بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 1 of 31 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ حدیثیں بہت بیان کرتا ہے اور اللہ ہی کو آخر (مجھے) ملنا ہے۔ (یعنی اگر جھوٹ بولوں گا تو سزا پائوں گا) اور وہ کہتے ہیں: ان مہاجرینؓ اور انصارؓ کو کیا ہے کہ وہ ان (ابوہریرہؓ) کی طرح حدیثیں بیان نہیں کرتے۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائیوں کو بازاروں میں خریدوفروخت مشغول رکھتی اور میرے بھائی انصارؓ کو اپنی ملکیّتوں میں کام کاج مشغول رکھتا اور میں ایک مسکین آدمی تھا۔ پیٹ بھر کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چمٹ رہتا اور جب یہ لوگ نہ ہوتے تو میں موجود ہوتا اور جب یہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا اور نبی ﷺ نے ایک دن فرمایا: تم میں سے جو کوئی بھی اپنے کپڑے کو جب تک میں اپنی بات ختم نہ کرلوں، پھیلائے رکھے گا؛ پھر وہ اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لے گا تو وہ میری بات کبھی نہیں بھولے گا۔ چنانچہ میں نے چادر بچھا دی۔ اس کے سوا مجھ پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ جب نبی ﷺ نے اپنی بات ختم کی تو میں نے اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اسی ذات کی قسم ہے جس نے آنحضرت ﷺ کو سچائی کے ساتھ بھیجا تھا! میں آپؐ کی اس گفتگو کو آج تک نہیں بھولا اور اللہ کی قسم! اگر یہ دو آیتیں کتاب اللہ میں نہ ہوتیں تو میں تم کو کبھی کچھ نہ بتاتا۔ یعنی جو لوگ اس کلام کو جو ہم نے کھلے کھلے نشانوں اور ہدایت پر مشتمل نازل کیا ہے، بعد اس کے کہ ہم نے اسے اِس کتاب میں کھول کر بیان کردیا ہے، چھپاتے ہیں۔] ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور (اللہ کے نشانات کو) کھول کھول کر بیان کیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن پر میں توبہ قبول کرتے ہوئے جھکوں گا۔ اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا[ (اور) بار بار رحم کرنے والا ہوں۔
(تشریح)