بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
مُعَلیَّ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے )عبداللہ) بن طاؤس سے، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں کو تین طریقوں سے اکٹھا کرکے لے جایا جائے گا۔ بعضوں کو تو ایسی حالت میں اکٹھا کیا جائے گا کہ وہ خواہش بھی رکھتے ہوں گے اور ڈرتے بھی ہوں گے اور بعض ایک اونٹ پر دو دو ہوں گے اور بعض ایک اونٹ پر تین تین اور بعض ایک اونٹ پر چار چار اور بعض ایک اونٹ پر دس دس اور اُن میں سے جو باقی رہ جائیں گے ان کو تو آگ ہانک کر لے جائے گی جو اُن کے ساتھ جہاں وہ قیلولہ کریں گے قیلولہ کرے گی اور اُن کے ساتھ جہاں وہ رات کو ٹھہریں گے اُن کے ساتھ ٹھہرے گی اور جہاں وہ صبح کو ہوں گے وہ اُن کے ساتھ صبح کو ہوگی اور جہاں وہ شام کو ہوں گے وہ اُن کے ساتھ شام کو ہوگی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ منبرپر کھڑے لوگوں سے مخاطب تھے۔ فرما رہے تھے: تم اللہ سے ننگے پاؤں ، ننگے بدن بے ختنہ ملو گے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یونس بن محمد بغدادی نے ہمیں بتایا۔ شیبان نے ہم سےبیان کیا، شیبان نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے نبی ! کافر کو اُس کے منہ کے بل کیونکر ہانک کر لے جایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: کیا وہ جس نے اس کو دنیا میں دو پاؤں کے بل چلایا قادر نہیں کہ اُس کو قیامت کے دن اس کے منہ کے بل چلائے؟ قتادہ نے کہا:کیوں نہیں ضرور اور ہمارے ربّ کی عزت کی قسم ہے۔
علی (بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا ۔( سعید نے کہا:) میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ (اُنہوں نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تم اللہ سے ملو گے ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل چلتے ہوئے، بے ختنہ۔ سفیان نے کہا: یہ حدیث بھی انہی حدیثوں میں سے ہے جن کو ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے، مغیرہ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطاب کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: تم ننگے پاؤں، ننگے بدن بے ختنہ اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (آپؐ نے یہ آیت پڑھی:)جس طرح ہم نے تمہاری پیدائش کو پہلی دفعہ شروع کیا تھا اُسی طرح پھر اُس کو دوہرائیں گے یہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے۔ ہم ایسا ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (اور فرمایا:) قیامت کے دن تمام مخلوق میں سے پہلے جس کو (لباس)پہنایا جائے گا ابراہیمؑ ہوں گے۔ اور ایسا ہوگا کہ میری اُمت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا پھر اُنہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! یہ میرے ساتھی ہیں۔ فرمائے گا:تو نہیں جانتا کہ تیرے بعد اِنہوں نے کیا نئی نئی بدعتیں کی ہیں تو میں اُسی طرح کہو ں گا جس طرح اس نیک بندے نے کہا تھا۔ اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا میں ان کا نگران رہا۔ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی اُن پر نگران تھا (میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔اگر تو اُنہیں عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو اُنہیں بخشنا چاہے تو تُو بہت غالب (اور) بڑی حکمتوں والا (خدا) ہے۔آپؐ فرماتے تھے: پھر کہا جائے گا کہ وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے۔
قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے ہمیں بتایا۔ حاتم بن ابی صغیرہ نے ہم سے بیان کیا۔ حاتم نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، عبداللہ نے کہا: قاسم بن محمد بن ابی بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن، بِن ختنہ تمہیں اکٹھا کیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ حالت اس سے زیادہ سخت ہوگی کہ اُن کو اِس کی فکر ہو۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے خیمے میں تھے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم خوش ہو گے کہ جنتیوں میں سے چوتھائی تم ہو ؟ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ جنتیوں میں تہائی تم ہو؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم خوش ہوگے اس سے کہ جنتیوں میں آدھے تم ہوگے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے میں پختہ اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں آدھے تم ہوگے اور یہ اس لئے کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوتا مگر وہ نفس جو کامل فرمانبردار ہو۔اور مشرکوں کے مقابل تم ایسے ہی ہو کہ جیسے سفید بال سیاہ بیل کے جسم میں یا جیسے سیاہ بال لال بیل کے جسم میں۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے ثور (بن زید دیلی) سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے جنہیں قیامت کے دن بلایا جائے گا آدمؑ ہوں گے۔ اُن کی ذریت سامنے دکھائی دے گی اور اُن سے کہا جائے گا یہ تمہارے بابا آدم ہیں اور وہ کہیں گے۔ میں حاضر ہوں اور جو ارشاد ہواس کے بجالانے کے لئے تیار ہوں۔ تو اللہ فرمائے گا۔ اپنی ذریت میں سے جہنم کا ایک گروہ نکال۔ آدمؑ کہیں گے: اے ربّ ! کتنے نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ننانوے فیصد۔ صحابہ نے (یہ سن کر) کہا: یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے ننانوے فیصد کو نکال لیا گیا تو پھر ہم میں سے کیا رہ جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت دوسری اُمتوں کے مقابل ایسی ہے جیسے سفید بال سیاہ بیل میں۔
(تشریح)یوسف بن موسیٰ (قطان) نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر(بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوسعید (خدریؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرمائے گا:اے آدمؑ ! اور وہ کہیں گے حاضر ہوں جو ارشاد ہو بجالانے کے لئے تیار ہوں اور ساری بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دوزخ کا ایک گروہ نکال ۔ آدمؑ کہیں گے دوزخ کا گروہ کتنا ہو۔ فرمایا: ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور ہر ایک حمل والی اپنے حمل کو گرا دے گی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا اور وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب ہی سخت ہوگا۔ (یہ سن کر) اُن پر شاق گزرا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! ہم میں سے وہ کون شخص ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: تم خوش رہو کہ یاجوج ماجوج میں سے ہزار دوزخ میں جائیں گے اور تم میں سے ایک ۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تہائی تم ہو گے۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: ہم نے اللہ کا شکر کیا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں آدھے تم ہو۔ تمہاری مثال تمام اُمتوں کے مقابل میں ایسی ہے جیسے سفید بال سیاہ بیل کے جسم میں یا جیسے گدھے کی اگلی ٹانگ میں داغ ہوتا ہے۔
(تشریح)اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہم سے بیان کیا، ابن عون نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی (کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس وقت (تمام) لوگ سب جہانوں کے رب (کا فیصلہ سننے) کے لئے کھڑے ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ اُن میں سے ایک اپنے پسینے میں ڈوبا کھڑا ہوگا جو اُس کے آدھے کانوں تک پہنچے گا۔