بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 31 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) کہتے تھے: میں نے طائوس سے کہا: اگر تم بٹائی چھوڑ دو تو بہتر ہے۔ کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ طائوس نے کہا: عمرو! میں لوگوں کو زمینیں دیتا ہوں اور اُن کا فائدہ کرتا ہوں٭ اور صحابہ میں جو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے؛ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا۔ بلکہ فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یونہی مفت زمین دیدے تو یہ امر اس کا مقررہ محصول لینے سے بہتر ہے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر (کی زمین) اس شرط پر دی تھی کہ وہ اس میں محنت کریں اور اس میں کاشت کریں اور ان کے لئے پیدا وار میں سے نصف حصہ ہو گا۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن (بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نئے آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو بھی بستی فتح کرتا، اُس کو اُس کے فتح کرنے والوں ہی میں بانٹ دیتا؛ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو بانٹا۔
ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ ابوضمرہ نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ایک بار تین شخص چلے جارہے تھے کہ انہیں بارش نے آلیا تو انہوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی۔ اس پہاڑ سے ایک پتھر غار کے منہ پر آگرا اور انہیں غار کے اندر بند کردیا۔ تب وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ اپنے اپنے نیک عملوں پر نظر کرو؛ جو تم نے اللہ کے لئے کئے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو۔ شاید وہ اس (پتھر) کو تم سے ہٹا (کر نجات) دے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے میرے اللہ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں اُن (کے پالنے) کے لئے جانور چرایا کرتا تھا۔ جب شام کو گھر آتا تو میں دودھ کو پہلے والدین سے شروع کرتا۔ اپنے بچوں سے پہلے اُن کو پلاتا اور مجھے ایک دن دیر ہوگئی۔ شام ہونے کے بعد گھر آیا اور انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نے دودھ دوہا؛ جیسا کہ دودھ دوہا کرتا تھا اور اُن کے سرہانے کھڑا ہوگیا۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ اُن کو جگائوں اور یہ بھی ناپسند تھا کہ بچوں کو (پہلے) پلائوں، حالانکہ بچے میرے پائوں کے پاس بھوک کی وجہ سے بلک رہے تھے۔ اسی حالت میں صبح ہوگئی۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہمارے لئے راستہ کھول دے۔ جس سے ہم آسمان دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ راستہ کھول دیا اور انہوں نے آسمان دیکھا اور دوسرے نے کہا: اے میرے اللہ! میرے چچا کی ایک بیٹی تھی۔ جس سے میں اتنی ہی محبت رکھتا تھا جو مردوں کو عورتوں سے ہوسکتی ہے۔ میں نے اس سے وصال چاہا۔ اس نے نہ مانا؛ جب تک کہ میں اُسے ایک سو اَشرفیاں نہ لادوں۔ میں نے جستجو کرکے اشرفیاں جمع کیں۔ جب میں اس کے دونوں پائوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈرو اور اس مہر کو جائز طریقے سے ہی کھولو۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے منہ کی خاطر کیا تو ہم سے اِس پتھر کو ہٹا کر راستہ کردے۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ اور سرک گیا اور تیسرے نے کہا: اے میرے اللہ! میں نے ایک فرق٭ چاولوں کے بدلے ایک شخص کو مزدوری پر لگایا تھا۔ جب وہ اپنا کام کرچکا تو اس نے کہا: مجھے میرا حق دو۔ میں نے اس کے سامنے پیش کیا۔ اس نے اس کو منظور نہ کیا۔ میں ان چاولوں سے کھیتی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس سے میں نے گائے بیل اور اُن کے چرواہے اکٹھے کرلئے۔ کچھ عرصہ بعد وہ میرے پاس آیا اور کہا: اللہ سے ڈرو (اور میری مزدوری دے دو۔) میں نے کہا: ان گائے بیلوں اور ان کے چرواہوں کے پاس جائو اور انہیں سنبھال لو۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو۔ مجھ سے ٹھٹھا نہ کرو۔ میں نے جواب دیا۔ میں تم سے ٹھٹھا نہیں کرتا۔ انہیں لے لو۔ چنانچہ اس نے انہیں لے لیا۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے منہ کی خاطر کیا تھا تو جو (پتھر) باقی رہتا ہے، اسے بھی ہٹا دے تو اللہ نے اُسے ہٹا دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے نافع سے بَغَیْتُ کی جگہ سَعَیْتُ کا لفظ روایت کیا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی جعفر سے، عبیداللہ نے محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ عروہ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں یہی فیصلہ کیا۔
(تشریح)قُتَیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بمقام ذی الحلیفہ نالے کے نشیب میں اُترے ہوئے تھے تو آپؐ کو خواب میں ایک نظارہ دکھایا گیا اور آپؐ سے کہا گیا: تم مبارک وادی میں ہو۔ موسیٰ (بن عقبہ) نے کہا: سالم نے ہمارے اونٹ اسی جگہ بٹھائے؛ جہاں حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) بٹھایا کرتے تھے۔ وہ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے۔ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو منزل کی تھی اور وہ اُس مسجد کے نیچے ہے جو نالے کے نشیب میں ہے۔ مسجد اور راستے کے عین درمیان۔
اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب بن اسحق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے یحيٰ (بن ابی کثیر) نے بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: آج رات میرے ربّ سے ایک آنے والا میرے پاس آیا۔ آپؐ اس وقت وادیٔ عقیق میں تھے۔ (اس نے کہا) کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: حج کے ساتھ عمرہ بھی ہوگا۔
(تشریح)احمد بن مقدام نے ہمیں بتایا کہ فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیاکہ موسیٰ (بن عقبہ) نے ہمیں بتایا کہ نافع نے ہمیں خبردی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا۔ (دوسری سند) اور عبدالرزاق نے بھی کہا: ابن جریج نے ہمیں خبردی کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودونصاریٰ کو حجاز سے جلا وطن کردیا تھا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر غالب آئے تو آپؐ نے خیبر سے یہود کے نکالنے کا ارادہ کیا تھا اور جب آپؐ اس پر غالب ہوئے تو اس کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی تھی اور آپؐ نے یہود کو اس سے نکالنا چاہا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپؐ انہیں وہیں رہنے دیں؛ اس شرط پر کہ اس زمین میں محنت مزدوری کریں گے اور پیدا وار کا آدھا حصہ اُن کا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: ہم تمہیں اس میں جب تک چاہیں، اس پر رہنے دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ وہاں رہے؛ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے انہیں تیما ء اور اریحاء کی طرف جلاوطن کردیا۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالنجاشی سے، جو رافع بن خدیج کے آزاد کردہ غلام تھے۔(انہوں نے کہا:) میں نے حضرت رافع بن خدیج بن رافعؓ سے سنا۔ وہ اپنے چچا حضرت ظُہَیر بن رافعؓ سے روایت کرتے تھے۔ ظُہَیر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لئے فائدہ مند تھی۔ میں نے کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہی بجا تھا۔ ظُہَیر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ آپؐ نے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہم انہیں ٹھیکہ پر دیتے ہیں؛ اس شرط پر کہ جو نالیوں کے قریب پیدا وار ہو، وہ ہم لیں گے اور کھجور اور جَو میں چند وسق کے حساب سے۔ آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ تم خود ان میں کاشت کرو یا ان میں کاشت کرائو یا انہیں خالی رہنے دو۔ حضرت رافعؓ کہتے تھے: میں نے کہا: میں نے سن لیا ہے اور ایسا ہی ہوگا۔