بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
عمر بن حفص نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا ابراہیم تیمی نے مجھے بتایا، ابراہیم نے حارث بن سوید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ)نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ایسا ہے کہ جس کو اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر اس کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو اس نے پیچھے چھوڑدیا۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ ابو حصین نے ہم سے بیان۔انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: تونگری بہت مال و اسباب سے نہیں۔ غِنٰی وہ ہے جو دل کا غِنٰی ہو
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ سعید بن ابی عروبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان (میز) پر نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ آپؐ وفات پا گئے اور نہ ہی باریک چپاتی کھائی۔ یہاں تک کہ آپؐ وفات پا گئے۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور میرے توشہ خانہ میں کچھ بھی نہ تھا جسے کوئی زندہ وجود کھاتا مگر کچھ تھوڑے جَو، جو میرے توشہ خانہ میں تھے میں وہی کھاتی رہی یہاں تک کہ اتنی مدت گزر گئی کہ آخر میں نے ان کو ماپا اور وہ ختم ہوگئے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن رُفیع سے، عبدالعزیز نے زید بن وہب سے، زید نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں ایک رات جو نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جارہے ہیں اور آپؐ کے ساتھ کوئی آدمی نہیں۔ کہتے تھے: میں نے سمجھا کہ آپؐ ناپسند کرتے ہوں کہ آپؐ کے ساتھ کوئی چلے۔ کہتے تھے: میں چاند کے سایہ میں چلنے لگا۔ آپؐ جو مڑے تو مجھے دیکھ لیا۔ آپؐ نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: ابوذر، اللہ مجھے آپؐ کے قربان کرے۔ فرمایا: ابوذر آجاؤ ۔ کہتے تھے: میں آپؐ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپؐ نے فرمایا: جو بہت دولتمند ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں گے مگر وہ شخص نہیں جس کو اللہ نے دولت دی ہو اور اس نے اس کو اپنے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے لٹایا ہو اور اس مال سے اچھے کام کئے ہوں ۔ کہتے تھے: میں آپؐ کے ساتھ کچھ دیر اور چلا تو آپؐ نے فرمایا، یہاں بیٹھ جاؤ۔ کہتے تھے۔ آپؐ نے مجھے ایک ہموار میدان میں بٹھا دیا جس کے آس پاس پتھر تھے۔ آپؐ نے فرمایا: یہیں بیٹھے رہو اس وقت تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ کہتے تھے۔ آپؐ پتھریلی زمین میں اتنی دور چلے گئے کہ میں آپؐ کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور میرے پاس آنے میں دیر کی اور بہت ہی دیر کی۔ پھر میں نے آپؐ سے سنا جب کہ آپؐ آرہے تھے اور آپؐ یہ فرما رہے تھے ۔ گو اس نے چوری کی ہو اور گو اس نے زنا کیا ہو۔ حضرت ابوذرؓ کہتے تھے۔ جب آپؐ آئے تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے پوچھا۔ اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ کے قربان کرے اس میدان کے ایک طرف کون باتیں کررہا تھا؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا کہ آپ کو کچھ جواب دیتا ہو؟ آپؐ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو حرہ کے کنارے میں میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی اُمت کو بشارت دو کہ جو ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا:جبریل ! اگرچہ اس نے چوری کی ہواور اگرچہ اس نے زنا کیا ہو۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ (حضرت ابوذرؓ کہتے تھے) میں نے بھی کہا۔ اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور اگر اس نے زنا کیا ہو؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ نضر (بن شمیل) نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا کہ حبیب بن ابی ثابت اور اعمش اور عبدالعزیز بن رفیع نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں یہی بتایا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری)نے کہا: ابوصالح کی حدیث جو اُنہوں نے ابودرداء سے روایت کی مرسل ہے صحیح نہیں۔ہم نے صرف چاہا کہ وہ بھی معلوم ہوجائے اور صحیح حضرت ابوذرؓ کی حدیث ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری)سے پوچھا گیا عطاء بن یسار کی حدیث جو اُنہوں نے ابودرداء سے روایت کی انہوں نے کہا: وہ بھی مرسل ہے صحیح نہیں اور صحیح حضرت ابوذرؓ کی حدیث ہے اور انہوں نے کہا۔ ابودرداء کی حدیث کو نظر انداز کرو یعنی یہ حدیث جب وہ مرنے لگے تو موت کے وقت لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہے۔
(تشریح)حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے زید بن وہب سے روایت کی انہوں نے کہا۔ حضرت ابوذرؓ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے میدان میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں اُحد ہمارے سامنے ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: ابوذرؓ ! میں نے کہا۔ حاضر ہوں یا رسول اللہ ۔ آپؐ نے فرمایا۔ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میرے پاس اس اُحد جتنا سونا ہو اور تیسری رات مجھ پر گزر جائے اور اس میں سے میرے پاس ایک دنیار بھی موجود ہو۔ سوائے کچھ (سونے) کے جو میں نے قرض چکانے کے لئے رکھ چھوڑا ہو بلکہ میں ضرور ہی اللہ کے بندوں میں اسے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح خرچ کردوں یعنی اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور اپنے پیچھے۔ پھر آپ چلے گئے اور فرمایا: وہ جو بہت مالدار ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں گے۔مگر وہ نہیں جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح خرچ کرے یعنی اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور اپنے پیچھے اور وہ بہت ہی تھوڑے ہیں پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی اس جگہ ٹھہرو جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں یہاں سے جانا نہیں۔ یہ کہہ کر آپ رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظر سے اوجھل ہوگئے۔ پھر میں نے ایک آواز سنی جو بلند ہوگئی میں ڈرا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حادثہ پیش نہ آیا ہو۔ میں نے چاہا کہ آپ کے پاس جاؤں مگر میں نے آپ کی اُس بات کا خیال کیا جو آپ نے مجھ سے کہی تھی کہ جب تک میں نہ آجاؤں یہاں سے جانا نہیں اس لئے جب تک آپ میرے پاس آنہیں گئے وہاں سے ہٹا نہیں۔ میں نے کہا۔ یا رسول اللہ ! میں نے ایک آواز سنی تھی جس سے میں بہت ڈرگیا اور میں نے اس بات کا ذکر کیا جس کی وجہ سے میں آپؐ کے پاس نہ گیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے بھی وہ آواز سنی؟ میں نے کہا۔ ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ جبریلؑ تھے میرے پاس آئے اور اُنہوں نے کہا: جو تیری اُمت میں سے ایسی ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو ؟ انہوں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو۔
احمد بن شبیب نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے روایت کی اور لیث نے کہا: مجھے یونس نے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے لئے اُحد برابر بھی سونا ہو تو مجھے ضرور یہی بات خوشی دے گی کہ مجھ پر تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ اس میں سے کچھ بھی میرے پاس موجود ہو مگر جو میں قرضہ چکانے کے لئے رکھ چھوڑوں۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا عبدالعزیز بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نےحضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپؐ نے ایک شخص سے جو آپؐ کے پاس بیٹھا ہوا تھا پوچھا۔ اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: یہ شخص بڑے لوگوں میں سے ہے۔ یہ اللہ کی قسم اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو نکاح کر دیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر ایک اور شخص گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ درویش مسلمانوں میں سے ہے یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ سنی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن جیسے آدمیوں سے زمین بھی بھر جائے تو یہ شخص اُن سے بہتر ہے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے کہا میں نے ابووائل سے سنا وہ کہتے تھے:ہم حضرت خبابؓ کی عیادت کوگئے تو انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہم اللہ کی رضامندی چاہتے تھے اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوگیا ہم میں سے وہ بھی ہیں جو گزر گئے، اپنے اجر سے کچھ نہ لیا انہی میں سے مصعب بن عمیرؓ ہیں جو اُحد کے دن شہید کیے گئے تھے اور اُنہوں نے ایک چادر چھوڑی تھی ۔ جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو اُن کے پاؤں ظاہر ہوجاتے اور جب ہم اُن کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ظاہر ہوجاتا۔ یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ ہم ان کے سر کو ڈھانپ دیں اور اُن کے پاؤں پر اِذخر (گھاس)ڈال دیں اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا میوہ ان کے لئے پک گیا اور اب وہ اُس کو چُن رہے ہیں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ سلم بن زریر نے ہمیں بتایا۔ ابورجاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے، حضرت عمرانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثر اس میں رہنے والے غریب ہی تھے اور میں نے آگ میں جھانک کر دیکھا تو اکثر اس کے رہنے والے عورتیں ہی تھیں۔ (سلم بن زریر کی طرح) ایوب اور عوف (اعرابی) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا اور صخر (بن جویریہ) اور حماد بن نجیح نے بھی ابورجاء سے، ابورجاء نے حضرت ابن عباسؓ سے اسے نقل کیا۔