بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں کو لٹکاتے تھے اور مشرک لوگ مانگ نکالا کرتے تھے اور اہل کتاب بالوں کو لٹکاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان امور میں جن کے متعلق آپؐ کو کچھ حکم نہیں دیا گیا تھا، اہل کتاب کے موافق عمل کرنا پسند کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر میں مانگ نکالنے لگے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درشت زبان نہ تھے اور نہ تکلف سے درشتی کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: تم میں بہتر وہی ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم، چھونے میں نہ کسی باریک ریشمی کپڑے کو پایا اور نہ ہی دیباج (موٹے ریشمی کپڑے ) کو اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی۔ راوی نے رِیْح کا لفظ بیان کیا یا عَرف کا۔
علی بن جعد نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبردی۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر آپؐ اس کو پسند کرتے تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
حسن بن صباح بزار نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات اس طرح کرتے کہ اگر کوئی شمار کرنے والا الفاظ کو شمار کرنا چاہتا تو وہ ان کو گن لیتا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باتوں کے متعلق اختیار دیا گیا تو آپؐ ضرور ان میں سے زیادہ آسان بات اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اور اگر وہ گناہ ہوتا تو پھر آپؐ سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں لیا سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کی ہتک کی جاتی ہو تو پھرآپؐ اس میں اللہ کے لئے انتقام لیتے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے عبداللہ بن ابی عتبہ سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری سے بھی زیادہ شرمیلے تھے جو اپنے پردے میں ہوتی ہے۔ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) اور (عبدالرحمن) بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا کہ شعبہ نے ہم سے اسی طرح حدیث بیان کی (اور اس میں یہ زیادہ ہے:) جب آپؐ کوئی بات بُری سمجھتے تو آپؐ کے چہرہ سے پہچانا جاتا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیاکہ بکر بن مضر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اعرج سے، اعرج نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بُحَینہ اسدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان فاصلہ رکھتے ، اتنا کہ ہم آپؐ کی بغلوں کو دیکھتے۔ قتیبہ کہتے تھے کہ ابن بُکَیر نے کہا کہ بکر نے ہم سے یوں بیان کیا کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھتے۔
عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی دعا میں بھی اپنے ہاتھ نہیں اُٹھایا کرتے تھے مگر استسقاء میں آپؐ اپنے ہاتھ اتنے اُٹھاتے کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔
حسن بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا کہ مالک بن مغوَل نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے عَون بن ابی جُحَیفہ سے سنا۔انہوں نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا کہ وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپؐ اس وقت ابطح میں اُترے ہوئے تھے۔ دوپہر کے وقت جبکہ سخت گرمی تھی، آپؐ ایک بڑے خیمے کے اندر تھے۔ اتنے میں حضرت بلالؓ نکلے اور انہوں نے نماز کے لئے اذان دی۔ پھر اندر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچا ہوا پانی باہر لے گئے تو لوگ اس پر گرپڑے۔ اس میں سے پانی لینے لگے۔ پھر وہ اندر آئے اور انہوں نے برچھی نکالی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر آئے۔ مجھے یہ واقعہ ایسا یاد ہے کہ اب بھی میں آپؐ کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے برچھی گاڑی۔ پھر آپؐ نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ آپؐ کے سامنے سے گدھا بھی گذر رہا تھا اور عورت بھی۔