بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، اُنہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، عبداللہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپؐ نے ابوطالب کو کچھ فائدہ پہنچایا۔
(تشریح)یحيٰ بن حماد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبد اللہ (بن مسعودؓ) سے، اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ سے روایت کی کہ نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ نافع نےحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: تمہارے آگے ایک حوض ہے اتنا ہی بڑا کہ جتنا جَرْبَاء اور اذْرُح کے درمیان ہے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ اُنہوں نےکہا: حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایک مہینہ کی مسافت ہے اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے اور اس کی خوشبو مشک سے بھی زیادہ عمدہ ہے اور اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں۔ جس نے اُن سے پیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے روایت کی۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اس قدر بڑا ہے کہ جتنا ایلہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے جو یمن میں ہے اور اس میں اتنے آبخورے ہیں جتنے آسمان کے ستاروں کی گنتی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ سعید اور عطاء بن یزید نے مجھے خبر دی، کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔نیز محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی، معمر نے زہری سے، زہری نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے ربّ کو دیکھیں گے ؟ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں تکلیف ہوتی ہے کہ جس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو؟ اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا چودھویں رات کو چاند کے دیکھنے میں تمہیں کچھ تکلیف ہوتی ہے جس کے سامنے کچھ بادل نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: تم قیامت کے دن اس کو اسی طرح دیکھو گے ۔ اللہ( آگ میں) لوگوں کو اکٹھا کرتا جائے گا اور فرمائے گا جو جس چیز کو پوجتا تھا اب اس کے پیچھے ہولے۔ یہ سن کر جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہولے گا اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہولے گا اور جو طاغوت کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوت کے پیچھے ہو جائے گا اور یہ اُمت باقی رہ جائے گی جن میں منافق بھی ہوں گے۔ تو اللہ ان کے پاس جس صورت میں وہ اس کو پہچانتے تھے اس کے سوا کسی اور صورت میں آئے گا اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں ۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ہم یہیں رہیں گے جب تک کہ ہمارا ربّ نہ آجائے۔ جب ہمارا ربّ آئے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے۔ پھر اللہ اُن کے پاس اسصورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور وہ کہے گا:میں تمہارا ربّ ہوں وہ کہیں گے تُو ہی ہمارا ربّ ہے اور وہ اس کے ساتھ ہو لیں گے اور جہنم کا پل رکھ دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں پہلا ہوں گا جو پار کرے گا۔ اس دن رسولوں کی بھی یہی پکار ہوگی ۔ یا اللہ بچانا، یا اللہ بچانا اور اس پل پر ایسے آنکڑے ہوں گے جیسے اونٹ کٹارہ کے کانٹے ہوتے ہیں۔ کیا تم نے اونٹ کٹارہ کے کانٹے نہیں دیکھے؟ اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیوں نہیں۔ ضرور دیکھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو وہ اونٹ کٹارہ کے کانٹوں کی طرح ہوں گے مگر اتنی بات ہے کہ وہ اس قدر بڑے ہوں گے کہ اللہ ہی جانتا ہے اور وہ آنکڑے لوگوں کو ان کے اعمال کے لحاظ سے اُچکتے جائیں گے۔ اُن میں سے ایسا بھی ہوگا جو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہورہا ہوگا اور اُن میں سے وہ بھی ہو گا جو چھل چھلا کر گرتے گرتے بچ جائے گا۔ جب اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائے گا اور جس کو آگ سے نکالنے کا ارادہ کرے گا یعنی ان لوگوں میں سے جو یہ گواہی دیتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ ملائکہ کو حکم دے گا کہ ان کو نکالیں اور وہ ان کو سجدوں کے نشانوں سے پہچان لیں گے اور اللہ نے آگ پر یہ حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم میںسجدے کے نشان کو جلائے۔ فرشتے اُن کو نکالیں گے، وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے اس لئے ان پر وہ پانی ڈالا جائے گا جسے آب حیات کہتے ہیں اور وہ اس طرح نشوو نما پائیں گے جیسے دانہ سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں نشوو نما پاتا ہے اور ایک شخص باقی رہ جائے گاجو آگ کی طرف اپنا منہ کئے ہوئے ہوگا وہ کہے گا: اے میرے ربّ ! اس کی بدبو نے مجھے پریشان کردیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جلا دیا ہے میرے منہ کو آگ سے پھیر دے اور وہ اللہ سے یہی دعا کرتا رہے گا اور وہ فرمائے گا: شاید اگر تمہاری مان لوں تو تم مجھ سے اس کے سوا اور کچھ مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں ۔ تیری ہی عزت کی قسم میں اس کے سوا تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا اور وہ آگ سے اس کے منہ کو پھیر دے گا۔ پھر وہ اس کے بعد کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ ربّ کہے گا: کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کے سوا تم مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے۔ افسوس تجھ پر ابن آدم ، کتنے دغا باز ہو تم اور وہ اللہ سے یہی مانگتا رہے گا۔ اور اللہ فرمائے گا: شاید اگر میں تمہاری یہ مان لوں تو تم اس کے سوا کچھ اور مجھ سے مانگو گے۔ وہ کہے گا: تجھے تیری ہی عزت کی قسم اس کے سواکچھ اور میں تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے بڑے بڑے عہداور اقرار کرے گا کہ وہ اس سے اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگے گا اور وہ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جو کچھ کہ اس میں ہوگا، جب وہ دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔ پھر اس کے بعد وہ کہے گا: اے میرے ربّ ! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ پھر اللہ فرمائے گا: کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگو گے۔ افسوس تم پر ابن آدم کتنے ہی دغا باز ہو تم اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ اپنی مخلوقات میں سے مجھے سب سے بدنصیب نہ بنا اور وہ بار بار یہی دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ ہنس پڑے گا اور جب وہ اس کی حالت کو دیکھ کر ہنس پڑے گا تو جنت میں جانے کی اس کو اجازت دے دے گا اور جب وہ اس کے اندر جائے گا تو اسے کہا جائے گا یہ یہ آرزو کر اور وہ آرزو کرے گا ۔ پھر اس سے کہا جائے گا یہ بھی آرزو کر اور وہ آرزو کرے گا۔ یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ اس سے کہے گا: یہ سب آرزوئیں تمہارے لئے پوری کی گئی ہیں اور اتنی ہی اور ۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا اور یہ وہ شخص ہے جو جنتیوں میں سے سب سے آخر میں داخل ہوگا۔
عطاء )بن یزید( کہتے تھے (کہ جب حضرت ابوہریرہؓ نے یہ حدیث بیان کی تو) حضرت ابوسعید خدریؓ حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ اُن کے اس بیان میں اُن کے خلاف کوئی اور بات نہیں کہتے تھے یہاں تک کہ جب وہ اپنی اس بات پر پہنچے کہ یہ سب تمہارے لئے پوری کی گئیں اور اُن کے ساتھ اتنی ہی اور بھی۔ تو حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا۔ یہ سب تمہارے لئے پوری کی گئیں اور ویسی ہی دس گنا اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے تو یہ یاد رکھا ہے اُن کے ساتھ اتنی ہی اور۔
نیز مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ سے مروی ہے۔ اُنہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے سنا۔ اُنہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ وہاں لائے جائیں گے۔ پھر اُنہیں (میری مرضی کے بغیر) مجھ سے پرے ہٹا دیا جائے گا۔میں کہوں گا:اے میرے ربّ! یہ میرے ساتھی ہیں۔ تو وہ فرمائے گا: تم نہیں جانتے اِنہوں نے تیرے بعد کیا کچھ نئی نئی بدعات کیں۔ اس حدیث کو (اعمش کی طرح) عاصم نے بھی ابووائل سے روایت کیا اور حصین (بن عبدالرحمٰن) نے بھی ابووائل سے نقل کیا۔ ابووائل نے حضرت حذیفہؓ سے، حضرت حذیفہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
عمرو بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ ابوبشر اور عطاء بن سائب نے ہمیں خبر دی۔ اُن دونوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: کوثر سے مراد وہ خیر کثیر ہے جو اللہ نے آپؐ کو عطاء کیا ۔ ابوبشر کہتے تھے: میں نے سعید سے کہا کہ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ایک دریا ہے جو جنّت میں ہوگا۔ سعید نے کہا: وہ دریا جو جنت میں ہوگا وہ اُسی خیر کثیر میں سے ہے جو اللہ نے آپؐ کو عطا کیا۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سےبیان کیا، حضرت انس بن مالک ؓنے ہمیں بتایا۔ حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں جنّت میں چلا جا رہا تھا اتنے میں میں اپنے آپ کو دریا کے کنارے پر دیکھتا ہوں اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد تھے۔ میں نے پوچھا: جبریلؑ! یہ کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو تمہارے ربّ نے تمہیں دیا ۔کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی مٹی یا کہا اس کی خوشبو تیز مشک کی ہے۔ ہدبہ نے شک کیا کہ مٹی کہا یا خوشبو۔