بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ بُرا کام کرنے کا ارادہ کرے تو جب تک وہ اسے کرتا نہیں تو اس کے ذمہ وہ گناہ نہ لکھو۔ اگر وہ کرے تو پھر اس کو اُتنا ہی لکھو اور اگر میری خاطر اس نے اس کو چھوڑ دیا تو پھر اس کے لئے نیکی لکھو اور اگر وہ نیکی کرنے کا ارادہ کرے اوراس کو نہ کرے تو تم اس کے لئے نیکی لکھو اور اگر اس کو کرے تو پھر اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپؐ نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے: میرے بندوں میں سے آج صبح کوئی تو میرا کافر ہے اور کوئی مجھ پر ایمان لانے والا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھ سے ملنے کی چاہت رکھتا ہے تو میں بھی اس کے ملنے کی چاہت کرتا ہوں اور جب میرے ملنے کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس کے ملنے کو ناپسند کرتا ہوں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ فرماتا ہے: میں ویسا ہی ہوں جیسا کہ میرا بندہ میرے متعلق خیال کرتا ہے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے معاویہ بن ابی مزرد سے، معاویہ نے سعید بن یسار سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ جب اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ رحم نے کہا: یہ اُس کا کھڑا ہونا ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ لے رہا ہے۔ تو اللہ نے فرمایا: کیا تم خوش نہیں ہوتے کہ میں اس کے ساتھ اپنا پیوند جوڑوں جو تجھ سے جوڑے اور اس سے قطع تعلق کروں جو تجھ سے قطع کرے؟ رحم نے کہا: ضرور خوش ہوں گا اے میرے ربّ۔ اللہ نے فرمایا: پھر تیرے لئے یہ وعدہ ہوچکا۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ نے یہ آیت پڑھی: کیا یہ امر قریب نہیں کہ اگر تم پیٹھ پھیر لو تو زمین میں فساد کرنے کا موجب ہو جاؤ اور رشتوں کو کاٹ دو۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے،ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، کہا کہ جب وہ مر جائے تو اس کو جلا دینا اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی سمندر میں اڑا کر بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم اگر اللہ نے اس پر قابو پا لیا تو وہ ضرور اس کو ایسی سزا دے گا کہ تمام جہانوں میں کسی کو بھی ایسی سزا نہیں دے گا۔ چنانچہ اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے جو ذرات اس میں تھے ان کو اکٹھا کیا اور خشکی کو حکم دیا تو اس نے بھی جو ذرات اس میں تھے ان کو اکٹھا کیا۔ پھر اللہ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر سے اور تو خوب جانتا ہے۔ اللہ نے پردہ پوشی فرما کر اس سے درگزر کردیا۔
احمد بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن عاصم نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے سنا۔ (عبدالرحمٰن نے) کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ (حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: ایک بندے نے گناہ کیا اور کبھی (حضرت ابوہریرہؓ نے) یوں کہا: أَذْنَبَ ذَنْبًا۔ تو وہ شخص کہنے لگا: اے ربّ میں نے گناہ کیا ہے۔ اور کبھی (حضرت ابوہریرہؓ نے بجائے أَذْنَبْتُ کے) أَصَبْتُ کہا۔ اس لئے پردہ پوشی فرما کر درگزر فرما۔ اس کے ربّ نے کہا: کیا میرے بندے کو علم ہوچکا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا۔پھر ایک اور گناہ کیا یا (حضرت ابوہریرہؓ نے بجائے أَصَابَ ذَنْبًا کے) أَذْنَبَ ذَنْبًا (کہا) تو کہنے لگا: اے میرے ربّ! میں نے ایک اور گناہ کیا ہے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر فرما۔ تو پروردگار نے پھر فرمایا: کیا میرے بندے کو علم ہوچکا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا۔ پھر ایک اور گناہ کیا۔ کبھی (حضرت ابوہریرہؓ نے یوں) کہا: أَصَابَ ذَنْبًا بجائے أَذْنَبَ ذَنْبًا۔ کہنے لگا: اے میرے ربّ! میں نے ایک اور گناہ کیا یا (کہا:) أَذْنَبْتُ (بجائے أَصَبْتُ کے) میری پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما۔ تو پرودگار نے فرمایا: کیامیرے بندے کو علم ہوچکا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو تین بار معاف کردیا اب جو چاہے کرے۔
عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے اپنے باپ سے سنا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے عقبہ بن عبدالغافر سے، عقبہ نے حضرت ابوسعیدؓ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو ان لوگوں میں سے تھا جو پہلے گزر چکے یا (فرمایا:) جو تم سے پہلے تھے۔ آپؐ نے ایک جملہ بولا جس کے یہ معنی تھے کہ اللہ نے اس کو مال اور اولاد دی تھی جب وفات کا وقت آن پہنچا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا:میں تمہارا کیسا باپ تھا؟ انہوں نے کہا: بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی آگے نہیں بھیجی ہے اور اگر اللہ نے اس پر قابو پایا تو اس کو سزا دے گا اس لئے دیکھو جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دو یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہوجاؤں تو مجھے پیس ڈالنا یا (راوی نے) کہا: فَاسْحَكُونِي بجائے فَاسْحَقُونِي کے ۔ جس دن زور کی آندھی ہو تو اس آندھی میں تم میری راکھ اڑا دینا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ کی قسم اس نے اس بات پر اُن سے پختہ عہد لئے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آندھی کے دن اس کی راکھ اڑا دی۔ تو اللہ عز وجل نے فرمایا: ہوجا۔ پھر کیا تھا کہ وہی شخص کھڑا تھا۔ اللہ نے پوچھا: اے میرے بندے! یہ جو تم نے کیا ہے اس کے کرنے پر تمہیں کس نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے یا (کہا:) گھبراہٹ نے جو تیرے ڈر سے تھی۔ (راوی نے) کہا: اس پر جلد ہی اللہ نے اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کی تلافی کی اور دوسری بار (راوی نے) کہا: اس بات کے سوا اور کسی بات نے بھی اس کے گناہوں کی تلافی نہ کی۔ (سلیمان نے کہا:) میں نے ابوعثمان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ سلمان سے سنا مگر انہوں نے اس میں اتنا بڑھایا: سمندر میں میری راکھ اڑا دینا یا کچھ ایسا ہی انہوں نے بیان کیا۔ موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لَمْ يَبْتَئِرْ کہا (یعنی اس نے آگے نہیں بھیجا) اور خلیفہ نے مجھ سے کہا: معتمر نے ہم سے بیان کیا اور کہا: لَمْ يَبْتَئِزْ۔ قتادہ نے اس کے یہ معنی کئے کہ ذخیرہ نہیں کیا۔
(تشریح)یوسف بن راشد نے ہم سے بیان کیا کہ احمد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ ابوبکر بن عیاش نے ہم سے بیان کیا۔ ابوبکر نے حمید سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔اُنہوں نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: جب قیامت ہوگی میری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! جنت میں ان لوگوں کو بھی داخل کرجن کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو اور وہ داخل ہوں گے۔ پھر کہوں گا: جنت میں ان لوگوں کو بھی داخل کر جن کے دل میں کم سے کم بھی ایمان ہو۔ حضرت انسؓ نے کہا: مجھے یہ بات ایسی یاد ہے گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ معبد بن ہلال عنزی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم اہل بصرہ میں سے کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور حضرت انس بن مالکؓ کے پاس گئے۔ ہم اپنے ساتھ ثابت بُنانی کو بھی ان کے پاس لے گئے تا کہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث ان سے پوچھ لیں۔ ہم نے کیا دیکھا کہ وہ اپنے محل میں ہیں۔ اتفاق سے ہم ان کے پاس ایسے وقت میں پہنچے کہ وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے اجازت مانگی۔ انہوں نے اجازت دی اور وہ اس وقت اپنے بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا: شفاعت کی حدیث سے پہلے اور کسی بات کے متعلق ان سے نہ پوچھیو تو ثابت نے کہا: ابوحمزہؓ! یہ آپؓ کے بھائی ہیں جو اہل بصرہ میں سے ہیں۔ آپؓ کے پاس آئے ہیں کہ آپؓ سے شفاعت کی حدیث کے متعلق پوچھیں تو انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا: جس دن قیامت ہو گی لوگ بیقراری سے آپس میں ایک دوسرے سے لپٹیں گے۔ حضرت آدمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اپنے ربّ کے حضور ہمارے لئے سفارش کریں تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت ابراہیمؑ کو ملو وہ رحمٰن کے دوست ہیں تو وہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے ۔ وہ کہیں گے میں اس کا اہل نہیں تم حضرت موسیٰؑ کو جا ملو کیونکہ وہ اللہ کے کلیم ہیں۔ یہ سن کر وہ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت عیسیٰؑ کو جا ملو کیونکہ وہ اللہ کی روح اور کلمہ ہیں۔ تو وہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ البتہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملو اور وہ میرے پاس آئیں گے۔ میں کہوں گا: میں اس کا اہل ہوں اور میں اپنے ربّ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور وہ مجھے ایسی تعریفیں الہام کرے گا کہ جس سے میں اس کی حمد کروں گا جو ابھی میرے ذہن میں نہیں آئیں غرض میں ان تعریفوں سے اس کی تعریف کروں گا اور اس کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا اور مجھے کہا جاوے گا: محمد! اپنا سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائیں گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت کو بچا نا، میری اُمت کو بچانا۔ اس پر مجھے کہا جائے گا: جاؤ اور جن کے دل میں جَو برابر بھی ایمان ہو ان کو اس آگ سے نکال دو۔ میں چلا جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا۔ پھر میں واپس لوٹوں گا اور انہی تعریفوں سے اس کی تعریف کروں گااور پھر اس کے حضور گر پڑوں گا۔ مجھے کہا جائے گا: محمد! اپنا سراُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت کو بچانا۔ اس پر کہا جائے گا: جاؤ اور جن کے دل میں ذرہ بھر یا رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو ان کو وہاں سے نکال دو۔ میں چلا جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھرواپس لوٹوں گا اور انہی تعریفوں سے اس کی تعریف کروں گا۔ اس کے بعد اس کے حضور سجدہ میں گر وں گا تو کہا جاوے گا: محمد! اپنا سراُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت پر رحم کر، میری امت پر رحم کر۔ تو فرمائے گا: جاؤ اور جن کے دل میں رائی کے دانہ کے وزن سے بھی کم، اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو اس کو بھی آگ سے نکال لو۔ میں چلا جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ جب ہم حضرت انسؓ کے پاس سے نکلے میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا: اچھا ہو اگر ہم حسن (بصری) کے پاس سے بھی ہوتے جائیں اور وہ اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں چھپے ہوئے تھے اور ہم ان سے وہ بات بیان کریں جو حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انکو السلام علیکم کہا۔ انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی۔ ہم نے ان سے کہا: ابو سعید! ہم آپ کے بھائی حضرت انس بن مالکؓ کے ہاں سے آپ کے پاس آئے ہیں۔ شفاعت سے متعلق جو بات انہوں نے ہم سے بیان کی ہے ویسے ہمارے خیال میں بھی کبھی نہ آئی تھی تو حسن نے کہا: بھلا بیان تو کرو۔ ہم نے ان سے وہ حدیث بیان کی۔ جب اس آخری مقام پر ختم ہوئی تو حسن نے کہا: بیان کرو۔ ہم نے کہا: حضرت انسؓ نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں بتایا۔ تو حسن نے کہا: بیس برس ہوئے حضرت انسؓ نے مجھ سے بھی بیان کیا تھا جب ان کے تمام ہوش و حواس ٹھکانے پر تھے۔ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ بھول گئے یا انہوں نے ناپسند کیا کہ تم بھروسہ کر بیٹھو گے۔ ہم نے کہا: ابوسعید! ہمیں بتائیں، تو ہنس پڑے اور کہنے لگے: انسان جلد باز ہی بنایا گیا ہے۔ میں نے یہ ذکر محض اس لئے کیا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ تمہیں بتاؤں۔ حضرت انسؓ نے مجھ سے بھی ویسے ہی بیان کیا جیسے تم سے بیان کیا، کہا: (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر میں چوتھی بار واپس لوٹوں گا اور انہی تعریفوں سے اس کی تعریف کروں گا۔ پھر اس کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا۔ تو کہا جائے گا: محمد! اپنا سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں کہوں گا: اے میرے ربّ! مجھے اس کے متعلق بھی اجازت دے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا تو وہ کہے گا: میری عزت اور میرے جلال اور میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم ہے کہ میں آگ سے ضرور ان کو نکال لوں گا کہ جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا۔