بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 31 hadith
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (مدینہ والے) کھیتوں کو تہائی، چوتھائی اور آدھوں آدھ پر کاشت کیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زمین ہو، چاہیے کہ اس میں وہ خود کاشت کرے یا اس کو (کاشت کے لئے اپنے بھائی کو) مفت دیدے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنی زمین کو (خالی) پڑا رہنے دے۔
اور ربیع بن نافع ابوتوبہ نے کہا: معاویہ (بن سلام) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زمین ہو تو چاہیے کہ اس میں خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو (کاشت کے لئے) مفت دیدے۔ اگر یہ نہ کرے تو پھر اپنی زمین کو (خالی) پڑا رہنے دے۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے طائوس سے (حضرت رافعؓ کی حدیث) بیان کی تو انہوں نے کہا: (زمین کا مالک) زمین بٹائی پر دے سکتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اور حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت کے زمانہ میں اور معاویہؓ کی امارت کے شروع میں اپنے کھیتوں کو لگان (یعنی بٹائی) پر دیا کرتے تھے۔
پھر حضرت رافع بن خدیجؓ کی یہ حدیث بتائی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ حضرت رافعؓ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ پھر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے منع فرمایا۔اس پر حضرت ابن عمرؓ نے کہا: آپؓ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدلے لگان پر دیا کرتے تھے، جو نالیوں پر ہوتی اور کچھ بھوسہ بھی معاوضہ میں لیتے تھے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم نے مجھے خبردی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جا تی تھی۔ پھر حضرت عبداللہؓ ڈرے کہ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت کوئی نیا حکم دیا ہو، جس کو وہ نہ جانتے ہوں۔ اس لئے انہوں نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ طرفہُ: ۲۳۴۳۔ زمین کو سونے چاندی کے بدلے ٹھیکہ پر دینا اور (حضرت عبداللہ) بن عباسؓ نے کہا: اچھا طریق جو تم زمینوں کو ٹھیکہ پر دینے میں اختیار کرسکتے ہو؛ یہ ہو سکتا ہے کہ تم اپنی افتادہ زمین کو ایک ایک سال کے لئے دیا کرو۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے حنظلہ بن قیس سے، حنظلہ نے حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے دونوں چچائوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں زمینوں کو اِس شرط پر ٹھیکہ پر دیتے تھے کہ جو پانی کی نالیوں کے قریب کی زمین میں پیداوار ہو، وہ ان کی ہوگی یا کچھ پیداوار مالکِ زمین اپنے لئے مخصوص کرلیتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کردیا۔ میں نے حضرت رافعؓ سے پوچھا: دینار اور درہم کے عوض لگان دینا کیسا ہے؟ تو حضرت رافعؓ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے زمین کے دینے میں کوئی برائی نہیں اور لیث نے کہا: جس بٹائی سے منع کیا گیا ہے، وہ ایسی ہے کہ اگر اس میں حلال و حرام سمجھنے والے غور کریں تو کبھی اس کو جائز قرار نہ دیں۔ کیونکہ اس میں دھوکا ہے۔
(تشریح)عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے حنظلہ بن قیس سے، حنظلہ نے حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے دونوں چچائوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں زمینوں کو اِس شرط پر ٹھیکہ پر دیتے تھے کہ جو پانی کی نالیوں کے قریب کی زمین میں پیداوار ہو، وہ ان کی ہوگی یا کچھ پیداوار مالکِ زمین اپنے لئے مخصوص کرلیتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کردیا۔ میں نے حضرت رافعؓ سے پوچھا: دینار اور درہم کے عوض لگان دینا کیسا ہے؟ تو حضرت رافعؓ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے زمین کے دینے میں کوئی برائی نہیں اور لیث نے کہا: جس بٹائی سے منع کیا گیا ہے، وہ ایسی ہے کہ اگر اس میں حلال و حرام سمجھنے والے غور کریں تو کبھی اس کو جائز قرار نہ دیں۔ کیونکہ اس میں دھوکا ہے۔
(تشریح)محمد بن سنان نے ہمیں بتایا۔ فُلَیْح نے ہم سے بیان کیا کہ ہلال (بن علی) نے ہمیں بتایا۔ نیز عبداللہ بن محمد نے بھی مجھے بتایا کہ ابوعامر نے ہم سے بیان کیا کہ فُلَیْح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باتیں کر رہے تھے اور آپؐ کے پاس بدوئوں میں سے بھی ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ (آپؐ نے فرمایا:) جنتیوں میں سے ایک شخص نے اپنے ربّ سے کھیتی کرنے کی اجازت مانگی تو (اس کے ربّ نے) اس سے کہا: کیا جو تو چاہتا ہے، تجھے میسر نہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ (سب کچھ موجود ہے۔) لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں کھیتی کروں۔ چنانچہ اس نے بیج ڈالے۔ آنکھ کی جھپک میں وہ اُگ آئی اور وہ سیدھی کھڑی ہو کر پک گئی اور کٹائی کے قابل بھی ہو گئی اور وہ پہاڑوں کی طرح اونچی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! لے تجھے کوئی چیز بھی سیر نہیں کرتی۔ وہ بدو کہنے لگا: اللہ کی قسم! آپؐ یہ شخص قریشی یا انصاری ہی پائیں گے۔ کیونکہ وہی کھیتی باڑی کیا کرتے ہیں }٭اور ہم جو ہیں؛ ہم تو کھیتی باڑی نہیں کرتے۔{ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ طرفہُ: ۷۵۱۹۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب (بن عبد الرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت سہلؓ نے کہا: جمعہ کے دن ہم خوشی منایا کرتے تھے (اور) ہماری ایک بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں ہمارے لئے لیتی؛ جنہیں ہم اپنے باغ کی نالیوں میں لگا یا کرتے تھے اور وہ انہیں اپنی ہانڈی میں ڈال دیتی اور اس میں کچھ جَو کے دانے بھی ڈال دیتی۔ (ابوحازم نے کہا کہ) میں یہی سمجھتا ہوں کہ حضرت سہلؓ نے اسی طرح کہا: اس میں نہ چربی ہوتی اور نہ چکنائی۔ جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ چکتے تو ہم اس کی ملاقات کیلئے جاتے اور وہ ہمارے سامنے یہ (کھانا) رکھتی۔ اس لئے جمعہ کے دن ہم خوش ہوا کرتے اور جمعہ کے بعد ہی ہم کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے۔