بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
مسلم ( بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا۔ ہم سے ابوعقیل نے بیان کیا، (کہا) کہ ہمیں ابوالمتوکل ناجی نے بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے اور میں بھی آپؐ کے پاس گیا اور (مسجد کے) پختہ فرش کے ایک کونے میں اُونٹ باندھ دیا۔ میں نے کہا: یہ آپؐ کا اُونٹ ہے۔ آپؐ باہر آئے اور اُونٹ کے آس پاس پھرنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ لو اس کی قیمت اور اُونٹ بھی تمہارا ہی ہے٭۔
سلیمان بن حرب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ یا یوں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھورے پر آئے اور وہاں کھڑے ہی پیشاب کیا۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سُمَی سے، سُمَی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبیر بن خریت سے، زبیر نے عکرمہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے کہ جب لوگ شارع عام سے متعلق آپس میں اختلاف کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات ہاتھ چھوڑنے کا فیصلہ فرماتے۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عدی بن ثابت نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میں نے حضرت عبداللہ بن یزید انصاریؓ سے سنا اور وہ عدی کے نانا تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لُوٹ مار کرنے اور لڑائی میں مقتولین کے ناک اور کان کاٹنے سے منع فرمایا۔ طرفہُ: ۵۵۱۶۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا کہ عُقَیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے وہ مومن نہیں ہوتا اورجب وہ شراب پیتاہے تو مومن ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا، اور جب وہ چوری کرتا ہے تو مومن ہونے کی حالت میں چوری نہیں کرتا، اور جب وہ لُوٹتا ہے تو مومن ہونے کی حالت میں ایسی چیز بھی نہیں لُوٹتا جس کی طرف لوگوں کی (للچائی ہوئی) نظریں اٹھیں۔ اور سعید اور ابوسلمہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ لیکن ان کی روایت میں لُوٹ کاذکر نہیں۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا۔ فربری نے کہا: میں نے ابوجعفر (ابن ابی حاتم وراق) کی تحریر میں دیکھا کہ ابوعبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے ایمان چھین لیا جاتا ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان( بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ زہری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ابن مریم تم میں عادل حَکَم ہو کر نہ آئیں۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مارڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور مال اس کثرت سے ہوگا کہ کوئی اُس کو قبول نہیں کرے گا۔
ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبیدسے، یزید نے سلمہ بن اَکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے خیبر کی جنگ میں آگیں دیکھیں، جو جلائی جارہی تھیں۔ آپؐ نے پوچھا: یہ آگیں کس چیز کیلئے جلائی گئی ہیں؟ لوگوں نے کہا:پالتو گدھوں کا گوشت پکایا جارہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ان (ہانڈیوں) کو توڑ دو اور (جواِن میں ہے) اس کو انڈیل دو۔ انہوں نے کہا: کیا ہم انہیں انڈیل کر دھونہ لیں؟ آپؐ نے فرمایا: دھولو۔ ابو عبداللہ(امام بخاریؒ) نے کہا کہ ابن ابی اویس (الْحُمُر الْاِنْسِیَّۃِکی بجائے)الحُمُر الْاَنَسِیَّۃ (یعنی) الف اور نون کی زبر کے ساتھ کہا کرتے تھے۔
علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ابی نجیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپؐ انہیں ایک چھڑی سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھی مارتے اور یہ کہتے جاتے تھے: حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عبدالرحمن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے باپ قاسم سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے (حجرے کے) دالان میں ایک پردہ لٹکایاجس میں تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پھاڑ ڈالا ۔ پھر حضرت عائشہؓ نے اُس سے دو گدّے بنائے اور وہ گھر میں رہے۔ آپؐ ان پر بیٹھا کرتے تھے۔