بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
محمد بن سلام نے ہمیں بتایا کہ (محمد) بن فضیل نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام(بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت خولہ بنت حکیمؓ ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کیا تھا۔ حضرت عائشہؓ کہنے لگیں: کیا عورت شرماتی نہیں کہ اپنے تئیں کسی آدمی کو ہبہ کردے ؟ جب یہ آیت نازل ہوئی: تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ۔ یعنی ان میں سے جسے تو چاہے الگ کردے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپؐ کے ربّ کے متعلق یہی سمجھتی ہوں کہ وہ جلدی سے آپؐ کی خواہش کو پورا کردیتا ہے۔ اس حدیث کو ابوسعید (محمد بن مسلم) مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ (بن سلیمان) نے بھی ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا تھا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے ہمیں خبر دی کہ جابر بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی جبکہ آپؐ احرام باندھے ہوئے تھے۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرۃ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے (حضرت عبداللہ) بن عباسؓ سے سنا کہ ان سے عورتوں سے متعہ کرنے کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے اس کو جائز قرار دیا ۔ اس پر ان کے ایک غلام نے ان سے کہا: یہ اضطراری حالت میں جائز ہوگا اور اس وقت جبکہ عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ہاں۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حسن بن محمد بن علی اور ان کے بھائی عبداللہ (بن محمد بن علی) نے مجھے خبر دی۔ ان دونوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (کی جنگ) کے زمانہ میں متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے روک دیا۔
اور ابن ابی ذئب نے کہا: مجھے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ ان کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جو مرد اور عورت آپس میں متفق ہو جائیں تو وہ تین دن رات آپس میں مل کر رہیں۔ اگر وہ اس سے زیادہ رہنا چاہیں تو رہیں اور اگر ایک دوسرے سے الگ ہونا چاہیں تو الگ ہو جائیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ ایسی اجازت تھی کہ ہمارے لئے خاص تھی یا تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ ابوعبداللہ(امام بخاریؒ) نے کہا: اور حضرت علیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس کو واضح کیا کہ اجازت منسوخ ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ مرحوم (بن عبدالعزیز بصری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ثابت بنانی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں حضرت انسؓ کے پاس تھا۔ اس وقت اُن کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی بیٹھی تھی۔ حضرت انسؓ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ اپنے تئیں آپؐ کو پیش کرے۔ کہنے لگی: یا رسول اللہ! کیا آپؐ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انسؓ کی بیٹی یہ سن کر بولی: کیا ہی بے حیا وہ تھی، کیا ہی عار کی بات کی ہے۔ (حضرت انسؓ نے) کہا: وہ تم سے بہتر تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند کیا اور پھر اپنے تئیں آپؐ کو پیش کیا۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ایک عورت نے اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا تو ایک شخص نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس سے میرا نکاح کردیں۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارے پاس کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اور کچھ ڈھونڈو، اگر چہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ چنانچہ وہ گیا اور کچھ دیر بعد لوٹ آیا اور کہنے لگا: کچھ نہیں، اللہ کی قسم کچھ نہیں ملا۔ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ البتہ یہ میرا تہ بند ہے۔ اس کا آدھا اسے دئیے دیتا ہوں۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: اس کے پاس اوپر کی چادر بھی نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے تہ بند سے کیا کرے گی۔ اگر تو نے پہنا تو اس کے پہننے کے لئے اس میں سے کچھ نہ رہے گا اور اگر اس نے پہنا تو تمہارے پہننے کے لئے کچھ نہ رہے گا۔ وہ شخص بیٹھ گیا اور آخر جب اسے بیٹھے ہوئے بہت دیر ہوگئی تو وہ اُٹھ کر چل پڑا۔ نبی ﷺ نے اس کو جاتے ہوئے دیکھا تو آپؐ نے اس کو بلایا یا (کہا:) اس کو بلا کر (آپؐ کے پاس) لائے۔ آپؐ نے اس سے پوچھا: تمہیں قرآن سے کیا کچھ یاد ہے۔ اس نے چند سورتوں کو گن کر کہا: مجھے فلاں فلاں سورة یاد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہیں یہ قبضے میں دے دی ان سورتوں کے بدلے میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے سنا کہ جب حضرت حفصہ بنت عمرؓ، خنیس بن حذافہ سہمیؓ کے فوت ہونے سے بیوہ ہوگئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور مدینہ میں فوت ہوگئے تو حضرت عمر بن خطابؓ کہتے تھے کہ میں عثمان بن عفانؓ کے پاس آیا اور میں نے حفصہؓ (کا رشتہ) ان کے سامنے پیش کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے متعلق غور کروں گا۔ میں کئی رات انتظا ر کرتا رہا پھر اس کے بعد وہ مجھے ملے اور کہنے لگے: مجھے یہی مناسب معلوم ہوا ہے کہ میں فی الحال شادی نہ کروں۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: پھر میں ابوبکر صدیقؓ سے ملا اور میں نے کہا: اگر آپؓ چاہیں تو میں آپؓ سے حفصہ بنت عمرؓ کا نکاح کردیتا ہوں۔ ابوبکرؓ یہ سن کر خاموش رہے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا، تو عثمانؓ کی نسبت میں ان سے زیادہ رنجیدہ خاطر ہوا۔ میں چند راتیں ٹھہرا رہا۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حفصہؓ کے متعلق) نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے حفصہؓ کا نکاح آپؐ سے کردیا۔ پھر مجھے ابوبکرؓملے اور کہنے لگے: شاید تم مجھ پر ناراض ہوئے ہو، تم نے جب میرے سامنے حفصہؓ کا رشتہ پیش کیا تھا اور میں نے جواب نہ دیا تھا۔ حضرت عمر ؓنے کہا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: دیکھو جو بات تم نے میرے سامنے پیش کی تھی اس کے متعلق تمہیں جواب دینے سے مجھے صرف اسی بات نے روکا تھا کہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہؓ کا ذکر کیا تھا او ر میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا کرتا اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ چھوڑ دیتے تو میں اس کو قبول کرلیتا۔