بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ افلح جو ابوالقعیس کے بھائی تھے آئے اور اُن سے اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، اور وہ اُن کے رضاعی چچا تھے۔ یہ حجاب نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ میں نے اُن کو اجازت دینے سے انکار کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے آپؐ کو جو میں نے کیا تھا بتایا، آپؐ نے مجھے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ (اکٹھا کیا جائے۔)
کیونکہ عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ وہ کہتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف(تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے روکا۔ اور شغار یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کو اس شرط پر بیاہ دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کو اُس سے بیاہ دے۔ ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ایوب (سختیانی) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھ سے عبید بن ابی مریم نے بیان کیا۔ وہ حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت کرتے تھے۔ (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) کہا: اور میں نے بھی یہ حدیث خود حضرت عقبہؓ سے سنی مگر عبید کی حدیث مجھے زیادہ یاد ہے۔ (حضرت عقبہؓ نے) کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی۔ اتنے میں ایک سیاہ فام عورت آئی، وہ کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ یہ سن کر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے فلاں عورت سے جو فلاں کی بیٹی ہے شادی کی۔ پھر ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے مجھے کہا: میں نے تو تم دونوں کو دودھ پلایا تھا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ آپؐ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں آپؐ کے سامنے اس طرف سے آیا جس طرف آپؐ کا منہ تھا۔ میں نے کہا وہ جھوٹی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اب تم اس کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہو جبکہ وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس عورت کو علیٰحدہ کر دو۔ اور اسماعیل نے اپنی دونوں انگلیوں یعنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کیا تھا۔
(تشریح)اور احمد بن حنبل نے ہم سے کہا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ حبیب (بن ابی ثابت) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ خاندانی رشتوں میں سے سات حرام ہیں اور دامادی رشتوں میں سے بھی سات حرام ہیں۔ یہ کہہ کر اُنہوں نے یہ آیت پڑھی: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ۔ اور حضرت عبداللہ بن جعفر (بن ابی طالبؓ) نے حضرت علیؓ کی بیٹی اور حضرت علیؓ کی بیوی دونوں کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں رکھا۔ اور ابن سیرین نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور حسن (بصری) نے ایک دفعہ اسے بُرا منایا اور پھر کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور حسن بن حسن بن علی نے ایک ہی رات میں اپنے چچا کی دو بیٹیوں سے شادی کی۔ اور جابر بن زید نے اسے بُرا منایا، اس لئے کہ (بہنوں میں) ناچاقی ہوتی ہے، اور اس میں حرمت نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اُحِلَّ لَكُمْ… یعنی ان کے سوا تمہارے لئے حلال کی گئیں۔ اور عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا: اگر اپنی بیوی کی بہن سے زنا کرے تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔ اور یحيٰ(بن قیس) کندی سے مروی ہے کہ انہوں نے شعبی اور ابوجعفر سے اس شخص کے متعلق روایت کی جو اغلام باز ہو۔ اگر وہ اس کے ساتھ پورے طور پر بدکاری کرے تو اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یہ یحيٰ راوی غیر معروف ہے، روایت میں کسی نے اس کی پیروی نہیں کی۔ اور عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا: اگر کسی نے اپنی خوشدامن سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔ اور ابونصر سے بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے اس کو حرام قرار دیا۔ اور یہ ابونصر ایسا شخص ہے اس کے متعلق معلوم نہیں ہوا کہ اس نے یہ روایت حضرت ابن عباسؓ سے سنی۔ اور حضرت عمران بن حصینؓ اور جابر بن زید اور حسن (بصری) اور بعض اہل عراق سے مروی ہے کہ وہ اس پر حرام ہوجائے گی۔ اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ جب تک اس کو زمین پر چت نہ لگادے وہ حرام نہ ہوگی۔ اور (سعید) بن مسیب، عروہ اور زُہری نے اس کو جائز قرار دیا۔ اور زُہری نے کہا: حضرت علیؓ کہتے تھے کہ حرام نہ ہوگی۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زینب (بنت ابی سلمہؓ) سے، حضرت زینبؓ نے حضرت اُم حبیبہؓ سے روایت کی، وہ کہتی تھیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ کو ابوسفیان کی بیٹی (سے شادی) کی خواہش ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں اسے کیا کروں گا۔ میں نے کہا: آپؐ نکاح کریں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ میں نے کہا: میں آپؐ کے لئے اکیلی نہیں رہنے کی اور آپؐ میں جو میرا شریک ہو مجھے زیادہ پسند ہے کہ میری بہن ہو۔ آپؐ نے فرمایا: وہ میرے لئے جائز نہیں۔ میں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپؐ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اُم سلمہؓ کی بیٹی سے ؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لئے جائز نہ تھی، ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا تھا۔ تم اپنی بیٹیاں مجھے نہ پیش کیا کرو اور نہ اپنی بہنیں۔ لیث (بن سعد) نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا کہ وہ حضرت دُرّہ بنت اُم سلمہؓ تھیں۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے انہیں خبردی کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے ان کو بتایا کہ حضرت اُم حبیبہؓ کہتی تھیں، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کرلیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم پسند کروگی؟ میں نے کہا: ہاں میں اکیلی تو رہنے کی نہیں اور بھلائی میں جو میری شریک ہو مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ میری بہن ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے جائز نہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آپؐ دُرّہ بنت ابی سلمہؓ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ام سلمہؓ کی بیٹی سے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی تب بھی میرے لئے جائز نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ ثویبہ نے مجھے اور ابوسلمہ کو دودھ پلایا تھا۔ اس لئے اپنی بیٹیاں مجھے نہ پیش کیا کرو اور نہ اپنی بہنیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کے ہوتے ہوئے نکاح کیا جائے۔