بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 43 hadith
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے جو کہ ابو ایوب کے بیٹے ہیں، ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوالاسود (محمد بن عبدالرحمن) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔
مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے پاس تھے تو امّہات المؤمنین میں سے ایک نے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھیجاجس میں کوئی کھانا تھا۔ اُس بیوی نے اپنا ہاتھ مارا اور پیالہ توڑ ڈالا۔ آپؐ نے اُس کو جوڑا اور اُس میں وہ کھانا رکھ دیا اور فرمایا: کھائواور وہ جو پیالہ لے کر آیا تھا، اُسے اور اُس پیالہ کو روکے رکھا،یہاں تک کہ کھانے سے فارغ ہوئے۔ پھر آپؐ نے دوسرا سالم پیالہ دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔ (سعید) بن ابی مریم کہتے تھے کہ یحيٰ بن ایوب نے ہمیں بتایا کہ حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا۔ اُسے جریج کہتے تھے۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں اُس کی ماں آئی اور اس نے اس کو بلایا۔ اس نے اس کو جواب نہ دیا اور کہنے لگا: میں اسے جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ لَوٹی اور اس نے کہا: اے میرے اللہ! اسے نہ ماریو جب تک کہ تو اسے کنچنیوں کا منہ نہ دکھا دے۔ اور جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا۔ ایک عورت نے کہا: میں جریج کو ضرور بہکائوں گی۔ چنانچہ اس نے اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور اُس سے باتیں کیں۔ وہ نہ مانا۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اُس سے بد فعلی کی اور وہ ایک لڑکا جنی۔ کہنے لگی: یہ جریج کا ہے۔ یہ سن کر لوگ اس کے پاس آئے اور اُس کا عبادت خانہ توڑ پھوڑ دیا۔ اُس کو نیچے اُتارا اور اُسے گالیاں دیں۔ اُس نے وضو کیا۔ نماز پڑھی اور اُس کے بعد اُس بچے کے پاس آیا اور اُس نے پوچھا: بچے !تیرا باپ کون ہے؟ اُس نے کہا: چرواہا۔ لوگوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنا دیتے ہیں۔ اُس نے کہا: نہیں؛ مٹی کا ہی بنادو۔