بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
|عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابو الغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز لوگوں کو اتنا پسینہ آئے گا کہ اُن کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک پہنچ جائے گا اور اُن کے منہ تک پہنچتے پہنچتے ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سےبیان کیا۔ شفیق (بن سلمہ) نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون (کے بدلہ) کا فیصلہ ہو گا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس اس کے بھائی کا دبایا ہوا حق ہو تو چاہیئے کہ وہ آج ہی اس ظلم سے آزاد ہوجائے کیونکہ وہاں نہ دینار ہوگا نہ درہم۔ پیشتر اس کے کہ اس کی نیکیوں میں سے لے کر اس کے بھائی کو دیا جائے اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس کے بھائی کی بدیوں میں سے لے کر اس کے اوپر ڈال دی جائیں گی۔
صلت بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ یزید بن زریع نے ہمیں بتایا۔ (یہ جو فرمایا) جو بھی ان کے سینوں میں کوئی کینہ ہوگا ہم اس کو نکال دیں گے۔ کہا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالمتوکل ناجی سے روایت کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مؤمن آگ سے صحیح سالم بچ کر نکل جائیں گے اور اُنہیں ایک پل پر روکا جائے گا جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا تو پھر وہ ظلم جو دنیا میں اُن کے درمیان آپس میں ایک دوسرے پر ہوئے ہوں گے تو ان کا بدلہ ایک سے دوسرے کے لئے لیا جائے گا یہاں تک کہ جب اُنہیں ٹھیک ٹھاک کیا جائے گا اور وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو اُنہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ اُن میں سے ایک بہشت میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے کے لئے راستہ زیادہ آسانی سے پالے گا بنسبت اس کے کہ دنیا میں اپنے گھر پر آنے کے لئے راستہ پایا کرتا تھا
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن اسود سے، عثمان نے ابن ابی ملیکہ سے، اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے،حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: جس سے کرید کرید کر حساب لیا گیا اُس کو سزا دی جائے گی۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تو صرف پیش کیا جائے گا۔ عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عثمان بن اسود سے روایت کی کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سےسنا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا۔ اور (عثمان کی طرح) ابن جریج اور محمد بن سلیم اور ایوب اور صالح بن رستم نے بھی روایت کی۔ اُنہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ حاتم بن ابی صغیرہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ہمیں بتایا، قاسم بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا وہ ضرور تباہ ہوا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: جس کے داہنے ہاتھ میں اُس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ تو اس سے جلد ہی آسان حساب لے لیا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف پیش کرنا ہے اور جو کوئی بھی ایسا ہوگا کہ جس سے قیامت کے دن کرید کرید کر حساب لیا جائے گا تو ضرور اس کو سزا دی جائے گی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ معاذ بن ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نےحضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز محمد بن معمر نے مجھ سے بیان کیا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا۔ بھلا بتلاؤ تو سہی اگر زمین بھر سونا تمہارے لئے ہو کیا تم اس کو اپنے بدلے میں دے کر اپنے آپ کو چھڑاؤ گے؟ وہ کہے گا۔ ہاں۔ تو اس سے کہا جائے گا ۔ تم سے تو وہ مانگا گیا تھا جو اس سے بہت ہی سہل تھا۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: اعمش نے مجھ سےبیان کیا۔ اعمش نے کہا خیثمہ نے مجھے بتایا۔ خیثمہ نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس سے اللہ قیامت کے دن بات نہ کرے گا ایسے طور سے کہ اللہ اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ پھر وہ نظر ڈالے گا تو اپنے سامنے کوئی عمل نہ دیکھے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے نظر ڈالے گا تو آگ اس کے سامنے ہوگی۔ اس لئے جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو کہ وہ آگ سے بچے (تو وہ بچے۔) خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر۔
اعمش نے کہا: عمرو (بن مرہ) نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے خیثمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، خیثمہ نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے بچو۔ یہ کہہ کر آپؐ نے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف رخ کیا۔ پھر فرمایا:آگ سے بچو۔ پھر آپؐ نے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف رخ کیا۔ تین بار ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اُسے دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا: آگ سے بچو گو کھجور کے ایک ٹکڑے سے اور جو یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات ہی کہہ کر۔
عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ حصین (بن عبدالرحمٰن) نے ہم سے بیان کیا ۔ نیز اسید بن زید نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ہشیم (بن بشیر) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حصین سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں سعید بن جبیرکے پاس تھا تو اُنہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے (ساری) اُمتیں پیش کی گئیں۔ کوئی نبی گزرتا تو اس کے ساتھ جماعت ہوتی اور کوئی نبی گزرتا تو اس کے ساتھ تھوڑے سے آدمی تھے اور کوئی نبی گزرتا اس کے ساتھ دس آدمی ہوتے اور کوئی نبی گزرتا اس کے ساتھ پانچ آدمی ہوتے اور کوئی نبی اکیلے گزرتا۔ میں نے نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں بہت بڑی جماعت ہے میں نے کہا۔ جبریل! یہ میری اُمت ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ اس اُفق کی طرف آپ دیکھیں میں نے نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں بہت ہی بڑی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ آپ کی اُمت ہیں اور یہ ستر ہزار جو اِن کے آگے آگے ہیں ان پر نہ کوئی حساب ہے اور نہ کوئی عذاب۔ میں نے کہا: کیوں؟ اُنہوں نے کہا: وہ داغ نہیں لگواتے تھے اور نہ ہی منتر پڑھوایا کرتے تھے اور نہ بُرا شگون لیتے تھے اور اپنے ربّ پر بھروسہ رکھتے تھے۔ اس پر حضرت عکاشہ بن محصنؓ اُٹھ کر آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی اُنہی میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! اس کو بھی انہی میں سے کیجیؤ۔ پھر ایک اور شخص اُٹھ کر آپؐ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: دعا کریں مجھے بھی انہی میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: عکاشہؓ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔