بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
اور لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: کیا تمہیں فلاں کے باپ پر تعجب نہیں آتا۔ وہ آیا اور میرے حجرے (کے کونے) میں ایک طرف آبیٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرنے لگا۔ وہ باتیں مجھے سنا رہا تھا اور میں اس وقت نفل پڑھ رہی تھی۔ پیشتر اس کے کہ میں اپنی نماز ختم کرتی، اُٹھ کر چلا گیا؛اور اگر میں اس کو پالیتی تو میں اس کو ٹوکتی کہ رسول اللہ ﷺ تو ایسے نہیں تھے کہ جلدی جلدی باتیں کرتے جیسا کہ تم کرتے ہو۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سعید مقبری سے، سعید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: آپؐ رمضان میں یا اس کے سوا کسی اور مہینے میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھا کرتے تھے۔ آپؐ چار رکعتیں پڑھتے اور ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کا کچھ نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کا کچھ نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری آنکھ توسوتی ہے مگر میرا دل نہیں سوتا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت کی۔ (کہا:) میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ اس رات کا واقعہ بیان کرتے تھے جس رات نبی ﷺ کو کعبہ کی مسجد سے لے گئے۔ یہ واقعہ اس زمانہ سے پہلے کا ہے کہ آپؐ کو وحی ہوئی۔ تین آدمی آئے اور آپؐ اس وقت مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ تو ان میں سے پہلے نے کہا: ان میں سے وہ کون ہے؟ اس نے کہا: جو اُن کے درمیان ہے وہی ان سب سے بہتر ہے۔ تیسرے نے جو اخیر میں تھا یہ کہا کہ جو ان سب میں سے بہتر ہے، اس کو لے چلو۔ یہ واقعہ اس رات اتنا ہی ہوا تھا۔ پھر آپؐ نے ان کو نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ ایک دوسری رات وہ آئے۔ یہ واقعہ منجملہ انہی امور کے ہے جن کو آپؐ کا دل مشاہدہ کیا کرتا تھا اور نبی ﷺ کی آنکھیں سوئی ہوئی ہوتیں اور آپؐ کا دل نہ سوتا اور اسی طرح تمام انبیاء ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کے دل نہیں سوتے۔ جبرئیل نے آپؐ کو اپنے ساتھ لیا اور پھر آپؐ کو لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ سلم بن زَرِیر نے ہمیں بتایا۔ میں نے ابورجاء سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمران بن حصینؓ نے ہم سے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور وہ رات بھر چلتے رہے۔ جب صبح ہونے لگی تو آرام کرنے کے لئے اُترے۔ ان کی آنکھ لگ گئی اور اتنی دیر سوئے رہے کہ سورج بلند ہوگیا۔ تو حضرت ابوبکرؓ پہلے تھے جو اپنی نیند سے بیدار ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کوآپؐ کی نیند سے نہیں جگایا جاتا تھا جب تک کہ آپؐ خود ہی بیدار نہ ہوں۔ پھر حضرت عمرؓ جاگے۔ حضرت ابوبکرؓ آنحضرت ﷺ کے سرہانے بیٹھ گئے اور تکبیر کہنے لگے اور اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ جاگے (اور وہاں سے کوچ کا حکم دیا۔) پھر دوسری جگہ جاکر ٹھہرے اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ لوگوں میں سے ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوچکے تو آپؐ نے پوچھا: اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کس بات نے روکا ہے؟ اس نے کہا: مجھے نہانے کی ضرورت ہوگئی تھی۔ آپؐ نے اسے تیمم کرنے کے لئے فرمایا۔ پھر اس نے نماز پڑھی۔ اور(حضرت عمرانؓ کہتے تھے کہ ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے ان سواروں میں رکھا جو آپؐ کے آگے آگے جارہے تھے اور ہمیں سخت پیاس تھی۔ ابھی ہم جارہے تھے کہ ہم نے ایک عورت کو دیکھا جو دو پکھالوں کو اونٹ پر لادے ان کے درمیان اپنے پاؤں لٹکائے جارہی تھی۔ ہم نے اس سے کہا: پانی کہاں ہے ؟ وہ بولی: یہاں تو کوئی پانی نہیں۔ ہم نے کہا کہ تمہارے گھر والوں اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ کہنے لگی: ایک دن اور رات ۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔ اس نے کہا: رسول اللہ کیا ہوتا ہے؟ ہم نے اس کی کچھ پیش نہ چلنے دی اور ہم اس کو آگے آگے لئے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لے آئے تو اس نے آپؐ سے بھی وہی باتیں کیں جو ہم سے کی تھیں سوا اس کے کہ اس نے آپؐ سے یہ بھی بیان کیا کہ وہ یتیم بچوں والی ہے۔ آپؐ نے اس کے دونوں پکھال (اُتارنے) کے متعلق فرمایا (جو نیچے اتاری گئیں۔) آپؐ نے ان کے دہانوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر ہم چالیس آدمیوں نے جو پیاسے تھے پانی پیا؛ اتنا کہ ہم سیر ہوگئے اور ہم نے ہر ایک مشکیزہ اور چھاگل جو ہمارے پاس تھی بھر لی۔ البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو نہیں پلایا اور ابھی وہ پکھالیں اتنی بھری ہوئی تھیں کہ قریب تھا کہ پانی ان میں سے بہہ پڑتا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جو تمہارے پاس کھانے کی چیز ہو، لے آؤ۔ تو اس عورت کے لئے روٹیوں کے ٹکڑے اور کھجوریں اکٹھی کی گئیں۔ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی تو کہنے لگی: میں ایسے شخص سے ملی ہوں جو سب لوگوں سے بڑھ کر جادوگر ہے یا وہ نبی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ پھر اللہ نے اس عورت کے طفیل اس قبیلہ کو ہدایت دی اور وہ بھی مسلمان ہوگئی اور اس (قبیلہ) کے لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اور آپؐ اس وقت زوراء مقام میں تشریف فرما تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا۔ پانی آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا اور سب لوگوں نے وضو کیا۔ قتادہ نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: تم کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: تین سو یا تین سو کے قریب۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کی نماز کا وقت آ پہنچا تھا۔ وضو کا پانی تلا ش کیا گیا تو لوگوں نے نہ پایا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں سے فرمایا: اس سے وضو کریں۔ میں نے پانی کو دیکھا کہ آپؐ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا۔ لوگ وضو کرنے لگے ،یہاں تک کہ ان سبھی نے ایک سرے سے آخر تک وضو کیا۔
عبدالرحمٰن بن مبارک نے ہم سے بیان کیا کہ حزم (بن مہران) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حسن (بصری) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں نکلے اور آپؐ کے ساتھ آپؐ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے تو وہ چل پڑے۔ نماز کا وقت آیا تو ان کو پانی نہ ملا کہ وضو کرتے۔ لوگوں میں سے ایک شخص چلا گیا اور ایک پیالہ لے آیا جس میں کچھ تھوڑا سا پانی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور وضو کیا۔ پھر آپؐ نے اپنی چار انگلیاں اس پیالے پر پھیلا دیں اور فرمایا: اُٹھو اور وضو کرو۔ تو سب لوگوں نے وضو کیا اور انہوں نے اس پانی سے پورا وضو کیا جیسا کہ کرنا چاہتے تھے اور وہ ستّر اسّی کے قریب قریب تھے۔
عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے یزید (بن ہارون) سے سنا کہ حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نماز کا وقت آپہنچا تو جن کا گھر مسجد کے قریب تھا، وہ اُٹھ کر وضو کر آئے اور کچھ لوگ رہ گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا۔ آپؐ نے اپنی ہتھیلی اس میں رکھی مگر وہ لگن اتنا چھوٹا تھا کہ آپؐ اس میں اپنی ہتھیلی پھیلا نہ سکے تو آپؐ نے اپنی انگلیاں اکٹھی کیں اور انہیں لگن میں رکھا اور پھر سب لوگوں نے وضو کیا۔ (حُمَید نے کہا:) میں نے پوچھا: وہ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: اسّی آدمی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ حُصَین نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، سالم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور نبی ﷺ کے سامنے ایک چھوٹا سا لوٹا تھا اور آپؐ نے وضو کیا۔ لوگ بیتاب ہوکر اس کی طرف لپکے۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس پانی نہیں کہ ہم وضو کریں اور نہ اتنا پانی ہے کہ پئیں۔ صرف وہی ہے جو آپؐ کے سامنے ہے۔ آپؐ نے اس لوٹے میں اپنا ہاتھ رکھ دیا تو پانی آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح پھوٹنے لگا۔ ہم نے پانی پیا اور وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا: تم کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو بھی ہمیں کافی ہوتا۔ ہم پندرہ سو تھے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو تھے اور حدیبیہ ایک کنواں ہے۔ ہم نے اس کا سارا پانی کھینچ لیا حتّی کہ اس میں ایک قطرہ بھی نہیںچھوڑا۔ یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کی مینڈھ پر بیٹھ گئے اور آپؐ نے کچھ پانی منگوایا۔ کلّی کی اورکنوئیں کے پانی میں وہ کلّی ڈال دی۔ بہت دیر نہیں ٹھہرے تھے۔ پھر ہم نے کنوئیں سے پانی نکالا۔ اتنا پیا کہ ہم سیر ہوگئے اور ہمارے اونٹ بھی سیر ہوگئے یا کہا: سیر ہو کر لوٹے۔