بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن قاری نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ابوحازم سے،ابو حازم نے کہا:میں نے حضرت سہل بن سعد (ساعدیؓ) سے سنا کہ ابواُسید ساعدیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی اور اس دن ان کی بیوی ہی دعوت پر آنے والوں کی خدمت کرتی تھیں حالانکہ وہ اس وقت دلہن تھیں۔ یہ کہتی تھیں یا حضرت سہلؓ کہتے تھے:تم جانتے ہو کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا شربت تیار کیا؟ اُنہوں نے آپؐ کے لئے رات کو ایک پیالے میں کچھ کھجوریں بھگو رکھی تھیں۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبد اللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا اُنہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پسلی کی طرح ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گو اس میں ٹیڑھا پن ہی رہے۔
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حسین (بن علی) جعفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زائدہ (بن قدامہ) سے، زائدہ نے میسرہ (بن عمار اشجعی) سے، میسرہ نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: جو اللہ پر اور آخری دن پر ایمان لاتا ہے تو اپنے ہمسایہ کو نہ ستائے۔
اور اپنی عورتوں سے اچھا سلوک کرتے رہا کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور دیکھو پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اس کے اوپر کا ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگوتو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تو ٹیڑھا ہی رہے گا ۔ اس لئے عورتوں سے اچھا سلوک کیا کرو۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن دینار سے،عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے بات چیت اور دل لگی کرنے سے بچا کرتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں ہمارے متعلق کوئی حکم نہ نازل ہو جائے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو ہم باتیں کرنے لگے اور دل لگی کرنے لگے۔
محمد بن مقاتل (مَروَزی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: عورت جبکہ اس کا خاوند موجود ہو بغیر اس کی اجازت کے روزہ نہ رکھے۔
ابونعمان (محمد بن فضل سدوسی) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پُرسش ہوگی۔ امام بھی نگران ہے اور اس سے پوچھا جائے گا اور آدمی بھی اپنے متعلقین کا نگران ہے اور اس سے پوچھا جائے گا اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر کی پاسبان ہے اور اس سے بھی پوچھا جائے گا۔اور غلام بھی اپنے مالک کے مال کا پاسبان ہے اور اس سے بھی پوچھا جائے گا۔ دیکھو تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پُرسش ہوگی۔
سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حُجر نے ہم سے بیان کیا۔ دونوں نےکہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، عیسیٰ نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے عبداللہ بن عروہ سے، عبداللہ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں اور اُنہوں نے آپس میں یہ قول و اقرار کیا کہ وہ اپنے خاوندوں کے پوشیدہ معاملات سے کچھ نہ چھپائیں گی۔ پہلی نے کہا: میرا خاوند مریل اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر ہو، نہ تو آسان راستہ ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور نہ ہی وہ گوشت چربی والا ہے کہ اسے (وہاں سے) لایا جائے۔ دوسری نے کہا: میرا خاوند میں اس کا راز افشا نہیں کروں گی۔ میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی۔ اگر اس کا ذکر کروں تو پھر اس کے سب کھلے چھپے عیب بیان کروں۔ تیسری نے کہا: میرا خاوند لم دھڑنگ ہے اگر کچھ بولوں تو مجھے طلاق دے دی جائے اور اگر خاموش رہوں تو لٹکی رہوں۔ چوتھی نے کہا: میرا خاوند تہامہ کی رات جیسا ہے نہ گرمی ہے نہ سردی نہ ڈر ہے اور نہ اکتانا۔ پانچویں نے کہا: میرا خاوند اگر (گھر میں) آئے تو ایک چیتا ہے اگر باہر جائے تو شیر ہے اور جو چیز سپرد کردی اس کے متعلق پوچھتا ہی نہیں۔ چھٹی نے کہا: میرا خاوند اگر کھانے بیٹھے تو سبھی چٹ کر جائے اور اگر پینے لگے تو سبھی نگل جائے اور اگر لیٹے تو الگ تھلگ لیٹے اور ہاتھ نہ ڈالے کہ پریشانی کو معلوم کرے۔ ساتویں نے کہا: میرا خاوند جاہل مطلق ہے یا کہا کہ ناکارہ ہے۔ سینے سے لگا کر اوندھا پڑ جائے۔ ہر ایک بیماری اسی کی بیماری ہے۔ تمہارا سر پھوڑ ڈالے یا تمہارا ہاتھ توڑ ڈالے یا تم سے دونوں ہی کرے۔ آٹھویں نے کہا: میرا خاوند چھوؤ تو جیسے خرگوش کو چھؤا اور خوشبو جیسے زعفران کی خوشبو۔ نویں نے کہا: میرا خاوند گھرکااونچا ، تلوار کے لمبے پرتلا والا، راکھ کے ڈھیروں ڈھیروالا، ہر مشورہ سے اس کا گھر نزدیک ہے۔ دسویں نے کہا: میرا خاوند مالک ہے اور مالک بھی کیسا اچھا مالک، اس کے اتنے اونٹ ہیں کہ اُن کے بیٹھنے کی جگہیں بے شمار ہیں چرنے کو کم نکلتے ہیں اور جونہی باجے کی آواز سنی، اُنہیں یقین ہو گیا کہ اب وہ نہیں رہیں گے۔ گیارہویں نے کہا: میرا خاوند ابوزرع ہے اور ابوزرع بھی کیا۔ میرے دونوں کان ہر قسم کے زیور سے جھلا دیئے اور میرے دونوں بازو چربی سے بھر دئیے اور مجھے بڑا بنادیا اور میرا نفس بھی مجھے دیکھ کر فخر کرنے لگا۔ اس نے مجھے ایسے لوگوں میں پایا کہ جن کی تھوڑی سی بکریاں تھیں، نہایت تنگی میں تھے اور پھر اُس نے مجھے ایسے لوگوں میں کر دیا کہ جو گھوڑوں، اونٹوں اور کھیتوں والے ہیں اور جن کے پاس لوگہر وقت آتے جاتے ہیں۔پھر اس کے سامنے میں کچھ کہتی ہوں تو مجھ پر بُرا نہیں منایا جاتا۔ اور اگر میں سوتی رہوں تو صبح ہی کو جاگتی ہوں اور پیتی ہوں تو عمدہ پیتی ہوں۔ابوزرع کی ماں، کیا بتاؤں کہ ابوزرع کی ماں کیسی ہے۔ اس کی گٹھڑیاں بھاری بھرپور، اس کا گھر اچھا کشادہ۔ ابوزرع کا بیٹا، کیا بتاؤں ابوزرع کا بیٹا کیسا ہے۔ اس کے سونے کی جگہ ایسی ہے جیسے تلوار کا پھل اور بکری کے بچے کا پایہ اُسے سَیر کر دے۔ ابوزرع کی لڑکی، کیا بتاؤں کہ ابوزرع کی بیٹی کیسی ہے۔ اپنے باپ کی فرمانبردار اور اپنی ماں کی فرمانبردار، اپنے کپڑے میں سمانے والی اور اپنی پڑوسن کو غصہ دلانے والی ۔ ابوزرع کی لونڈی، کیا بتاؤں کہ ابوزرع کی لونڈی کیسی ہے۔ ہماری باتوں کا ذرا بھی افشا نہیں کرتی اور ہمارے کھانے سے ذرا بھی نہیں چُراتی اور ہمارے گھر کو گھاس پھونس سے نہیں بھر دیتی۔ کہنے لگی: ابوزرع کہیں باہر گیا اور مشکیزوں میں دودھ بُلُویا جارہا تھا تو وہ ایک عورت سے ملا جس کے ساتھ اس کے دو ایسے بچے تھے جیسے دو چیتے جو اس کے پہلو میں دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔ اس نے مجھ کوطلاق دی اور اُس سے نکاح کرلیا اور میں نے اُس کے بعد ایک ایسے سردار شخص سے نکاح کیا جو گھوڑے کا اچھا سوار تھا اور برچھا بردار تھا اور اس نے بھی مجھے بہت سے موٹے تازے جانور دیئے اور اس نے ہر ایک سامان سے مجھے ایک ایک جوڑا دیا اور کہا: اُمِّ زرع تم بھی کھاؤ اور اپنے خویش و اقارب کو بھی کھلاؤ۔ کہتی تھیں: اگر میں وہ سب کچھ بھی اکٹھا کرلوں جو اس نے مجھے دیا تو وہ ابوزرع کے چھوٹے سے چھوٹے برتن تک بھی نہ پہنچے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے ایسا ہوں جیسا ابوزرع اُمِّ زرع کے لئے۔ سعید بن سلمہ نے ہشام سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا (اس میں یہ الفاظ ہیں) کہ وہ ہمارے گھر کو آشیانہ نہیں بناتی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور بعض راویوں نے أَتَقَنَّحُ کو أَتَقَمَّحُ بیان کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے عروہ سے، عروہ نےحضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے بیان کیا کہ حبشی لوگ اپنے بھالوں سے کھیلا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی آڑ میں لیتے اور میں (کھیل) دیکھتی اور میں دیکھتی رہتی یہاں تک کہ میں خود ہی لوٹ جاتی۔ اب تم خود ہی اندازہ کرلو کہ کم سن لڑکی جو کھیل کود کو دیکھ سن رہی ہو، کتنی دیر دیکھتی رہتی تھی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب (بن ابی حمزہ) نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے زُہری سےروایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی۔ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: مجھے ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر بن خطابؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے اُن دو ازواج کے متعلق پوچھوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یعنی اگر تم دونوں اللہ کى طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو (ىہى زىبا ہے کىونکہ) تم دونوں کے دل مائل ہوچکے تھے۔ اُنہوں نے حج کیا اور میں بھی حج کو گیا۔ وہ راستہ سے ہٹ کر ایک طرف گئے، میں بھی چھاگل لے کر اس طرف گیا۔ وہ قضاء حاجت سے فارغ ہوکر آئے اور میں نے اس (چھاگل) سے اُن کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور وہ وضو کرنے لگے۔ میں نے کہا: امیرالمؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی اگر تم دونوں اللہ کى طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو (ىہى زىبا ہے کىونکہ) تم دونوں کے دل مائل ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا: ابن عباسؓ تم پر تعجب ہے (یہ بھی معلوم نہیں۔) وہ عائشہؓ اور حفصہ ؓ ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ وہ سارا واقعہ مسلسل بیان کرنے لگے۔ اُنہوں نے کہا: میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ بنی اُمیہ بن زید میں رہتے تھے اور یہ لوگ مدینہ کے آس پاس کے بالائی مقامات میں رہا کرتے تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری سے جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں جاتا۔ جب میں جاتا تو اس دن جو نئی بات وحی وغیرہ سے ہوتی اس کی خبر میں اس کے پاس لاتا اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا اور ہم قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے تھے اور جب ہم انصار کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کی عورتیں اُن کو دبا کر رکھتی ہیں۔ اُن کے دیکھا دیکھی ہماری عورتیں بھی انصار کی عورتوں کا وتیرہ اختیار کرنے لگیں۔ میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا ڈپٹا اس نے مجھے جواب دیا میں نے اس کو بُرا منایا کہ وہ مجھے جواب دے۔ وہ بولی میں جو تمہیں جواب دوں تو بُراکیوں مناتے ہو۔ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تو اُن کو جواب دیتی ہیں اور اُن میں سے کوئی تو آپؐ سے سارا دن رات تک الگ رہتی ہے۔ اس بات نے مجھے گھبرا دیا اور میں نے اپنی بیوی سے کہا: اُن عورتوں میں سے جس نے ایسا کیا وہ تو گھاٹے میں رہی۔ میں نے(جلدی سے) اپنے پورے کپڑے پہنے اور میں مدینہ اُتر کر حفصہؓ کے پاس گیا۔ میں نے اس سے کہا: حفصہؓ! کیا تم میں سے کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا دن، رات تک ناراض رکھتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: تم تو تباہ ہوئی اورگھاٹے میں رہی۔ کیا تم اس سے مطمئن ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو گا اور تم ہلاک نہ ہوجاؤ گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مطالبے نہ کیا کرو اور نہ ہی کسی بات میں آپؐ کو جواب دیا کرو اور نہ آپؐ سے الگ رہو اور جو تمہیں ضرورت ہو مجھ سے مانگو اور یہ بات تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے کہ تمہاری ہمسائی تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری۔ ان کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی۔حضرت عمر ؓ کہتے تھے اور اُن دنوں ہمارے درمیان یہ باتیں ہورہی تھیں کہ غسان کا قبیلہ ہم پر حملہ کرنے کے لئے اپنے گھوڑوں کی نعل بندی کررہا ہے۔ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن مدینہ گیا اور کہیں عشاء کے وقت ہمارے پاس لوٹ کر آیا۔ اس نے میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور پوچھا: کیا وہ یہی ہیں ؟ میں اس سے گھبرایا اور اس کے پاس باہر آیا۔ وہ کہنے لگا: آج بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کیا غسان آگئے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور زیادہ ہولناک۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ اور عبید بن حنین نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے سنا۔ آپؓ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے الگ ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا:حفصہؓ تباہ ہوگئی اور گھاٹے میں رہی۔ میں تو سمجھ گیا تھا کہ یہ عنقریب ہوکر رہے گا۔ میں نے اپنے (اوپر کے) کپڑے پہنے اور جاکر صبح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور نبی صلی اللہ اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور اس میں جاکر الگ بیٹھے رہے۔ میں حفصہؓ کے پاس گیا۔ کیا دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے کہا: اب روتی کیوں ہو؟ کیا میں نے تمہیں پہلے سے اس سے چوکس نہیں کردیا تھا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ وہ کہنے لگیں: میں نہیں جانتی۔ وہ بالا خانہ میں الگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں وہاں سے نکل کر منبر کے پاس آیا تو کیا دیکھا اس کے ارد گرد کچھ لوگ بیٹھے ہیں اُن میں سے بعض رو رہے ہیں۔ میں اُن کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھا۔ پھر جو تکلیف میں محسوس کررہا تھا اس نے مجھے بے تاب کر دیا۔ میں اس بالا خانہ کے پاس آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے آپؐ کے حبشی غلام سے کہا: عمر ؓکے لئے اجازت مانگو۔ غلام اندر گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ پھر وہ لوٹ آیا، کہنے لگا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا اور حضور سے آپؓ کا ذکر کیا تھا، حضورؐ خاموش رہے۔ میں یہ سن کر مڑگیا اور آکر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ پھر اس غم نے جو میں محسوس کر رہا تھا مجھے بے قرار کردیا اور پھر میں آیا اور غلام سے کہا: عمرؓ کے لئے اجازت مانگو۔ وہ اندر گیا اور لوٹ آیا کہنے لگا: میں نے حضورؐ سے آپؓ کا ذکر کیا تھا وہ خاموش رہے۔ یہ سن کر میں واپس لوٹ آیا اور اُن لوگوں کے ساتھ جو منبر کے پاس تھے بیٹھ گیا۔ پھر جو رنج میں محسوس کررہا تھا اس نے مجھے بے قرار کیا اور میں اس غلام کے پاس آیا۔ میں نے کہا: عمرؓ کے لئے اجازت مانگو۔ وہ اندر گیا اور پھر میرے پاس لوٹ آیا اور کہنے لگا: میں نے حضورؐ سے آپؓ کا ذکر کیا وہ خاموش رہے۔ جب میں پیٹھ موڑ کر جانے لگا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: کیا سنتا ہوں کہ غلام مجھے بلا رہا ہے۔ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو اجازت دے دی ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو کیا دیکھا کہ آپؐ خالی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اس کے اور آپؐ کے درمیان کوئی بچھونا نہیں۔ چٹائی نے آپؐ کے پہلو میں نشان ڈالے ہیں۔ آپؐ چمڑے کے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس میں کھجور کی چھال کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐ کو سلام کیا اور پھر عرض کیا اس حال میں کہ میں کھڑا ہی تھا، یا رسول اللہ ! کیا آپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: نہیں۔ میں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر میں نے عرض کیا اور میں کھڑا ہی تھا، آپؐ کا دل بہلانے کی کوشش کررہا تھا۔ یا رسول اللہ! آپؐ دیکھئے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر دباؤ رکھتے تھے جب ہم مدینہ میں آئے تو کیا دیکھا یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان پر ان کی عورتیں دباؤ رکھتی ہیں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپؐ دیکھئے میں حفصہؓ کے پاس گیا اور میں نے اس سے کہا: تجھے یہ بات دھوکا نہ دے کہ تمہاری ہمسائی تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری ہے۔ ان کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور دفعہ مسکرائے۔ جب میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ مسکرائے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر آپؐ کے گھر کو دیکھا تو اللہ کی قسم میں نے آپؐ کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جو نگاہ کو بھاتی سوائے تین کچی کھالوں کے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپؐ کی اُمت کو کشائش دے۔ کیونکہ فارس اور روم کو بہت کشائش دی گئی ہے اور اُنہیں دنیا ملی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ بیٹھے اور آپؐ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ابن خطابؓ کیا تم اِس دھن میں ہو۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں اُن کی عمدہ چیزیں اِسی دنیا کی زندگی میں جلدی سے دے دی گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔غرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے اسی بات کی وجہ سے انتیس راتیں الگ رہے تھے، جب حفصہؓ نے عائشہؓ سے اسے افشا کردیا تھا۔ آپؐ نے ان پر سخت ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، جب اللہ عزوجل نے آپؐ كو تنبیہ کی تھی۔ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپؐ عائشہؓ کے پاس آئے اور اُن سے باری شروع کی۔ عائشہؓ نے کہا: یا رسولؐ اللہ ! آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمارے پاس مہینہ بھر نہیں آئیں گے، آپؐ کو تو آج صبح صرف انتیس راتیں ہوئی ہیں۔ میں تو اُن کو ایک ایک کرکے گنتی رہی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: مہینہ انتیس رات کا بھی ہوتا ہے اور وہ مہینہ انتیس رات کا ہی تھا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل کی تو آپؐ کی ازواج میں سے پہلی عورت میں ہی تھی جس سے آپؐ نے شروع کیا۔ میں نے آپؐ کو اختیار کیا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے اپنی تمام ازواج کو اختیار دیا اور اُنہوں نے بھی ویسے ہی کہا جو عائشہ ؓنے کہا تھا۔
(تشریح)