بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
اسحاق (بن منصور) نے مجھ سے بیان کیا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیاکہ میں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے سنا وہ کہتے تھے۔ میں سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو نہ منتر پڑھواتے ہیں اور نہ بُرا شگون لیتے ہیں اور اپنے ربّ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر مُقَدَّمی نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن علی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم سے سنا، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدیؓ) سے، حضرت سہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص میرے لیے اِن (دو) کا ضامن ہوتا ہے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے ۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں
علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ ایک سے زائد آدمیوں نے ہم سے بیان کیا۔ ان میں سے مغیرہ اور ایک فلاں شخص اور ایک تیسرا شخص بھی ہے۔انہوں نے شعبی سے، شعبی نے ورّاد سے جو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے منشی تھے روایت کی کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہؓ کو لکھا مجھے ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ورّاد کہتے تھے: تو حضرت مغیرہؓ نے انکو لکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ نماز سے فارغ ہونے پر یہ کہا کرتے تھے: اللہ کے سواکوئی معبود نہیں وہ واحد ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کی تمام تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر بات پر بڑا ہی قادر ہے۔ کہتے تھے (اور یہ بھی لکھا) کہ آپؐ بے فائدہ باتوں اور بہت سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے اور بخل و حرص اور ماؤں کی نافرمانی کرنے اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے اور (اسی سند سے) ہشیم سے مروی ہے کہ ہمیں عبدالملک بن عمیر نے بتایا۔ انہوں نے کہا۔میں نے ورا دسے سنا وہ یہی حدیث حضرت مغیرہؓ سے۔ حضرت مغیرہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان سے عزت کے ساتھ پیش آئے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے حضرت ابوشریح خزاعیؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اچھی طرح سمجھ کر یاد رکھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمارہے تھے مہمان نوازی تین دن تک ہے یعنی جو مہمان نوازی کا دستور ہے۔ پوچھا گیا: مہمان نوازی کا کیا دستور ہے؟ فرمایا: ایک دن اور رات۔ آپؐ نے فرمایا: اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو چاہیے کہ وہ مہمان سے عزت سے پیش آئے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔
ابراہیم بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید (بن عبداللہ) سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، محمد نے عیسی بن طلحہ بن عبید اللہ تیمی سے، عیسیٰ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: بندہ کوئی بات منہ سے نکالتا ہے اس کو اچھی طرح سوچتا سمجھتا نہیں اس کی وجہ سے آگ میں پھسل کر اتنی دو رچلا جاتا ہے جتنا مشرق (اور مغرب)کے درمیان فاصلہ ہے۔
عبداللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابونضر سے سنا کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی جو دینار کے بیٹے ہیں، نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بندہ کبھی رضاء الٰہی کی بات منہ سے نکالتا ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا تو اللہ اس کے ذریعہ سے کئی درجہ اس کو بلند کردیتا ہے اور بندہ کبھی اللہ کی ناراضگی کی بات منہ سے نکال بیٹھتا ہے ۔اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کے ذریعہ سے جہنم میں جاگرتا ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری) سےروایت کی۔ انہوں نے کہا خبیب بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا۔ خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سات آدمی ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں رکھے گا۔ ایک وہ شخص جس نے اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ربعی سے، ربعی نے حضرت حذیفہ(بن یمانؓ)سے، حضرت حذیفہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے جو پہلے لوگ تھے ان میں ایک شخص تھا جو اپنے عمل کو بُرا سمجھا کرتا تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا۔ جب میں مرجاؤں تو مجھے لے کر کسی آندھی کے دن سمندر میں بکھیر دینا۔ اُنہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ نے اس کو اکٹھا کیا اور پوچھا: جو کام تم نے کیا اس پر تمہیں کس نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: صرف تیرے ڈر نے ہی مجھے اس پر آمادہ کیا۔ تو اللہ نے اس پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر کیا۔
6481: موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔( اُنہوں نے کہا) میں نے اپنے باپ سے سنا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے عقبہ بن عبدالغافر سے، عقبہ نے حضرت ابو سعید (سعد بن مالک) خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو اُن لوگوں میں تھا جو پہلے گزر چکے یا (فرمایا )جو تم سے پہلے تھے ۔ اللہ نے اس کو مال و اولاد دی تھی ۔ فرمایا جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارا کیسا باپ تھا وہ بولے بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا: اس نے تو اللہ کے پاس کوئی نیکی کا ذخیرہ نہیں چھوڑا۔ قتادہ نے لَمْ يَبْتَئِرْ کی تفسیر یوں کی کہ جمع نہیں رکھا اور اگر وہ اللہ کے سامنے پہنچا تو وہ اس کو سزا دے گا اس لئے دیکھو جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا ڈالنا۔ جب میں جل کر کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیسنا۔ راوی نے فَاسْحَقُونِيکہا یا فَاسْهَكُونِي کہا۔ پھر جب تیز آندھی ہو تو مجھے اس میں بکھیر دینا۔اس پر اس نے قسم دے کر ان سے پختہ عہدوپیمان لئے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ نے فرمایا: ہو جا تو کیا دیکھا کہ وہ شخص کھڑا ہے ۔ پھر فرمایا: اے میرے بندے جو تم نے کیا، اس پر تمہیں کس نے آمادہ کیا ۔ اس نے کہا: تیرے خوف نے یا (کہا) تیرے خوف کی گھبراہٹ نے۔ پھر اللہ نے اس کے گناہوں کی یوں تلافی کی کہ اس پر رحم کیا۔ (معتمر کے باپ سلیمان نے کہا)میں نے ابوعثمان سے یہ حدیث بیان کی تو اُنہوں نے کہا۔ میں نے بھی سلمان سے سنا مگر انہوں نے اتنا زائد بیان کیا کہ پھر مجھے سمندر میں بکھیر دینا یا کچھ ایسا ہی بتایا۔ اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ میں نےحضرت ابوسعیدؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے تھے۔
(تشریح)