہتے تھے: جب یہ آیت نازل ہوئی: اپنے خاندان کے لوگوں کو جو قریبی رشتہ دار ہوں، خطرے سے آگاہ کرو؛ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں کے نام لے کر پکارنے لگے: اے بنی فہر! اے بنی عدی! یہ سب قریش کے خاندان تھے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ ابوزناد نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدمناف کے بیٹو! اللہ سے اپنی جانیں خرید لو۔ اے عبدالمطلب کے بیٹو! اللہ سے اپنی جانیں خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی ماں! رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی! تم دونوں بھی اللہ سے اپنی جانیں خرید لو۔ میں تمہارے لئے اللہ کے مقابل کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ تم دونوں میرے مال سے جو تم چاہو، مانگو۔
(تشریح)