بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
ابونعیم نے مجھ سے یہ حدیث آدھی کے قریب بیان کی کہ عمر بن زر نے ہمیں بتایا کہ مجاہد نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ کہا کرتے تھے۔ اس اللہ ہی کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ میں بھوک کے مارے اپنے کلیجے کو سہارا دینے کے لیے زمین سے لگا رہتا تھا اور کبھی تو بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھ لیا کرتا تھا اورایک دن میں لوگوں کے اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے وہ نکلا کرتے تھے اتنے میں حضرت ابوبکرؓ گزرے اور میں نے اُن سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔ میں نے اُن سے اس لئے پوچھی تھی تا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلادیں مگر وہ گزر گئے اور اُنہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر میرے پاس سے حضرت عمر ؓ گزرے میں نے اُن سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔ میں نے محض اس لئے پوچھی تھی تا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے۔ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر اس کے بعد ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو آپؐ مسکرائے اور جو میرے نفس کی کیفیت تھی اور جو میرے چہرے کی حالت تھی آپؐ سمجھ گئے اور فرمایا: اَبَا ہِر! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپؐ نے فرمایا: میرے پیچھے آجاؤ اور یہ کہہ کر چلے گئے اور میں آپؐ کے پیچھے پیچھے گیا۔ آپؐ اندر گئے اور اجازت لے کر گئے اور مجھے بھی اجازت دی۔ آپؐ جو اندر گئے تو دودھ کا ایک پیالہ پایا۔ آپؐ نے پوچھا: یہ دودھ کہاں سے (آیا)ہے؟ گھر والوں نے کہا: فلاں شخص نے یا کہا فلاں عورت نے آپ کو یہ ہدیہ بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اباہِر! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپؐ نے فرمایا: اہل صُفَہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔ کہتے تھے اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان ہوتے نہ گھر بار تھا کہ وہاں جاکر آرام کرتے اور نہ کوئی ایسا تھا کہ جس کے پاس جاکر وہ رہتے۔ جب آپؐ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپؐ اُن کو بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے اور جب آپؐ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو اُن کو بلا بھیجتے اور اس میں سے خود بھی کچھ لیتے اور اس میں اُنہیں بھی شریک کرتے۔ مجھے ان کا یہ بلانا برا لگا میں نے کہا: اہل صفہ کے سامنے یہ اتنا سا دودھ کیا چیز ہے؟ میں زیادہ حقدار تھا کہ میں اس دودھ سے کچھ پیتا کہ جس سے مجھ میں طاقت آتی اگر وہ آگئے تو آپؐ مجھے حکم دیں گے اور مجھے اُن کو دینا ہی ہوگا اور اُمید نہیں کہ اس دودھ سے مجھ تک کچھ پہنچےاور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے کچھ چارہ نہ تھا۔ آخر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا وہ چلے آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپؐ نے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا:اباہِر! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! فرمایا: یہ لو اور ان کو دو ۔ (کہتے تھے۔) میں نے وہ پیالہ لیا اور ایک آدمی کو وہ دیتا اور وہ پیتا یہاں تک کہ سیر ہوجاتا۔ پھر وہ پیالہ مجھے واپس دے دیتا۔ پھر میں دوسرے آدمی کو دیتا اور وہ بھی اتنا پیتا کہ سیر ہوجاتا۔ پھر وہ مجھے پیالہ واپس دے دیتا۔ پھر اگلا سیر ہوکر پیتا اور وہ پیالہ مجھے واپس کر دیتا یہاں تک کہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور وہ سب لوگ سیر ہو چکے تھے۔ آپؐ نے وہ پیالہ لیا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا: اباہِر! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپؐ نے فرمایا: میں اور تم باقی رہ گئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے سچ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور پیو۔میں بیٹھ گیا اور میں نے پینا شروع کیا۔ آپؐ نے فرمایا اور پیو ۔ میں نے اور پیا۔ آپؐ یہی فرماتے رہے اور پیو (اور میں نے اتنا پیا )آخر میں نے کہا: اب نہیں۔ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں اب اس کے لئے راستہ نہیں پاتا جس میں اس کو اُتاروں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے دکھاؤ۔ تو میں نے وہ پیالہ آپؐ کو دے دیا۔ آپؐ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا نام لیا اور وہ بچا ہوا دودھ پی لیا۔
عثمان (بن ابی شیبہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر(بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔فرماتی تھیں: آل محمد نے جب سے آپ مدینہ میں آئے تین دن تک بھی لگا تار جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی اسی حالت میں آپ نے وفات پائی۔
اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ اسحاق نے وہ جو ازرق ہیں ، ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مسعر بن کدام سے، مسعر نے ہلال وزّان (بن حمید) سے، ہلال نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے ایک دن میں دوبار ایسا کھانا نہیں کھایا کہ جن میں سے ایک کھجور یں نہ ہوں۔
احمد بن رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام(بن عروہ) سے روایت کی۔ ہشام نے کہا مجھے میرے باپ نے خبر دی۔ اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی آپ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا اور کھجور کے ریشے اس کے اندر بھرے ہوئے تھے۔
ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام بن یحيٰنے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا، ہم حضرت انس بن مالکؓ کے پاس آتے اور اُن کا نان بائی کھڑا ہوتااور وہ کہتے کھاؤ میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو یہاں تک کہ اسی حالت میں آپؐ اللہ سے جاملے۔ نہ ہی آپؐ نے کبھی اپنی آنکھ سے سموچی (سالم بھنی ہوئی) بکری دیکھی۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: ہم پر کبھی مہینہ گزر جاتا کہ جس میں ہم آگ نہ جلاتے یہی کھجوریں اور پانی ہوتا سوائے اس کے کہ ہمارے پاس کچھ تھوڑا سا گوشت آجاتا۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عمارہ (بن قعقاع) سے، عمارہ نے ابوزرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ! محمد کی آل کو اتنی روزی دے جتنی کہ ضروری ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سےروایت کی کہ قیس (بن ابی حازم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت سعدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نے اپنے تئیں دیکھا کہ ہم جہاد کے لئے نکلتے اور ہمارے لئے کوئی کھانا نہ ہوتا، مگر حُبلہ (پھلیاں) اور ببول کے پتے اور ہم میں سے ایک کی یہ حالت ہوتی کہ وہ اُسی طرح مینگنیاں کرتا جیسے بکری مینگنیاں کیا کرتی ہے ان میں کوئی تری نہ ہوتی ۔ پھر بنو اسد لگے ہیں مجھے اب اسلام کے احکام سکھلانے۔ تب تو میں نامراد رہا اور میری کوشش رائیگاں گئی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالعزیز) ابن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے یزید بن رومان سے، یزید نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی انہوں نے عروہ سے کہا: میرے بھانجے! ہماری تو ایسی حالت تھی کبھی دو مہینے گذر جاتے اور ہم تیسرا چاند بھی دیکھ لیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہ سلگائی جاتی ۔ میں نے پوچھا: آپ کا گزارا کس سے ہوتا؟ کہنے لگیں: یہ دو کالی چیزیں کھجوریں اور پانی ۔ ہاں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے ان کی دودھیل اونٹنیاں ہوتیں اور وہ اپنے گھروں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور آپؐ ہم سب کو وہی پلاتے۔
عبدان (بن عثمان بن جبلہ) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے اشعث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ (ابوشعثاسلیم بن اسود) سےسنا۔ اُنہوں نے کہا میں نے مسروق سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل بہت پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا: وہ عمل جو ہمیشہ ہوتا رہتا ۔ کہتے تھے۔ اُنہوں نے کہا میں نے عرض کیا : آپؐ (رات کی عبادت کے لیے) کس وقت اٹھا کرتے تھے ؟ اُنہوں نے فرمایا: اس وقت اُٹھا کرتے تھے جب آپ مرغ کی آواز سنتے۔