بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
محمد (بن مقاتل) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔( انہوں نے کہا:) ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت وَاَنِ امْرَأْۃٌ…سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے سختی، بدمعاملگی اور عدم توجہی( یا بے رغبتی) کا اندیشہ ہو تو وہ اپنا حق چھوڑ سکتی ہے۔ (حضرت عائشہؓ )کہتی تھیں: کوئی شخص ایسا ہو کہ جس کے نکاح میں ایسی عورت ہے جس سے وہ فائدہ اٹھانے کی امید نہیں رکھتا اور چاہتا ہے کہ اس سے علیحدہ ہوجائے اور وہ عورت اسے کہہ دے: میں تجھے اپنا حق معاف کرتی ہوں تو یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ جبلہ( بن سُحَیم) سے روایت ہے کہ( انہوں نے کہا:) مدینہ میں ہم عراقیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ہم پر قحط آیا۔ ابن زبیر ہمیں کھجوریں کھانے کو دیا کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گذرتے تو کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو کھجوریں اکٹھی کھانے سے منع فرمایاہے۔ البتہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے ، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: آدمیوں میں سب سے زیادہ قابلِ نفرت اللہ کے نزدیک وہ آدمی ہے جو جھگڑالو ہو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم بن دینار سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی پینے کی چیز دی گئی تو آپؐ نے اس میں سے پیا اور آپؐ کے دا ہنی طرف ایک لڑکا اورآپؐ کے بائیں طرف عمر رسیدہ لوگ تھے۔ تو آپؐ نے اس لڑکے سے پوچھا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان کو دے دوں؟ اس لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔یا رسول اللہ! آپؐ سے جو حصہ مجھے ملا ہے وہ تو میں اپنے آپ کو چھوڑ کر کسی اور کو دینے کا نہیں۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے اس کے ہاتھ میں وہ (پیالہ) رکھ دیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: طلحہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن عمرو بن سہل نے ان کو بتایا کہ حضرت سعید بن زیدرضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس شخص نے کسی زمین سے ناجائز طور پر کچھ لے لیا تو وہ سات زمینیں بن کر اس کے گلے کا طوق ہوگا۔ طرفہُ: ۳۱۹۸۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا (ابومعمر نے کہا:) ہمیں عبدالوارث نے بتایا کہ ہمیں حسین نے یحيٰبن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ انہیں ابوسلمہ نے بتایا کہ اُن کے درمیان اور بعض لوگوں کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ انہوں نے اُس کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اے ابوسلمہ! زمین (ناحق لینے) سے بچے رہناکیونکہ نبی ﷺ نے فرمایاہے: جو شخص بالشت برابر زمین پر ظلم سے قبضہ کرے گا اس کو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ طرفہُ: ۳۱۹۵۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن مبارک نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی زمین سے اپنے حق کے بغیر کچھ لیا وہ قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنستا چلا جائے گا۔ فربری نے کہا کہ ابوجعفر بن ابی حاتم (ورّاق) نے کہا کہ ابوعبداللہ (امام بخاری)نے کہا:یہ حدیث خراسان میں (عبداللہ) بن مبارک کی کتب میں نہیں ہے۔ انہوں نے بصرہ میں ان کو (یہ حدیث) لکھوائی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابومسعودؓ سے روایت کی کہ کسی انصاری شخص کا، جسے ابوشعیبؓ کہتے تھے ایک غلام تھا جو قصّاب تھا۔ ابوشعیبؓ نے اُسے کہا: میرے لئے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو۔ شاید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دوں۔ آپؐ سمیت پانچ آدمی ہوں گے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے معلوم کیا کہ آپؐ کو بھوک ہے۔ چنانچہ اُس نے آپؐ کو کھانے کے لئے بلایا اوران کے ساتھ ایک اور آدمی ہولیا جو بلایا نہ گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔ کیا تم انہیں اجازت دیتے ہو؟ اُس نے کہا: ہاں۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان سے،)صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبردی۔ حضرت زینب بنت امّ سلمہ نے انہیں بتایا کہ اُن کی ماں حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے جو نبی ﷺ کی زوجہ تھیں، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ آپؐ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر کچھ جھگڑا سنا۔ تو آپؐ اُن آدمیوں کے پاس آئے اور آپؐ نے فرمایا: میں ایک بشر ہی ہوں اور میرے پاس ایک فریق آتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے اپنے مطلب کو زیادہ خوبی سے بیان کرنے والا ہو اور میں سمجھ لوں کہ اس نے سچ کہا ہے اور اس کے بیان پر اس کے حق میں فیصلہ کردوں۔ اس لئے اگر میں نے ایک شخص کو کسی مسلم کا حق (ناواجب طور پر) دِلانے کا فیصلہ کردیا تو یقین کرلو کہ وہ صرف آگ کا ہی ایک ٹکڑا ہے جو اُسے دیا جارہا ہے۔ چاہے اسے لے لے، چاہے اسے چھوڑ دے۔
بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے عبداللہ بن مرّہ سے، عبداللہ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس میں چارخصلتیں ہوں وہ منافق ہے یا جس میں چار میں سے ایک خصلت پائی جاتی ہو تو اُس میں نفاق کی بھی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ وہ اُسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا۔ جب وعدہ کرے گا تو خلاف ورزی کرے گا۔ اور جب عہد کرے گا تو دھوکا دے گا۔ اور جب جھگڑے گا تو بدزبانی کرے گا۔