بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اعرج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؐ نے فرمایا: بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاتے رہنا کیونکہ بدگمانی بہت ہی بڑا جھوٹا خیال ہے۔ اور تجسس نہ کیا کرو اور نہ کان نکال کر باتیں سنا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھو اور بھائی بھائی ہو کر رہو۔
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اس وقت تک پیام نکاح نہ بھیجے جب تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: دو شخص مشرق کی طرف سے آئے اور ان دونوں نے تقریر کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو ہوتی ہیں۔
یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع (بن جراح) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: نکاح کر لو، گو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی دے کر۔
ابوالولید ہشام بن عبدالملک (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہؓ سے، حضرت عقبہؓ نے نبی ﷺ
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ (زُہری نے) کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حفصہؓ بیوہ ہوگئیں تو حضرت عمر بن خطابؓ کہتے تھے: میں ابوبکرؓ سے ملا اور میں نے کہا: اگر آپؓ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمرؓ کا نکاح آپؓ سے کئے دیتا ہوں۔ میں کئی راتیں انتظار کرتا رہا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہؓ کے نکاح کا پیغام بھیجا۔ پھر ابوبکرؓ مجھ سے ملے اور کہنے لگے: جو بات تم نے پیش کی تھی اس کے متعلق تمہیں جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا تھا کہ مجھے علم ہوچکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہؓ کا ذکر کیا ہے اور میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا کردیتا۔ اگر آپؐ اسے چھوڑ دیتے تو میں اسے ضرور قبول کرتا۔ (شعیب کی طرح) اس حدیث کو یونس (بن یزید) اور موسیٰ بن عقبہ اور (محمد بن عبداللہ) ابن ابی عتیق نے زُہری سے روایت کیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ خالد بن ذکوان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراءؓ کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جب میرا رخصتانہ کیا گیا تو آپؐ میرے پاس اندر آئے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ تو اس وقت ہماری چند لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے ان بزرگوں کی تعریفیں کرنے لگیں جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے۔ اتنے میں اُن میں سے ایک لڑکی نے کہا: ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا کچھ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو جانے دو اور وہی گاؤ جو پہلے گارہی تھیں۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی کے برابر سونا دے کر نکاح کیا۔ اور نبی ﷺ نے شادی کی خوشی دیکھ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر (دے کر) نکاح کرلیا ہے۔ اور اس سند سے قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا دے کر ایک عورت سے شادی کی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ میں نے ابوحازم سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے سنا۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک عورت کھڑی ہوئی اور وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس نے اپنے تئیں آپؐ کے لئے ہبہ کردیا ہے۔ اس کے متعلق آپؐ کی جو رائے ہو آپؐ کریں تو آپؐ نے اس کو کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر وہ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس نے اپنے تئیں آپؐ کے لئے ہبہ کردیا ہے۔ اس کے متعلق آپؐ کی جو رائے ہو کیجئے۔ آپؐ نے اس کو کچھ جواب نہ دیا۔ پھر وہ تیسری بار کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: اس نے اپنے تئیں آپؐ کے سامنے ہبہ کیا۔ اس کے متعلق جو آپؐ کی رائے ہو وہ کریں۔ تب ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ ہی سے اس کا نکاح کردیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے بھی ؟ وہ کہنے لگا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اور کچھ ڈھونڈو گو لوہے کی انگوٹھی ہی۔ پس وہ گیا اور تلاش کی۔ پھر آیا اور کہنے لگا: مجھے کچھ نہیں ملا۔ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہیں قرآن سے کچھ یاد ہے۔ اس نے کہا: مجھے فلانی فلانی سورة یاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ میں نے اس کی تم سے ان سورتوں کے عوض میں شادی کردی جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زکریا سے جو ابوزائدہ کے بیٹے ہیں۔ زکریا نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی بہن کی طلاق کا سوال اٹھائے تاکہ وہ اس کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اس کو صرف اتنا ہی ملے گا جو اس کے لئے مقدر کیا گیا۔