بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعدی کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کرے تو ملائکہ صبح تک اُس پر لعنت کرتے رہیں گے۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے زُرارہ سے، زرارہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر الگ رات گزارے تو ملائکہ جب تک وہ لوٹ نہ آئے اُس پر لعنت کرتے رہیں گے۔
خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: حمید (طویل) نے مجھ سے بیان کیا۔ حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس مہینہ بھر نہ جانے کی قسم کھائی اور آپؐ اپنے ایک بالا خانہ میں قیام پذیر رہے۔ پھرآپؐ انتیسویں دن کو اُترے۔ آپؐ سے کہا گیا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے مہینہ بھر کی قسم کھائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابوزناد نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کو جائز نہیں کہ اس کا خاوند موجود ہو اور وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور نہ ہی اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت دے اور جو خرچ بھی وہ اس کے حکم کے بغیر کرے گی تو اس شخص کو بھی اس کا آدھا ثواب دیا جائے گا۔ اور ابوزناد نے موسیٰ (بن ابی عثمان) سے بھی روزوں کے متعلق یہی روایت کی ہے۔ موسیٰ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔
\مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن عُلَیّہ) نے ہمیں بتایا کہ (سلیمان) تیمی نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوعثمان (نہدی) سے، ابوعثمان نے حضرت اُسامہ (بن زیدؓ) سے، حضرت اُسامہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو مسکین ہی اکثر وہ لوگ تھے جو اس میں داخل ہوئے اور بختاور روک دئیے گئے مگر جو آگ کے مستحق تھے انہیں آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اکثر جو اس میں داخل ہوئے ہیں عورتیں ہی ہیں۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور آپؐ نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐبڑی دیر تک کھڑے رہے، تقریباً اتنے ہی جتنے میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپؐ نے ايك لمبا رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور بڑی دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا۔پھر سجدہ کیا۔ پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ اس سے پہلے کے قیام سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ اس سے پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام اس سے پہلے کے قیام سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ اس کے بعد آپؐ نے سر اٹھایا پھر سجدہ کیا اور پھر نماز سے فارغ ہوئے اور اس وقت سورج روشن ہوچکا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو سورج اور چاند اللہ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی کی زندگی کی وجہ سے۔ سو جب تم یہ گرہن دیکھو تو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ اپنی اس جگہ کھڑے کھڑے کوئی چیز ہاتھ بڑھا کر لے رہے تھے۔پھر ہم نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ پیچھے کو ہٹے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے جنت دیکھی تھی یا فرمایا: مجھے جنت دکھائی گئی تھی تو میں اس کا ایک خوشہ لینے لگا تھا۔ اگر میں اس کو لے لیتا تم اس سے کھاتے رہتے جب تک کہ دنیا باقی رہتی اور میں نے آگ دیکھی اور آج جیسا نظارہ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس آگ کے رہنے والوں میں اکثر عورتوں کو دیکھا۔ صحابہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیونکر ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: اُن کے کفر کی وجہ سے۔ آپؐ سے کہا گیا کہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: خاوند کا کفر کرتی ہیں، احسان کی ناشکر گزاری کرتی ہیں۔ اگر تو اُن میں سے کسی پر ساری عمر بھی احسان کرتا رہے پھر وہ تجھ سے کوئی بات دیکھے تو کہہ دے گی میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔
عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا کہ عوف نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابورجاء (عمران بن ملحان) سے، ابورجاء نے حضرت عمران (بن حصینؓ) سے، حضرت عمرانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو اس کے رہنے والے اکثر غریب ہی دیکھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کے رہنے والوں میں اکثر عورتیں ہی دیکھیں۔ (عوف کی طرح) ایوب سختیانی اور سلم بن زریر نے بھی یہی روایت بیان کی۔
محمد بن مقاتل (مروزی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا۔ یحيٰ نے کہا: مجھ سے ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن نےبیان کیا۔اُنہوں نے کہا: مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ!کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم دن کو روزہ رکھتے اور رات کو کھڑے عبادت کرتے رہتے ہو۔ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ روزے بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔ رات کو اُٹھ کر عبادت بھی کرو اور سوبھی رہو۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق پُرسش ہوگی۔ حاکم بھی ایک نگران ہے اور آدمی بھی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر اور اُس کی اولاد کی نگران ہے۔ غرض تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک کو اُس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ نیز محمد بن مقاتل (مروَزی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی نے مجھے خبر دی کہ عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اُنہیں خبر دی کہ حضرت اُم سلمہؓ نے اُنہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بعض بیویوں کے پاس مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ جب انتیس روز گزرے تو آپؐ اُن کے پاس صبح گئے یا(کہا:)شام کو گئے۔ آپؐ سے کہا گیا: اللہ کے نبی آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ اُن کے پاس مہینہ تک نہ جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔