بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے ابوبردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور اس پیغام کی مثال جو اللہ نے مجھے دیکر بھیجا اس شخص کی سی مثال ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی آنکھوں سے فوج کو دیکھا اور میں کُھلا کُھلا ڈرانے والا ہوں اس لئے اپنی جان بچانے کے لئے بھاگو بھاگوتو ایک گروہ نے اس کی بات مان لی اور وہ رات ہی کو اطمینان سے سنبھل کر نکل گئے اور بچ گئے اور ایک گروہ نے اس کو جھٹلایا۔ اتنے میں فوج نے صبح کو اُن پر چھاپا مارا اور ان کی بیخ کنی کردی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا (بن ابی زائدہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامرسے، عامر نے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جس نے اُن باتوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ نے روکا ۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے تھوڑا اور روتے بہت۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن انس سے، موسیٰ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تم ہنستے تھوڑا اور روتے بہت۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابو زناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت ان باتوں سے ڈھکی ہوئی ہے جو نفس کو بری معلوم ہوتی ہیں۔
(تشریح)موسیٰ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور اور اعمش سے، ان دونوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جنت تم میں سے ایک کے اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور آگ بھی اسی طرح۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا نہایت سچا شعر جو کسی شاعر نے کہا ہے وہ یہ ہے: یعنی اللہ کے سوا ہر چیز بے حقیقت ہے
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابو زناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اُن کو دیکھے جن کو اس سے بڑھ کر مال دیا گیا ہے اور اس سے عمدہ بناوٹ دی گئی ہے تو چاہیے کہ وہ اُن کو بھی دیکھے جو اس سے نیچے ہیں جن پر اسے فضیلت دی گئی ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے عبدالرحمٰن سے، عبد الرحمٰن نے ان کو بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری مثال اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ سلگائی۔ جب اس آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا تو پتنگے اور یہ کیڑے مکوڑے جو کہ آگ میں گرا کرتے ہیں اس آگ میں گرنے لگے اور وہ اُن کو نکالنے لگا اور وہ اس کے قابو سے باہر ہورہے ہیں اور اس آگ میں بے تحاشا کود رہے ہیں۔میں بھی تمہارے تہ بند کی مُریوں کو پکڑے ہوئے آگ سے روک رہا ہوں اور تم اس میں بے تحاشا کود رہے ہو۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ جعد (بن دینار) ابوعثمان نے ہم سےبیان کیا کہ ابورجاء عطاردی نے ہمیں بتایا، ابورجاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ اُن باتوں کے جو اپنے ربّ عزّوجل سے روایت کیا کرتے تھے سنا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا، آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں ۔ پھر ان کو کھول کر بیان کیا ہے اس لئے جو شخص نیکی کرنے پر آمادہ ہوا مگر اس کو نہ کیا تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس پوری نیکی لکھے گا۔ اگر اُس نے اُس کا ارادہ کیا اور اس کو کیا بھی تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس دس نیکیاں لکھے گا بلکہ سات سو گنا تک بلکہ ان سے بھی بڑھ کر کئی گنا تک اور جس نے بدی کا ارادہ کیا مگر اُسے کیا نہیں تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس پوری نیکی لکھے گا اور اگر وہ اس پر آمادہ ہوا اور اُس کو کر لیا تو اللہ اُس کے لئے ایک ہی بدی لکھے گا۔
(تشریح)