بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی جبکہ وہ چھ سال کی تھیں۔ اور آپؐ کے پاس رخصتانہ ہوا جبکہ وہ نو برس کی تھیں۔ اور وہ آپؐ کے پاس نو برس رہیں۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اس وقت نکاح کیا جبکہ وہ چھ سال کی تھیں۔ اور اُن کو گھر لائے جبکہ وہ نو برس کی تھیں۔ ہشام نے کہا: اور مجھے بتایا گیا کہ وہ آپؐ کے پاس نو برس رہیں۔
عمرو بن ربیع بن طارق نے ہم سے بیان کیا۔ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے ابوعمرو (ذکوان) سے جو حضرت عائشہؓ کے غلام تھے، ابوعمرو نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کنواری تو شرماتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی رضامندی اس کی خاموشی ہے۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ یزید (بن ہارون) نے ہمیں خبر دی کہ یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہمیں بتایا۔ قاسم بن محمد نے ان سے بیان کیاکہ عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید نے ان کو بتایا کہ ایک شخص جس کو خذامؓ کرکے پکارتے تھے۔ اُس نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا۔ پھر انہوں نے ایسی حدیث بیان کی۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے نافع سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع کرے اور نہ ہی کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے جب تک کہ وہ جو اُس سے پہلے پیام نکاح بھیجنے والا ہے چھوڑ نہ دے یا وہ اُس کو اجازت نہ دے دے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوحازم(سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد(ساعدیؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے اپنے آپ کو ہبہ کر دیا ہے، اور وہ دیر تک ٹھہری رہی۔ اتنے میں ایک شخص نے کہا: اگر آپؐ کو اس کی حاجت نہ ہو تو مجھ سے ہی اس کی شادی کر دیں۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے بھی کہ جو تُو اُسے مہر دے؟ وہ بولا: میرے پاس سوائے میرے تہ بند کے کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم نے یہ تہ بند اس کو دے دیا تو تم بغیر تہ بند کے بیٹھ رہو گے۔ اس لئے کچھ اَور چیز ڈھونڈو۔ اس نے کہا: میں کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپؐ نے فرمایا: ڈھونڈو۔ گو لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ مگر اس کو نہ ملی۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہیں کچھ قرآن بھی یاد ہے؟ اس نے کچھ سورتوں کا نام لے کرکہا: ہاں فلاں فلاں سورت۔ آپؐ نے فرمایا: اس قرآن کے بدلہ میں جو تمہیں یاد ہے ہم نے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اور مجمع سے جو دونوں یزید بن جاریہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے حضرت خنساء بنت خذام انصاریہؓ سے روایت کی کہ ان کے باپ نے ان کی شادی کردی اور وہ ثیبہ تھیں اور انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپؐ نے باپ کا کیا ہوا نکاح ردّ کردیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ نیز لیث (بن سعد) نے کہا کہ مجھے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ اُن سے کہا: اماں جان! وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى … مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: میرے بھانجے یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سرپرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کی خوبصورتی اور اس کی جائیداد پر للچاتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کو اس کا مہر کم مقرر کرے۔ اس لئے ان کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دیا گیا سوائے اس کے کہ وہ پورا مہر دے کر ان کے حق میں انصاف کرے۔ اور انہیں ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اس کے بعدلوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق فتویٰ پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: وَيَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ … وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ۔ اس لئے اللہ عزوجل نے اس آیت میں ان کے لئے یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکی جب مالدار اور خوبصورت ہو تو وہ اس سے نکاح کرنے اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور مہر دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جب مال اور خوبصورتی کی کمی کی وجہ سے وہ ناپسندیدہ ہو تو اُس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے سوا اَور عورتیں لے لیتے ہیں۔ (حضرت عائشہؓ) فرماتی تھیں: جس طرح وہ اُس کو اُس وقت چھوڑ دیتے ہیں کہ جب وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے تو انہیں جائز نہیں کہ وہ اس سے اس وقت نکاح کریں جبکہ وہ اس کے خواہش مند ہوں سوائے اس کے کہ اس کے لئے انصاف کریں اور اس کو اس کا وہ حق دیں جو کہ مہر میں زیادہ سے زیادہ ہے۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنے تئیں آپؐ کے سامنے پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ان دنوں تو مجھے عورتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سن کر ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ بولا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو کچھ دو گو لوہے کی انگوٹھی ہی۔ اُس نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر قرآن سے تمہیں کیا کچھ یاد ہے؟ اُس نے کہا: فلاں فلاں سورة۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر میں نے اُسے تمہارے قبضے میں کردیا ان سورتوں کے عوض میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔